46

بچوں کو قرآن حفظ کرنے کا آسان طریقہ

تحریر شئیر کریں

قرآن حفظ

کیا آپ کا بچہ قرآن کی آیات یاد کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے؟ کیا وہ سبق یاد کرنے کے بعد بھول جاتا ہے، بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے یا حفظ کرتے ہوئے بور ہونے لگتا ہے؟

بہت سی مائیں چاہتی ہیں کہ ان کے بچے قرآنِ مجید شوق سے یاد کریں، لیکن جب بچہ جلد سبق یاد نہ کر پائے تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات بچے کو زیادہ سبق دے دیا جاتا ہے، کبھی دہرائی کے لیے وقت نہیں بچتا اور کبھی غلطی پر بار بار ٹوکنے سے بچے کی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔

بچوں کو قرآن حفظ کرنے کا آسان طریقہ یہ نہیں کہ ان سے زیادہ سے زیادہ آیات جلد یاد کروائی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ بچے کی عمر، توجہ اور استعداد کے مطابق سبق دیا جائے، اسے درست تلفظ کے ساتھ یاد کروایا جائے اور پہلے سے یاد کیے ہوئے سبق کی باقاعدہ دہرائی کی جائے۔

ایک ماں اور قرآن ٹیچر کی حیثیت سے میں سمجھتی ہوں کہ بچوں کو قرآن سکھاتے وقت محبت، مستقل مزاجی اور درست رہنمائی کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ آئیے پانچ ایسے عملی طریقے جانتے ہیں جنہیں والدین گھر میں اپنا سکتے ہیں۔

1۔ حفظ کا وقت مقرر کریں

بچے کو قرآن یاد کروانے کے لیے روزانہ ایک ایسا وقت منتخب کریں جب وہ نسبتاً پرسکون ہو اور اسکول، کھیل یا دوسری مصروفیات کی وجہ سے بہت تھکا ہوا نہ ہو۔

بعض بچوں کے لیے صبح کا وقت مناسب ہوتا ہے، جبکہ بعض بچے شام کو بہتر توجہ دے پاتے ہیں۔ اس لیے اپنے بچے کے معمول کے مطابق وقت منتخب کریں۔

ابتدا میں دس سے پندرہ منٹ کی مختصر نشست رکھی جا سکتی ہے۔ اگر بچہ توجہ کے ساتھ زیادہ دیر بیٹھ سکتا ہے تو وقت اس کی ضرورت کے مطابق بڑھائیں۔

روزانہ کی مشق میں تین کام شامل رکھیں:

– پہلے یاد کیے ہوئے سبق کی دہرائی
– نیا سبق یاد کرنے کی کوشش
– آخر میں یاد کیے ہوئے حصے کو دوبارہ سنانا

یاد رکھیں کہ روزانہ تھوڑا سبق یاد کرنا اور اسے برقرار رکھنا، ایک دن میں بہت زیادہ سبق یاد کرکے اگلے دن بھول جانے سے زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔

2۔ آیت کو چھوٹے حصوں میں یاد کروائیں

بچوں کو قرآن یاد کروانے میں ایک مشکل یہ ہوتی ہے کہ لمبی آیت یا کئی آیات ایک ساتھ یاد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر بچہ بار بار بھول رہا ہو تو سبق کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مثلاً:

پہلے آیت کا ایک مناسب مختصر حصہ درست تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
بچے سے وہ حصہ سنیں اور ضرورت کے مطابق اصلاح کریں۔
جب وہ حصہ یاد ہو جائے تو اگلا حصہ شامل کریں۔
دونوں حصوں کو ملا کر پڑھوائیں۔
آخر میں پوری آیت سنیں۔

ہر آیت کو لازماً تین یا چار الفاظ میں تقسیم کرنا ضروری نہیں۔ قرآن کی آیات کی ساخت مختلف ہوتی ہے، اس لیے تقسیم کرتے وقت معنی، وقف اور درست قرأت کا خیال رکھیں۔

اگر بچے کو کسی حصے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو اسے مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مقصد بچے پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ یاد کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

۔ سننے، پڑھنے اور سنانے کی مشق کروائیں

بچوں کو قرآن حفظ کرنے کا آسان طریقہ تلاش کرتے ہوئے یہ بات یاد رکھیں کہ صرف آڈیو چلا دینا کافی نہیں۔ بچے کو توجہ سے سننے، مصحف میں الفاظ دیکھنے، ساتھ پڑھنے اور پھر اپنی یادداشت سے سنانے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔

آپ یہ ترتیب اپنا سکتی ہیں:

