رات کے وقت پراسرار آخری ٹرین اور تنہا مسافر کی اردو سسپنس کہانی 6

آخری ٹرین کا پراسرار مسافر

تحریر شئیر کریں


رات کے وقت پراسرار آخری ٹرین اور تنہا مسافر کی اردو سسپنس کہانی

رات کے 11 بج کر 43 منٹ ہوئے تھے۔

حارث لاہور کے ایک چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن پر اکیلا کھڑا آخری ٹرین کا انتظار کر رہا تھا۔ اسٹیشن پر عجیب خاموشی تھی۔ ٹکٹ گھر بند ہو چکا تھا، چائے والے کی دکان پر تالا پڑا تھا، اور پلیٹ فارم کے آخری سرے پر لگی زرد بتی بار بار بجھ رہی تھی۔

حارث نے موبائل دیکھا۔ نیٹ ورک غائب تھا۔

اچانک لاؤڈ اسپیکر سے ایک ٹوٹی پھوٹی آواز سنائی دی:

’’مسافر حضرات توجہ فرمائیں۔ آخری ٹرین چند لمحوں میں پلیٹ فارم نمبر دو پر پہنچنے والی ہے۔‘‘

حارث چونک گیا۔

اس اسٹیشن پر تو صرف ایک ہی پلیٹ فارم تھا۔

اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔ اسٹیشن کی پچھلی دیوار کے ساتھ ایک تنگ راستہ تھا، جسے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ راستے کے آخر میں اندھیرے کے اندر ایک پلیٹ فارم دکھائی دے رہا تھا۔

پھر دور سے ٹرین کی سیٹی سنائی دی۔

وہ اجنبی مسافر

ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر آکر رکی۔ اس کے ڈبے پرانے تھے، کھڑکیوں کے شیشوں پر گرد جمی ہوئی تھی، اور آخری ڈبے کے دروازے پر سفید رنگ سے ایک نمبر لکھا تھا:

17

حارث نے ٹکٹ نکالا۔ اس کے ٹکٹ پر بھی ڈبہ نمبر 17 درج تھا۔

وہ ڈبے میں داخل ہوا تو اسے حیرت ہوئی کہ اندر تقریباً تمام نشستیں خالی تھیں۔ صرف آخری نشست پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ اس نے سرمئی رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا اور اس کی گود میں چمڑے کا ایک پرانا بیگ تھا۔

حارث اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

ٹرین چلنے لگی تو بوڑھے نے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا:

’’تم بھی کسی کو ڈھونڈنے جا رہے ہو؟‘‘

حارث نے چونک کر پوچھا، ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘

بوڑھے نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔

’’کیونکہ جو لوگ اس ٹرین میں بیٹھتے ہیں، وہ سب کسی نہ کسی کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

حارث نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ اسے لگا شاید بوڑھا آدمی تنہا ہے اور عجیب باتیں کر رہا ہے۔

’’میں تو صرف گھر جا رہا ہوں۔‘‘

بوڑھے کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ ابھری جس نے حارث کے دل میں انجانا سا خوف پیدا کر دیا۔

’’پھر تمہیں اگلے اسٹیشن پر اتر جانا چاہیے۔‘‘

’’اگلا اسٹیشن کون سا ہے؟‘‘

بوڑھے نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

’’وہی، جہاں تم نے آخری بار اپنے والد کو دیکھا تھا۔‘‘

حارث کے ہاتھ سے موبائل تقریباً گر گیا۔

اس کے والد کو مرے ہوئے بارہ سال ہو چکے تھے۔

بارہ سال پرانا حادثہ

حارث کے والد ریلوے میں سگنل آپریٹر تھے۔ بارہ سال پہلے ایک سرد رات کو ریلوے لائن پر حادثہ ہوا تھا۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق سگنل میں خرابی کے باعث ایک مال گاڑی مسافر ٹرین کے راستے میں آ گئی تھی۔

اس حادثے میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے اور حارث کے والد بھی جان سے گئے تھے۔

حارث اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا۔

اسے اپنے والد کی آخری بات آج بھی یاد تھی:

