20260224_012852 125

 خونى چاند گرہن 2026

تحریر شئیر کریں
20260224_012852
20260224_012852

مارچ 2026 کا مہینہ شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا اور گوگل پر ایک ٹرم “blood moon” تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ blood moon کیا ہے، یہ کیسے بنتا ہے، اور کیا یہ واقعی کوئی برے شگون کی علامت ہے؟ اگر آپ بھی انہی سوالوں کا جواب تلاش کر رہے ہیں، تو آپ صحیح جگہ پر ہیں۔

 blood moon کیا ہے؟ (سائنسی نقطہ نظر)

سب سے پہلے ہم خرافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے سائنس کی بات کرتے ہیں۔ blood moon دراصل ایک مکمل چاند گرہن (Total Lunar Eclipse) ہوتا ہے۔ 3 مارچ 2026 کو پیش آنے والا یہ واقعہ اس وقت ہوگا جب زمین، سورج اور چاند کے بالکل درمیان میں آجائے گی۔

یہ منظر کچھ یوں بنتا ہے:

زمین سورج کی روشنی کو چاند تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔

تاہم، سورج کی کچھ روشنی زمین کے گرد موجود فضا (Atmosphere) سے گزرتی ہے۔

اس گزرنے کے دوران نیلی روشنی بکھر جاتی ہے، اور صرف سرخ اور نارنجی رنگ کی روشنی چاند تک پہنچتی ہے۔

یہی سرخ روشنی چاند پر پڑتی ہے، جس کی وجہ سے وہ گہرا سرخ یا تانبے جیسا دکھائی دیتا ہے۔

یہ وہی اثر ہے جو سورج غروب ہوتے وقت آسمان پر سرخ رنگ دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق اس بار یہ منظر خاصا خوبصورت ہوگا اور لاکھوں لوگ اسے دیکھ سکیں گے۔

 یہ گوگل ٹرینڈنگ پر کیوں ہے؟

مارچ 2026 میں “blood moon” کے ٹرینڈ کرنے کی سب سے بڑی وجہ اس کا وقت اور نمایاں ہونا ہے۔

تاریخ: 3 مارچ 2026 بروز منگل کو یہ گرہن لگے گا۔

مدت: گرہن کی مکمل کیفیت (Totality) تقریباً 58 منٹ تک رہے گی۔

وسیع پیمانہ: یہ گرہن مشرقی ایشیا، آسٹریلیا، امریکہ اور بحرالکاہل کے ممالک میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔

سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے سے عوام میں تجسس بڑھ گیا ہے۔ لوگ اسے محض ایک فلکیاتی واقعہ نہیں بلکہ ایک “شو” کے طور پر دیکھ رہے ہیں جسے آنکھوں سے دیکھنے کے لیے کسی خاص کیمرے یا آلے کی ضرورت نہیں۔

ہمارے معاشرے میں “چاند گرہن” کی روایات اور توہمات

پاکستان اور برصغیر میں چاند یا سورج گرہن کو صرف سائنس کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ یہ ہمارے کلچر اور مذہب سے بھی جڑا ہوا ہے۔

 پرانی سوچ اور احتیاطیں

آج بھی بہت سے بڑے بوڑھے گرہن کے وقت گھر سے نکلنے سے منع کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ:

حاملہ عورتیں اس وقت دھار دار چیز استعمال نہ کریں۔”

“بچوں کو اس وقت سونے سے روکا جائے۔”

“کھانے پینے کی چیزوں پر کپڑا ڈھانپ دیا جائے۔”

ایک زمانے میں لوگ اسے نحوست اور برے شگون کی علامت سمجھتے تھے۔

 اسلامی نقطہ نظر

اسلام نے ان توہمات کی کوئی حقیقت قرار نہیں دی۔ چاند یا سورج گرہن اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ میں ہے کہ ایسے موقعوں پر گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ نماز (صلاۃ الکسوف) پڑھنی چاہیے، اللہ سے دعا مانگنی چاہیے اور استغفار کرنا چاہیے۔