پہلا مرحلہ: مستند قاری کی تلاوت بچے کو سنائیں۔

دوسرا مرحلہ: بچے کو مصحف میں متعلقہ آیت دکھائیں اور درست تلفظ کے ساتھ پڑھائیں۔

تیسرا مرحلہ: بچے سے آیت اپنی یادداشت سے سنیں۔

چوتھا مرحلہ: جہاں لفظ چھوٹ جائے یا تلفظ میں غلطی ہو، وہاں نرمی سے اصلاح کریں۔

آڈیو تلاوت بچے کو الفاظ اور ادائیگی سننے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن درست مخارج اور تجوید سیکھنے کے لیے اہل قرآن ٹیچر کی رہنمائی بھی ضروری ہے۔

۔ حفظ کو دلچسپ بنائیں

اگر بچہ قرآن حفظ کرتے ہوئے بور ہو جاتا ہے تو ہر مرتبہ اسے زیادہ دیر بٹھانے کے بجائے یہ دیکھیں کہ سبق کی مقدار اس کی عمر اور توجہ کے مطابق ہے یا نہیں۔

بچے کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے چند آسان طریقے آزمائیں:

– سبق مکمل ہونے پر بچے کی کوشش کی تعریف کریں۔
– روزانہ کی مشق کے لیے ایک سادہ چارٹ بنائیں۔
– یاد کیے ہوئے سبق کے بعد بچے کو اپنی کامیابی بتانے دیں۔
– مختصر وقفہ دیں، خصوصاً جب بچہ تھکا ہوا محسوس ہو۔
– بچے کو مناسب انتخاب دیں، مثلاً آج سبق پہلے سننا ہے یا پہلے پڑھنا ہے۔

آپ چاہیں تو چارٹ پر ستارہ یا نشان لگا سکتی ہیں، لیکن ہر بار تحفہ دینا ضروری نہیں۔ بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنی کوشش سے سیکھ رہا ہے، نہ کہ صرف انعام حاصل کرنے کے لیے سبق یاد کر رہا ہے۔

اگر بچہ مسلسل اکتاہٹ محسوس کرے تو سبق کی مقدار، نشست کے وقت اور تدریسی طریقے پر نظرثانی کریں۔

Ye be parhey

بچوں کو قرآن سے محبت کیسے پیدا کروائیں؟

بچوں کو قرآن کیسے سکھائیں?

سورۃ الفلق بچوں کے لیے

۔ نیا سبق یاد کرنے کے ساتھ دہرائی بھی کریں

کبھی بچہ آج کا سبق اچھی طرح سنا دیتا ہے، لیکن چند دن بعد وہی آیات بھولنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف نیا سبق بڑھاتے جانا مناسب نہیں۔

قرآن حفظ کرنے کے لیے سابقہ سبق کی دہرائی کو روزانہ کے معمول کا حصہ بنائیں۔

مثلاً ایک نشست میں پہلے گزشتہ سبق سنیں، پھر نیا سبق یاد کروائیں اور آخر میں دونوں کو ملا کر پڑھیں۔ اگر بچہ پرانا سبق بھول رہا ہو تو کچھ وقت کے لیے نئے سبق کی مقدار کم کرکے دہرائی پر زیادہ توجہ دیں۔

بچے کو سبق سناتے وقت فوراً جواب بتانے کے بجائے چند لمحے سوچنے کا موقع دیں۔ اگر وہ پھر بھی یاد نہ کر پائے تو اشارہ دیں، متعلقہ حصہ دوبارہ پڑھائیں اور پھر اسے اپنی یادداشت سے سنانے دیں۔

حفظ کا مقصد صرف ایک نشست میں سبق مکمل کرنا نہیں، بلکہ یاد کیے ہوئے قرآن کو درست طور پر دہرانے کی عادت پیدا کرنا بھی ہے۔

بچوں کو قرآن یاد نہ ہو تو کیا کریں؟

اگر بچہ بار بار سبق بھولتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ کہیں سبق اس کی موجودہ استعداد سے زیادہ تو نہیں۔ اس کے علاوہ نیند کی کمی، تھکن، توجہ بٹنے اور پچھلے سبق کی ناکافی دہرائی جیسے عوامل بھی سیکھنے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان باتوں پر عمل کرکے دیکھیں:

– سبق کی مقدار کم کرکے دیکھیں۔
– ایک وقت میں ایک ہی حصے پر توجہ دیں۔
– بچے کو مناسب نیند اور آرام کا موقع دیں۔
– روزانہ گزشتہ سبق کی دہرائی کریں۔
– قرآن ٹیچر سے بچے کی قرأت اور تدریسی طریقے کے بارے میں مشورہ لیں۔

