بارش ابھی تھمی تھی۔
شہر کی بھیگی سڑکیں روشنیوں کو اپنے دامن میں سمیٹے خاموش کھڑی تھیں۔ میپل کے درختوں سے ٹپکتے قطرے، ٹھنڈی ہوا، اور کونے میں بنا ایک چھوٹا سا کیفے… جہاں تازہ کافی کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔
وہ کھڑکی کے پاس والی میز پر بیٹھی تھی۔
اس کے سامنے کافی کا مگ رکھا تھا، مگر کافی کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
Ye be parhe
حکایتِ برگِ آخری
وہ کافی پینے نہیں آئی تھی۔
وہ اپنے اندر کے شور سے ملنے آئی تھی۔
ویٹر آہستہ سے قریب آیا۔
“Anything else, Ma’am?”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلا دیا۔
“Nothing… thank you.”
ویٹر چلا گیا۔l
وہ شیشے کے اُس پار گزرتے لوگوں کو دیکھتی رہی۔
ہر شخص کہیں جا رہا تھا۔
ہر چہرے پر کوئی منزل لکھی تھی۔
صرف وہ تھی…
جو کہیں نہیں جا رہی تھی۔
کبھی کبھی انسان راستہ نہیں بھولتا۔
وہ خود کو بھول جاتا ہے۔
اس نے اپنے بیگ سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔
کاغذ کے کنارے وقت کے ساتھ زرد پڑ چکے تھے۔
یہ دس سال پرانا خط تھا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
“اگر کبھی زندگی تمہیں میری طرف واپس لائے… تو مت آنا۔ کیونکہ جو لوگ انتظار کرتے ہیں، وہ ایک دن انتظار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔”
اس کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔
وقت واقعی عجیب مصنف ہے۔
جس درد کو ہم انجام سمجھتے ہیں، وہی کبھی کبھی نئی زندگی کا آغاز بن جاتا ہے۔
اسی لمحے کیفے کا دروازہ کھلا۔
ایک ادھیڑ عمر شخص اندر داخل ہوا۔
نظریں ملیں…
اور دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔
وقت نے دونوں کے چہروں پر اپنی تحریر لکھ دی تھی۔
وہ آہستہ سے اس کی میز تک آیا۔
“May I?”
اس نے خاموشی سے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کر دیا۔
دونوں بیٹھ گئے۔
خاموشی بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
وہی خاموشی…
جو کبھی محبت کی زبان ہوا کرتی تھی۔
ویٹر دوبارہ گرم کافی رکھ گیا۔
دونوں نے کپ کو چھوا بھی نہیں۔
بعض چیزیں دوبارہ گرم تو ہو جاتی ہیں…
دوبارہ زندہ نہیں ہوتیں۔
کافی دیر بعد اس نے پوچھا۔
“تم خوش ہو؟”
اس نے کھڑکی سے باہر برستی بارش کو دیکھا۔
پھر دھیرے سے بولی۔
“میں پرسکون ہوں۔”
“خوشی ہمیشہ ساتھ نہیں رہتی…
لیکن سکون، اگر مل جائے، تو دیر تک ٹھہرتا ہے۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“شاید ہم نے پوری جوانی اسی سکون کی تلاش میں گزار دی۔”
بارش پھر تیز ہو گئی۔
اس نے اپنا کوٹ اٹھایا۔
“اب چلوں؟”
“ہاں۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر اس نے کہا۔
“اگر کبھی زندگی تمہیں کسی ایسے شخص سے ملائے…
جو تم سے سچی محبت کرتا ہو…
تو اسے یہ مت کہنا کہ ‘بعد میں ملتے ہیں’۔”
وہ رک گیا۔
“کیوں؟”
اس نے دھیرے سے جواب دیا۔
“کیونکہ زندگی کے پاس…
ہر ملاقات کے لیے دوسرا وقت نہیں ہوتا۔”
وہ چلا گیا۔
وہ کافی کا آخری گھونٹ پی کر مسکرا دی۔
بعض کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔
وہ صرف ہمارے اندر ایک خاموش دعا بن کر رہ جاتی ہیں۔
اور پھر…
ہم آخرکار اپنے ماضی کو رخصت کر دیتے ہیں۔
آخری کافی، آخری خاموشی