’’بیٹا، کبھی کسی کی خاموشی کو اس کی بے گناہی مت سمجھنا۔‘‘

حارث نے بوڑھے سے پوچھا، ’’آپ میرے والد کو جانتے تھے؟‘‘

بوڑھے نے جواب دینے کے بجائے اپنے بیگ سے ایک پرانی تصویر نکالی۔

تصویر میں چار آدمی ریلوے اسٹیشن کے باہر کھڑے تھے۔ ان میں حارث کے والد بھی تھے۔

اور ان کے ساتھ کھڑے باقی تین آدمیوں میں سے ایک خود وہ بوڑھا تھا۔

حارث نے تصویر چھین کر دیکھنا چاہی، مگر بوڑھے نے اسے واپس بیگ میں رکھ لیا۔

’’اگر تم حقیقت جاننا چاہتے ہو تو جب ٹرین رکے، کھڑکی سے باہر مت دیکھنا۔ پہلے اپنی نشست کے نیچے دیکھنا۔‘‘

اسی لمحے ٹرین کی روشنیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔

نشست کے نیچے خط

چند سیکنڈ بعد روشنی واپس آئی تو بوڑھی نشست خالی تھی۔

حارث اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ ڈبے کے دونوں دروازے بند تھے۔ کھڑکیوں سے باہر صرف سیاہی دکھائی دے رہی تھی۔

اس نے بوڑھے کی نشست کے نیچے ہاتھ ڈالا تو انگلیوں سے کاغذ کا ایک لفافہ ٹکرایا۔

لفافے پر اس کے والد کی لکھائی میں اس کا نام درج تھا۔

حارث نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔

’’میرے بیٹے، اگر یہ خط تم تک پہنچ گیا ہے تو شاید وہ وقت آ گیا ہے جب تم حقیقت جاننے کے قابل ہو گئے ہو۔

حادثے کی رات سگنل خراب نہیں تھا۔ میں نے اسے درست کیا تھا، لیکن کسی نے جان بوجھ کر اس کی تار کاٹ دی تھی۔ میں نے اس شخص کو دیکھا تھا، مگر اس کا نام بتانے سے پہلے ہی میرے ساتھ حادثہ پیش آ گیا۔

اسٹیشن کی پرانی ریکارڈ بک میں اصل اندراج موجود ہے۔ اگر کبھی موقع ملے تو اسے ضرور تلاش کرنا۔‘‘

خط کے آخر میں ایک جملہ تھا:

’’یاد رکھنا، ہر اندھیرا خوفناک نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اندھیرا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی سچ کو روشنی میں نہیں آنے دینا چاہتا۔‘‘

حارث کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اچانک ٹرین کی رفتار کم ہونے لگی۔

کھڑکی کے باہر ایک بورڈ دکھائی دیا:

نورآباد اسٹیشن — 12:07

حارث نے یہ نام پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔

وہ اسٹیشن جو نقشے میں نہیں

ٹرین رک گئی۔

حارث نے دروازہ کھولا اور پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ وہاں نہ کوئی مسافر تھا، نہ اسٹیشن ماسٹر۔ صرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کے دروازے پر زنگ آلود تختی لگی تھی:

’’ریکارڈ روم‘‘

کمرے کے اندر لکڑی کی الماریوں میں پرانی فائلیں رکھی تھیں۔ حارث کو ایک رجسٹر ملا جس کے پہلے صفحے پر بارہ سال پرانی تاریخ درج تھی۔

اس نے صفحات پلٹنے شروع کیے۔

حادثے والی رات کے اندراج پر پہنچ کر وہ رک گیا۔

رپورٹ میں لکھا تھا کہ سگنل کی خرابی حادثے کی وجہ تھی۔ مگر اسی صفحے کے نیچے کسی نے پنسل سے ایک اضافی جملہ لکھا تھا:

’’سگنل دستی طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔ حکم افسرِ بالا کی طرف سے آیا تھا۔‘‘

اس کے ساتھ ایک نام درج تھا۔

حارث نے نام پڑھا تو اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔

وہ نام اس کے والد کے سب سے قریبی دوست کا تھا، وہی شخص جو حادثے کے بعد ان کے گھر آیا کرتا تھا اور ہر مشکل وقت میں ان کی مدد کرتا تھا۔

اچانک کمرے کی بتی بجھ گئی۔

اندھیرے میں کسی نے حارث کے کان کے قریب سرگوشی کی:

’’تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘

آخری انکشاف

حارث نے فوراً موبائل کی روشنی جلائی۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔

وہ بھاگتا ہوا پلیٹ فارم پر واپس آیا، مگر ٹرین جا چکی تھی۔

صرف آخری ڈبہ دور اندھیرے میں دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی کھڑکی میں وہی بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔

حارث نے پوری قوت سے آواز دی، ’’آپ کون ہیں؟ میرے والد کے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘‘

بوڑھے نے شیشے پر ہاتھ رکھا۔

پھر اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔

حارث نے ٹارچ کی روشنی اس کے چہرے پر ڈالی۔ اسے اچانک وہ تصویر یاد آ گئی جو بوڑھے نے دکھائی تھی۔

وہ آدمی اس کے والد کا پرانا ساتھی تھا، جو اسی حادثے میں لاپتا ہو گیا تھا۔ خاندان والوں نے برسوں پہلے سمجھ لیا تھا کہ وہ بھی مر چکا ہے۔

لیکن حارث کے ذہن میں ایک اور سوال اٹھا۔

اگر وہ بوڑھا زندہ تھا تو اتنے سال کہاں رہا؟

اسی لمحے پلیٹ فارم پر لگی گھڑی نے بارہ بج کر سات منٹ دکھائے۔

حارث نے پلک جھپکی۔

ٹرین غائب تھی۔ پلیٹ فارم بھی غائب تھا۔

وہ اپنے شہر کے اصل ریلوے اسٹیشن پر کھڑا تھا۔ صبح کے پانچ بج رہے تھے۔ ایک ریلوے ملازم نے اسے دیکھ کر پوچھا:

’’آپ ساری رات یہاں کیسے کھڑے رہے؟‘‘

حارث نے جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنی مٹھی کھولی۔

اس کے ہاتھ میں وہی پرانا خط تھا۔

اور خط کے ساتھ ایک چھوٹی سی پیتل کی چابی بھی تھی۔

اس پر کندہ تھا:

ریکارڈ روم — الماری نمبر 17

حارث نے اسی دن ریلوے کے متعلقہ دفتر سے رابطہ کیا اور اپنے والد کے حادثے کی پرانی فائل دوبارہ کھولنے کی درخواست دی۔

کئی ہفتوں بعد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ حادثے کی اصل رپورٹ میں اہم معلومات چھپائی گئی تھیں۔ ایک سابق اہلکار کے بیان اور محفوظ دستاویزات کی مدد سے معاملے کی مزید تحقیقات شروع ہوئیں۔

مگر حارث کے پاس اس سوال کا جواب کبھی نہیں آیا کہ وہ بوڑھا کون تھا، اور اسے وہ خط کیسے ملا۔

اس نے چابی اور خط اپنے والد کی تصویر کے ساتھ رکھ دیے۔

اس کے بعد جب بھی رات کو کسی ٹرین کی سیٹی سنائی دیتی، وہ کھڑکی کے پاس جا کر دیکھتا ضرور تھا۔

لیکن اب وہ کسی بھوت سے نہیں ڈرتا تھا۔

اسے صرف اس بات کا خوف تھا کہ کہیں کوئی سچ دوبارہ کسی اندھیرے میں دفن نہ کر دے۔

اختتام

کچھ سفر منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں ہوتے۔ کچھ سفر ہمیں اس حقیقت تک لے جاتے ہیں جس سے ہم برسوں بھاگتے رہے ہوں۔

اور کبھی کبھی، آخری ٹرین کا سب سے پراسرار مسافر کوئی روح نہیں ہوتا، بلکہ وہ سچ ہوتا ہے جسے ہم نے بہت دیر سے پہچانا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں