
پاکستان کے معروف کالم نگار اور دانشور اوریا مقبول جان ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو عبادت کی اصل روح کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ بیرونِ ملک تھے۔ ان کے ساتھ ایک دوست بھی تھے جنہوں نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔ نماز کا وقت ہوا تو دونوں مسجد چلے گئے۔ نماز ادا کرنے کے بعد اوریا مقبول جان صاحب باہر آ گئے، لیکن ان کے نومسلم دوست ابھی تک مسجد کے اندر تھے۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئے تو اوریا مقبول جان صاحب نے مسکرا کر کہا:
> “میں آپ کا انتظار کر رہا تھا۔”
>
نومسلم دوست نے جواب دیا:
> “معاف کیجیے، مجھے تھوڑا وقت لگ گیا۔ میں نماز میں یکسوئی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں ابھی نیا مسلمان ہوں نا۔”
>
یہ جملہ سن کر اوریا مقبول جان صاحب کے دل میں ایک عجیب خیال آیا۔ وہ سوچنے لگے کہ یہ شخص جو ابھی اسلام میں داخل ہوا ہے، وہ نماز میں یکسوئی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ہم جو پیدائشی مسلمان ہیں اکثر نماز محض عادت کے طور پر ادا کر لیتے ہیں۔
یکسوئی کیا ہے؟
یکسوئی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل، ذہن اور نیت ایک ہی لمحے میں جمع ہو جائیں۔ وہ یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> “بے شک مومن کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔” (سورۃ المؤمنون)
>
نبی کریم ﷺ نے عبادت کے اعلیٰ درجے (احسان) کو یوں بیان فرمایا:
> “تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔” (صحیح بخاری)
عبادت میں یکسوئی ختم ہونے کی وجوہات
آج کے دور میں انسانی ذہن مسلسل بکھرا ہوا رہتا ہے۔ روزگار کی فکر، گھریلو مسائل، موبائل کا بے جا استعمال اور مستقبل کے خدشات ہمیں نماز میں بھی بے چین رکھتے ہیں۔ یہاں جدید نفسیات اور Neuro-Linguistic Programming (NLP) کے کچھ اصول ہمیں اپنی توجہ کو دوبارہ مرکوز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔یکسوئی پیدا کرنے کے عملی طریقے اور NLP تکنیکیں
1۔ اینکرنگ (Anchoring): عبادت کا مخصوص احساس
NLP میں ‘اینکرنگ’ کا مطلب ہے کسی خاص جسمانی عمل کو ایک خاص ذہنی کیفیت کے ساتھ جوڑ دینا۔
* طریقہ: جب آپ وضو کر رہے ہوں یا جائے نماز پر کھڑے ہوں، تو ایک خاص طریقہ اپنائیں (مثلاً گہری سانس لے کر دل پر ہاتھ رکھنا)۔
* فائدہ: جب آپ روزانہ ایک ہی کیفیت (سکون) میں یہ عمل کریں گے، تو آپ کا لاشعور اسے “نماز کا سگنل” سمجھ لے گا اور بکھرے خیالات خود بخود تھم جائیں گے۔
2۔ ویژولائزیشن (Visualization): رب کے حضور حاضری کا تصور
ہمارا دماغ تصویروں میں سوچتا ہے۔ اگر ہم اسے صحیح تصویر نہیں دیں گے تو وہ دنیا کی تصویریں دکھائے گا۔
* طریقہ: نماز شروع کرنے سے پہلے چند لمحے رک کر آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ آپ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہیں۔
* فائدہ: یہ سادہ سا عمل آپ کے ذہن کو “بڑی تصویر” (رب کی عظمت) پر فوکس کر دیتا ہے، جس سے دنیاوی مسائل پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔
3۔ پیٹرن انٹرپٹ (Pattern Interrupt): خیالات کا تسلسل توڑنا
نماز میں اکثر خیالات کا ایک طویل سلسلہ (Loop) شروع ہو جاتا ہے۔ NLP اسے توڑنے کا مشورہ دیتی ہے۔
* طریقہ: جیسے ہی آپ کو احساس ہو کہ ذہن کہیں اور نکل گیا ہے، فوراً اپنی توجہ اپنی سانس کی آمد و رفت یا اس لفظ کے معنی پر لے آئیں جو آپ ادا کر رہے ہیں۔
* فائدہ: یہ شعوری جھٹکا خیالات کے تسلسل کو توڑ کر آپ کو دوبارہ “حال” (Present Moment) میں لے آتا ہے۔
4۔ ری فریمنگ (Reframing): عبادت کا نیا زاویہ
اگر ہم نماز کو صرف ایک “فرض بوجھ” سمجھیں گے تو ذہن اس سے بھاگے گا۔
* طریقہ: اپنے ذہن میں نماز کی تعریف بدل دیں۔ اسے “ڈیوٹی” کے بجائے “اپنے رب سے ملاقات” یا “ذہنی و روحانی سکون کا سیشن” کا نام دیں۔
* فائدہ: جب ذہن اسے اپنے فائدے کی چیز سمجھے گا، تو وہ خود بخود اس میں زیادہ دلچسپی اور یکسوئی لے گا۔
5۔ عبادت میں ٹھہراؤ اور الفاظ پر غور
جلدی میں پڑھی گئی نماز روح کو سکون نہیں دیتی۔ نماز میں پڑھی جانے والی آیات کے معنی پر غور کرنا عبادت کو زندہ بنا دیتا ہے۔ مثلاً جب آپ “الحمد للہ رب العالمین” کہیں تو دل میں شکر گزاری کا احساس پیدا کریں۔
نتیجہ
اوریا مقبول جان کے بیان کردہ واقعے میں ہمارے لیے ایک خاموش پیغام ہے۔ وہ نومسلم دوست نماز میں یکسوئی کی “کوشش” کر رہا تھا، جبکہ ہم اکثر اسے محض ایک عادت کے طور پر نبھاتے ہیں۔
اگر ہم شعوری طور پر اپنی نمازوں میں ٹھہراؤ لائیں، الفاظ کے معانی پر غور کریں اور NLP کی ان سادہ تکنیکوں کو اپنائیں، تو نماز ایک معمول سے بڑھ کر حقیقی روحانی سکون اور کامیابی کا ذریعہ بن جائے گی۔انشاء اللہ