شکر اور صحت
کیوں؟
شاید اس لیے کہ ہم نے شکر کو بھول لیا۔ شاید اس لیے کہ ہم نے اللہ کو بھول لیا۔ شاید اس لیے کہ ہم یہ بھول گئے کہ جسم کے ساتھ روح کا علاج بھی چاہیے۔
آج ہم جانیں گے کہ شکر اور صحت کا تعلق کیا ہے، شکر جسم کو کیسے ٹھیک کرتا ہے، شکر دماغ کو کیسے سکون دیتا ہے اور سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔
شکر اور صحت
قرآن کیا کہتا ہے؟
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
“اور جب میں بیمار ہوتا ہوں، تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔”
سورۃ الشعراء: 80
یہ ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے۔ غور کریں: بیماری اور شفا، دونوں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔
شکر انسان کو اللہ کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے اور دل میں اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔”
سورۃ ابراہیم: 7
شکر ہمیں اپنی موجود نعمتوں کو پہچاننے، ان پر اللہ کا شکر ادا کرنے اور نعمتوں کی قدر کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
حدیث کیا کہتی ہے؟
بیماری کے وقت مومن کے لیے صبر اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع بہت بڑی عبادت ہے۔ بیماری انسان کو اپنی کمزوری کا احساس دلاتی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتِ صحت کی قدر سکھاتی ہے۔
اس باب میں بیان کردہ احادیث اور حوالہ جات کو اصل مصادر سے ضرور چیک کرنا چاہیے، خصوصاً بیماری میں شکر کے اجر سے متعلق مخصوص روایت کے الفاظ کے بارے میں۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
مثبت نفسیات میں شکرگزاری پر کئی تحقیقات ہوئی ہیں۔ رابرٹ ایمونز اور مائیکل میک کلو کی تحقیق نے gratitude journaling اور انسانی نفسیاتی و جسمانی کیفیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
تاہم شکرگزاری کو بیماری کا براہِ راست علاج یا دوا کا متبادل قرار دینا درست نہیں۔ شکر ایک مثبت روحانی اور نفسیاتی عادت ہو سکتی ہے، جبکہ بیماری کی صورت میں مناسب طبی تشخیص اور علاج بھی ضروری ہے۔
شکر اور مدافعتی نظام
شکرگزاری، مثبت جذبات اور ذہنی کیفیت کے درمیان تعلق پر تحقیق موجود ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ شکر لکھنے سے مدافعتی نظام کے خلیات لازماً زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، یا شکر بیماریوں کا براہِ راست علاج کرتا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جسے مخصوص تحقیق کے اصل نتائج کے مطابق ہی بیان کرنا چاہیے۔
اس لیے شکر کو صحت مند طرزِ زندگی کا ایک حصہ سمجھیں، طبی علاج کا متبادل نہیں۔
شکر اور تناؤ
شکرگزاری کی مشق انسان کی توجہ منفی خیالات سے ہٹا کر موجود نعمتوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس سے بعض لوگوں میں مثبت جذبات اور ذہنی سکون میں اضافہ محسوس ہو سکتا ہے۔
تناؤ کم کرنے کے لیے شکرگزاری کے ساتھ مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، عبادت اور ضرورت کے مطابق طبی یا نفسیاتی مدد بھی اہم ہیں۔
شکر اور نیند
سونے سے پہلے دن کی نعمتوں کو یاد کرنا ایک پرسکون معمول بن سکتا ہے۔ انسان جب شکایتوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو یاد کرتا ہے تو اس کی توجہ مثبت پہلوؤں کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔
شکرگزاری کو نیند بہتر کرنے کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن اسے رات کے پُرسکون معمول کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
شکر اور درد
دائمی درد کے ساتھ رہنے والے انسان کے لیے مسلسل تکلیف ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سبب بن سکتی ہے۔ شکرگزاری کی مشق توجہ کو صرف درد سے ہٹا کر زندگی میں موجود دوسری نعمتوں کی طرف لے جانے میں مدد دے سکتی ہے۔
البتہ درد کی وجہ کا علاج ضروری ہے اور شکرگزاری کو درد کی دوا یا طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
شکر اور لمبی عمر
شکرگزاری اور صحت کے درمیان تعلق پر تحقیق جاری ہے، لیکن یہ کہنا کہ شکر کرنے والا شخص لازماً زیادہ لمبی عمر پاتا ہے، سائنسی طور پر بہت مضبوط دعویٰ ہے۔ عمر اور صحت پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں جینیات، غذا، جسمانی سرگرمی، نیند، بیماریوں کا علاج اور طرزِ زندگی شامل ہیں۔