اس حوالے سے احادیث مبارکہ میں آتا ہے:

“بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کے مرنے یا جینے سے گرہن نہیں لگتا۔ لہٰذا جب تم انہیں دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو اور دعا مانگو۔” (صحیح بخاری)

 جدید دور میں تبدیلی

اب صورتحال بدل رہی ہے۔ آج کا نوجوان اور شہری طبقہ “blood moon” کو دیکھنے کے لیے چھتوں پر جمع ہوتا ہے، تصویریں کھینچتا ہے اور اسے ایک خوبصورت قدرتی منظر کے طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے۔ پاکستان اسپیس اینڈ اپلائیڈ ریسرچ سنٹر (SUPARCO) جیسے ادارے بھی اس حوالے سے آگاہی فراہم کرتے ہیں، جس سے لوگوں میں سائنسی شعور بڑھ رہا ہے۔

 اردو ادب اور شاعری میں چاند کی اہمیت

چاند ہمارے جذبات اور ادب سے اس طرح جڑا ہے کہ اسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اردو شاعری میں چاند محبوب کے حسن کی علامت ہے۔ جب یہی چاند “blood moon” بن جائے تو یہ ایک نیا اور نایاب استعارہ بن سکتا ہے۔

مرزا غالب
“ہے کچھ ایسی ہی بات کہ اک ماہ کامل
ہووے ہے خون سیاہی میں اس کی تمثال”
علامہ اقبال
“چاند تاروں کا یہ عالم ہے فروزاں ورنہ
ہم نے تو اپنی نگاہوں کا دیا جلایا ہے”
فیض احمد فیض
“چاند نے آج پھر روشنی کا جام اٹھایا ہے
کون جانتا تھا کہ اتنا حسین منظر ہوگا”
شکیب جلالی
“خونی چاند کی رات میں ڈوبی ہے فضا
دیکھتے ہیں کہ اب کیا ہی نئے رنگ ہوں گے”
احمد فراز
“چاند تیرے حسن کی تنہائی کا گواہ ہے
خوبصورت ہے مگر اس میں بھی کچھ نہیں ہے”

 blood moon سے متعلق دنیا بھر کے عقائد

دنیا کے مختلف معاشروں میں “blood moon” کو مختلف طریقوں سے دیکھا جاتا ہے:

انکا تہذیب: قدیم انکا قوم کا خیال تھا کہ blood moon اس وقت بنتا ہے جب کوئی چیتا چاند پر حملہ کرتا ہے۔

بین النہرین: قدیم میسوپوٹیمیا میں اسے بادشاہ کے لیے خطرہ سمجھا جاتا تھا۔

جدید دور: آج کل مغربی ممالک میں اسے ایک خوبصورت قدرتی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔


  نتیجہ

مارچ 2026 کا blood moon دراصل قدرت کا ایک حسین تماشا ہے۔ اسے نہ تو ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے نحوست کا سبب سمجھنے کی۔

یہ سائنس ہے: زمین کے سائے اور روشنی کے کھیل کا نتیجہ۔

یہ قدرت کی نشانی ہے: جو ہمیں اللہ کی عظمت دکھاتی ہے۔

یہ خوبصورتی ہے: جسے آنکھوں سے دیکھ کر لطف اٹھانا چاہیے۔

تو اس مرتبہ 3 مارچ کی رات کو اگر آسمان صاف ہو تو اپنے پیاروں کے ساتھ چھت پر جائیں، اس حسین منظر کو دیکھیں اور قدرت کے اس شاہکار سے لطف اندوز ہوں۔

💬 کیا آپ نے کبھی blood moon دیکھا ہے؟ اپنے تجربات اور خیالات ہمیں نیچے کمنٹس میں ضرور بتائیں!
🩵 تحریر: ماہر فلکیات و اردو ادب | 2026

“`

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں