تحریر : لبنٰی جمشید
صدی سو سالہ چکر کا نام ہے جس کے نتیجے میں ایک پوری نسل تبدیلی کا شکار ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں جہاں بہت سے خوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں وہیں گزرتا وقت اپنے ساتھ مسائل کا ایک انبار بھی اکٹھا کر کے اگلی نسل کے لیے چیلینجز ثابت ہوتا ہے۔ ان مسائل سے نبٹنے کو موثر حکمت عملی کا نام دیا جاتا ہے۔
اکیسویں صدی اور سہولیات
ہماری موجودہ نسل اکیسویں صدی کے بیس سال پورے کرنے کے نزدیک ہے ۔۔ ان گزرے سالوں نے انسان اور معاشرے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔۔ اگر ہم بیس تیس برس قبل کے انسان کی معاشرتی اور ذاتی زندگی کا جائزہ لیں تو یہ موجودہ دور کے انسان کی زندگی سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ سہولیات ہیں جو اس زمانے میں ایک خواب لگتی تھیں مگر آج کے دور کے انسان کی پہنچ میں ہیں۔۔
چند سال قبل سبزیاں کاٹنا سل بٹے پر مصالحے پیسنا انتہائی مشقت طلب کام تھا مگر اب مشین کے ایک بٹن دبانے سے منٹوں میں ہر کام ہو جاتا تھا۔۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب گرمیوں میں کریلے یا بھنڈیاں بنانا۔ہوتی تھیں تو امی کا آدھا دن ان سبزیوں کے ناز نخرے اٹھاتے اورباریک پیاز کاٹنے میں گزر جایاکرتا تھا۔ لیکن اب چوپر کے زریعے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں باریک سے باریک پیاز کٹ کر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ یہ تو صرف ایک خاتون خانہ کی سہولت کی بات ہے لیکن زندگی کے ہر شعبے میں مشینوں نے انسان کو آذادی دے دی ہے کہ وہ بٹن دبا کر جب اور جتنا چاہے فائدہ اٹھا لے۔ cnc مشینری نے فیکٹریوں کے دنوں کا کام گھنٹوں کی سوئیوں کے تابع کر دیاہے۔ دنوں کے سفر گھنٹوں اور منٹوں پر محیط ہو گے ہیں۔ جہاں ان سہولیات اور نئی ایجادات نے بہت سی آسانیاں پیداکی ہیں وہیں ان کی وجہ سے مسائل میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔
مسائل کی دو اقسام
اکیسویں صدی کے چیلنجز کے نتیجے میں بنیادی طور دو طرح کے مسائل نے جنم لیا ہے ۔ افرادی مسائل اور معاشرتی مسائل۔۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو معاشرتی مسائل کا نام دیا گیا ہے جو اجتماعی طور پر ایک گروہ , ملک یا براعظم کے لوگوں کو فیس کرنا پڑتے ہیں ان میں سے اکسویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ جنگ کا خوف ہے۔
خانہ جنگی
اکسیویں صدی کے آغاز میں ستمبر2001 ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد سے دنیا میں ایک عجیب خوف ور خانہ جنگی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ اسی جرم کی پاداش میں افغانستان کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ عراق , شام , لیبیا , ویت نام تھائی لینڈ کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کو اس کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑا پھر اسامہ بن لادن کے بدلے کے بعد وائٹ ہاؤس کے مکینوں نے دنیا سے بدلہ لینے کی روایت بدلی لیکن تب تک باقی ممالک معاشی اور معاشرتی طور پر اس قدر ڈاؤن ٹو بیک آ چکے تھے کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کو سہارنے کے لیے مضبوط اور مستحکم حکمت عملی درکار تھی۔ اس سے قبل کہ سنبھلا جاتا مکوں کی اندرون خانہ جنگیاں اور ہمسایوں کے آپسی تعلقات میں دڑاڑ نے ثابت کر دیا کہ عالمی جنگ کا طبل اس صدی کے آغاز میں ہی بجایا جا چکا ہے۔ انڈیا ایک طرف چائینا سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی کوششوں کے باوجود بھی کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور پھر ان حالاتمیں کرونا وبا نے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی۔ یہ شاید قدرت کی جانب سے ایک اشارہ ہے کہ سنبھل جاؤ ۔آپسی اتحاد قائم کرلو۔۔