اس لیے شکر کو صحت مند زندگی کی ایک مثبت عادت سمجھیں، لمبی عمر کی ضمانت نہیں۔
شکر اور دماغ
شکرگزاری صرف الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں۔ جب انسان کسی نعمت کو پہچانتا، اس پر غور کرتا اور دل سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنی توجہ کو مثبت پہلوؤں کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ عادت ذہنی سکون اور مثبت سوچ کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔
شکر اور ڈپریشن
شکرگزاری پر نفسیاتی تحقیق موجود ہے اور بعض مطالعات میں gratitude exercises کے مثبت نفسیاتی اثرات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم شکرگزاری کو ڈپریشن کا “سب سے مؤثر علاج” یا دوا سے زیادہ مؤثر قرار دینا درست نہیں۔
ڈپریشن ایک سنجیدہ ذہنی صحت کی کیفیت ہو سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے مناسب علاج لینا چاہیے۔ شکرگزاری اس کے ساتھ ایک معاون مثبت عادت ہو سکتی ہے۔
شکر اور بے چینی
شکرگزاری انسان کو مسلسل فکر اور کمی کے احساس سے نکال کر موجود نعمتوں کی طرف متوجہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بعض لوگوں کے لیے یہ ذہنی سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔
اگر بے چینی شدید یا مسلسل ہو تو صرف شکرگزاری پر انحصار کرنے کے بجائے مناسب پیشہ ورانہ مدد بھی حاصل کرنی چاہیے۔
شکر اور خود اعتمادی
جب انسان اپنی زندگی میں موجود صلاحیتوں، مواقع، تعلقات اور نعمتوں کو پہچانتا ہے تو اس میں اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں کو دیکھنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔
شکرگزاری دوسروں کی نعمتوں سے مسلسل موازنہ کرنے کے بجائے اپنی زندگی کی قدر سکھاتی ہے۔
شکر اور دماغ کی ورزش
شکرگزاری کو ذہنی تربیت کی ایک مشق سمجھا جا سکتا ہے۔ روزانہ نعمتوں کو یاد کرنا اور ان کے اسباب پر غور کرنا انسان کی توجہ کو مثبت پہلوؤں کی طرف لے جانے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ شکرگزاری لازماً دماغ کی ساخت بدل دیتی ہے، ایک مخصوص سائنسی دعویٰ ہے جس کے لیے اصل تحقیق کا درست حوالہ ضروری ہے۔
بیماری میں شکر
بیماری کے وقت شکر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی تکلیف کو جھٹلائے یا علاج چھوڑ دے۔ شکر کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف کے باوجود اللہ تعالیٰ کی باقی نعمتوں کو پہچانا جائے۔
باقی نعمتوں پر شکر
اگر زندگی میں ایک بیماری ہے تو اس کے ساتھ بے شمار نعمتیں بھی موجود ہیں۔
سانس، آنکھیں، کان، دل، ہاتھ، پاؤں اور وہ تمام جسمانی صلاحیتیں جنہیں ہم روزمرہ زندگی میں معمولی سمجھ لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔
بیماری انسان کو ان نعمتوں کی قدر دوبارہ سکھا سکتی ہے۔
علاج پر شکر
دوا کا میسر ہونا، ڈاکٹر تک رسائی، ہسپتال کی سہولت، علاج کے وسائل اور ایسے لوگ جو بیماری میں ساتھ کھڑے ہوں، سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔
ان نعمتوں کو پہچاننا بھی شکر کا ایک خوبصورت انداز ہے۔
لوگوں پر شکر
ماں کی دعا، باپ کی کوشش، دوست کا حال پوچھنا اور کسی پڑوسی یا عزیز کا بیماری میں یاد کرنا، یہ سب ایسے رشتے ہیں جن کی قدر بیماری کے وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
انسانوں کی قدر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے کا ایک طریقہ ہے۔
بیماری کے اسباق
بیماری انسان کو صبر سکھا سکتی ہے، اپنی کمزوری کا احساس دلا سکتی ہے اور دنیا کی بے ثباتی کی یاد دلا سکتی ہے۔
احادیث میں بیماری اور تکلیف پر صبر کے اجر اور گناہوں کے کفارے کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے مومن بیماری کے وقت صبر، دعا، شکر اور علاج، سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
ہو چکا لکھیں
پچھلے باب میں ہم نے شکرگزاری کے ایک عملی طریقے پر بات کی تھی کہ اپنی مطلوب نعمت کو مثبت انداز میں لکھا جائے۔
مثلاً:
“شکر ہے، میں صحت مند ہو چکا ہوں۔”
“شکر ہے، میرا درد ختم ہو چکا ہے۔”
“شکر ہے، میں اللہ کے فضل سے بہتر ہو چکا ہوں۔”
اس مشق کو دعا، امید اور مثبت سوچ کے طور پر استعمال کریں۔ لیکن اسے طبی علاج کی ضمانت نہ سمجھیں۔ شفا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور علاج اختیار کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
صحت کا شکر
تاریخ: 9 اکتوبر 2026
آج میں اپنی صحت سے متعلق تین نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہوں۔
سانس: آج میں نے سانس لی۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو ایک ایک سانس کی قدر جانتے ہیں۔
شکر ہے، میں سانس لے سکتا ہوں۔ الحمد للہ۔
چند لمحے رکیں، اپنی سانس کو محسوس کریں اور دل سے کہیں: یا اللہ، تیرا شکر۔
آنکھیں: آج میں نے اپنے بچوں کا چہرہ دیکھا، سورج کی روشنی دیکھی اور کتاب پڑھی۔
شکر ہے، میری آنکھیں کام کرتی ہیں۔ الحمد للہ۔
چند لمحے رکیں، اپنی آنکھوں کی نعمت کو محسوس کریں اور دل سے کہیں: یا اللہ، تیرا شکر۔
صحت: آج میں اپنی جسمانی صحت کی ان نعمتوں کو یاد کر رہا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہیں۔
شکر ہے، اللہ نے مجھے صحت کی نعمتیں عطا کی ہیں۔ الحمد للہ۔
چند لمحے رکیں، اپنی صحت کا تصور کریں اور دل سے کہیں: یا اللہ، تیرا شکر۔
آج کا سبق: صحت کی ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
ٹریکر: دن 1 مکمل
صحت کا شکر
تاریخ: 10 اکتوبر 2026
آج اپنے جسم کی نعمتوں کو یاد کریں۔
ہاتھ: آج میں نے اپنے ہاتھوں سے کام کیا، کھانا کھایا اور دعا کی۔
شکر ہے، میرے ہاتھ کام کرتے ہیں۔ الحمد للہ۔
پاؤں: آج میں نے اپنے پاؤں سے چل کر نماز پڑھی، گھر گیا اور کام کیا۔
شکر ہے، میرے پاؤں چل سکتے ہیں۔ الحمد للہ۔
دل: آج میرا دل دھڑکا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔
شکر ہے، میرا دل دھڑکتا ہے۔ الحمد للہ۔
آج کا سبق: جسم کا ہر عضو ایک نعمت ہے۔
ٹریکر: دن 2 مکمل
سائنسی تحقیق
شکرگزاری اور صحت کے موضوع پر مختلف سائنسی مطالعات کیے گئے ہیں۔ رابرٹ ایمونز اور مائیکل میک کلو کی 2003 کی تحقیق gratitude interventions کے نفسیاتی اور جسمانی اثرات کے حوالے سے معروف ہے۔
نیند کے حوالے سے gratitude اور sleep quality کے درمیان تعلق پر بھی تحقیق ہوئی ہے۔ اسی طرح مثبت جذبات، شکرگزاری، ذہنی دباؤ اور مجموعی بہبود کے درمیان تعلق کو نفسیات میں زیرِ مطالعہ رکھا گیا ہے۔
تاہم ہر تحقیق کے نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ شکرگزاری مفید معاون عادت ہو سکتی ہے، لیکن اسے بیماری، ڈپریشن، درد یا کسی دوسری طبی کیفیت کا یقینی علاج کہنا درست نہیں۔
صحت کا فارمولا
صحت کو نعمت سمجھیں + شکر لکھیں + نعمت کو محسوس کریں + صحت مند عمل کریں + اس عادت کو دہرائیں
یہ شکرگزاری کی ایک عملی مشق ہے۔ شفا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جبکہ علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
خلاصہ
شکر انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی پہچان اور قدر سکھاتا ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شفا دینے والا حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ ہے۔
بیماری کے وقت صبر، دعا، شکر اور علاج کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
شکرگزاری ذہنی سکون اور مثبت سوچ کے لیے ایک مفید عادت بن سکتی ہے۔
صحت کی چھوٹی سے چھوٹی نعمت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
بیماری کے دوران صرف تکلیف پر توجہ دینے کے بجائے باقی نعمتوں کو بھی یاد کریں۔
شکرگزاری کو طبی علاج کا متبادل نہیں بلکہ ایک روحانی اور نفسیاتی معاون عادت سمجھیں۔
آج کا کام
آج صرف ایک کام کریں۔ اپنی صحت کی تین نعمتیں لکھیں۔
ہر نعمت لکھنے کے بعد چند سیکنڈ رکیں، اس نعمت کو محسوس کریں اور دل سے کہیں:
“یا اللہ، تیرا شکر۔”
یہ عمل روزانہ کریں اور اپنی شکرگزاری کا سفر جاری رکھیں۔
آپ کا سوال
آپ کی صحت میں سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟
کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
اگلی پوسٹ
اگلی پوسٹ میں ہم جانیں گے کہ شکر کو ایک عارضی چیلنج کے بجائے زندگی بھر کی مستقل عادت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
شکر لکھیں، زندگی بدلیں۔
مصنفہ: روبینہ شاہین
تاریخ: 9 اکتوبر 2026