ہمہ وقت سکرین کا استعمال
یہ مسئلہ فرد واحد سے شروع ہو کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ یہ اکیسویں صدی کا وہ واحد مسئلہ ہے جس سے سینکڑوں اور مسائل نے جنم لیا ہے۔ یہ مسئلہ دن بدن گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اگر ہم آج سے بیس سال قبل کی دنیا کو دیکھیں تو موبائل فون شاید ہی شازونادر کسی کے ہاتھ میں دیکھا گیا ہو۔ مجھے یادہے یہ 1998 کی بات ہے جب میں نے پہلی بار راولپنڈی سے آۓ ایک انکل کا سیل فون ہاتھ سے چھو کر دیکھا تھا اور کتنے ہی دن اس موبائل کے خیالوں میں گم رہی تھی۔ پھر وقت نے ایک دم پلٹا کھایا اور ہمیں اکیسویں صدی میں لا پٹخا ۔ یہاں آمد کے ساتھ ہی پہلا تحفہ نوکیا 3310 کی صورت میں ملا جو گذشتہ بیس سالوں میں اپنی مختلف شکلیں بدلتا ہوا ایک سمارٹ فون کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ یہ اتنا سمارٹ ہے کہ اس نے اپنےاندر ہماری پوری زندگی سمو لی ہے۔اور اس زندگی کو سوشل میڈیاکا نام دے دیا گیا ہے۔ جہاں رابطے اور فاصلے سمٹ گے ہیں وہیں آپس کے تعلقات میں دوریوں کی ایسی خلیج قائم ہو چکی ہے کہ جسے پاٹنا بہت مشکل ہے۔ چوپال بیٹھک , فیملی گیدرنگ ہر چیز سمٹ کر صرف ایک واٹس ایپ گروتپ تک محدودہو گئی ہے۔ کتابوں کی سوندھی مہک کو ہم بھول کر پی ڈی ایف میں پناہ گزیں ہو گے ہیں۔ والدین اور بہن بھایوں کاوقت سوشل میڈیافرینڈز نے لے لیا ہےیعنی کہ اس سمارٹ فون نے ہمیں ایک سوشل اینمل بنا دیا ہے کہ بس سکرین کے اندر کی جادوئی دنیا سے باہر نہ نکل پاؤ۔
اس مسئلے کا سب سے آسان حل سیلف کنٹرول اور اپنے دن کے اوقات کا مناسب اور جامع ٹائم ٹیبل سیٹ کر کے اس پر سختی سے عملدرآمد ہے۔اس کا شیڈول ایسابنایاجاۓ کہ سوشل میڈیا کا وقت کم سے کم کر کے صرف تین گھنٹے تک محدود ہو جاۓ۔ جسمانی ایکٹیویٹیڑ کو خاص ترجیح دی جانی چاہیے۔اور بزلگوں بالخصوص والدین کے لیے مکمل ایک گھنٹہ نکالا جاۓ ۔ کوشش یہی کی جاۓ کہ کام کے علاوہ سکرین کا استعمال کم سے کم ہو۔
غربت و بے روزگاری
اکسویں صدی کا ایک اور بڑامسئلہ غربت اور بے روزگاری ہے اور واحد وجہ آرام طلبی ہے ۔ جہاں نئے نئے مواقع میسر ہیں وہیں انسان کی ترجیحات کا دائرہ کار بدل گیا ہے اب وہ میعار سے کم پر راضی نہیں اور کم وقت میں زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں ملنے والے نعمت کو بھی حقیر جان کر ٹھکرا رہاہے۔ جو امیر طبقہ ہے وہ تعلقات کی بناہ پر فائدہ پہنچانے کو ترجیح دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر مذید دولتمند جب کہ غریب مذید ایک سطر نیجے کی جانب سفر کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اس مسئلہ کے حل کے لیے انسانی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔۔ورنہ جتنی بھی نئی صنعتیں لگائی جائیں , غربت میں کمی ممکن نہیں۔
یہ یاد رہے اکثر مسائل انسان کے اپنے ہی پیداکردہ ہوتے ہیں۔ ان کاحل بھی اس مسئلے کے اندر ہی موجود ہوتا ہےمسئلہ کوئی بھی چیلنج کیسا بھی ہو ٹھنڈے دماغ اور مناسب حکمت عملی سے اس کو حل کیا جا سکتا ہے۔