اگر بچہ کسی مخصوص لفظ یا حرف میں بار بار غلطی کرتا ہے تو اس کی اصلاح پر الگ سے توجہ دیں۔ ہر غلطی کو لاپروائی نہ سمجھیں؛ کبھی بچے کو صرف مزید مشق یا مختلف انداز میں سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

قرآن حفظ کرواتے وقت ان غلطیوں سے بچیں

والدین کی محبت اور فکر اپنی جگہ، لیکن بعض عادتیں بچے کے لیے حفظ کو مشکل بنا سکتی ہیں۔

بہت زیادہ سبق دینا: بچے کی استعداد سے زیادہ سبق دینے کے بجائے مناسب مقدار مقرر کریں۔

ہر غلطی پر ڈانٹنا: غلطی کی اصلاح ضرور کریں، مگر بچے کی عزتِ نفس مجروح نہ کریں۔

دہرائی چھوڑ دینا: نیا سبق یاد کروانے کے ساتھ پرانے سبق کو بھی وقت دیں۔

دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا: ہر بچے کی یاد کرنے کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔ اپنے بچے کی گزشتہ کارکردگی سے اس کی پیش رفت کا جائزہ لیں۔

تلفظ کی اصلاح کو نظر انداز کرنا: حفظ کے ساتھ درست قرأت بھی ضروری ہے۔ مستند قرآن ٹیچر سے رہنمائی لیں۔

بچوں کو حروف کا صحیح تلفظ بھی سکھائیں

قرآن حفظ کرتے وقت حروف کے مخارج اور تجوید کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر بچہ کسی حرف کو درست ادا نہیں کر پا رہا تو اسے بار بار غلط پڑھنے دینے کے بجائے درست ادائیگی سنائیں اور اہل قرآن ٹیچر سے اصلاح کروائیں۔

اس موضوع پر ہمارا متعلقہ مضمون بھی پڑھیں:

بچوں کو حروف کا صحیح تلفظ سکھانے کے تین آسان طریقے

یہاں اپنے پہلے مضمون کا اصل لنک شامل کریں تاکہ قاری ایک مضمون سے دوسرے متعلقہ مضمون تک آسانی سے پہنچ سکے۔

بچوں کے لیے حفظ کا روزانہ ٹائم ٹیبل

بچے کے لیے ایک سادہ ٹائم ٹیبل بنانا مفید ہو سکتا ہے۔ اس میں نیا سبق، گزشتہ سبق کی دہرائی اور استاد سے اصلاح کے لیے وقت مختص کریں۔

ٹائم ٹیبل بچے کی عمر، اسکول کے اوقات، نیند اور دیگر سرگرمیوں کے مطابق بنائیں۔ اگر آپ اپنے قارئین کو مفت PDF فراہم کرنا چاہتی ہیں تو پہلے ایک قابلِ استعمال ٹائم ٹیبل تیار کریں، پھر اس حصے میں اس کا اصل ڈاؤن لوڈ لنک شامل کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

بچے کو روزانہ کتنا قرآن یاد کروانا چاہیے؟

اس کا کوئی ایک مقررہ جواب نہیں۔ بچے کی عمر، توجہ، قرأت اور یاد کیے ہوئے سبق کے مطابق مقدار طے کریں۔ اتنا سبق دیں جسے وہ درست طور پر یاد کر سکے اور گزشتہ سبق کی دہرائی بھی کر سکے۔

بچہ قرآن یاد کرکے بھول جائے تو کیا کریں؟

پرانے سبق کی دہرائی بڑھائیں، آیات کو مناسب حصوں میں تقسیم کریں اور بچے کو اپنی یادداشت سے سنانے کا موقع دیں۔ اگر مشکل مسلسل برقرار رہے تو قرآن ٹیچر کے ساتھ سبق کی مقدار اور طریقۂ تدریس پر نظرثانی کریں۔

کیا آڈیو سن کر بچہ قرآن حفظ کر سکتا ہے؟

آڈیو تلاوت سننا حفظ کی مشق میں مدد دے سکتا ہے، لیکن صرف آڈیو سننے پر انحصار نہ کریں۔ بچے کو مصحف سے پڑھنے، اپنی یادداشت سے سنانے اور مستند استاد سے قرأت کی اصلاح کروانے کی بھی ضرورت ہے۔

بچے کو قرآن حفظ کرنے میں دلچسپی کیسے دلائیں؟

سبق کو بچے کی استعداد کے مطابق رکھیں، اس کی کوشش کی تعریف کریں، مختصر اور باقاعدہ نشستیں بنائیں اور غلطی پر نرمی سے اصلاح کریں۔ بچے کو دوسرے بچوں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنی پیش رفت محسوس کرنے دیں۔

اختتامیہ

بچوں کو قرآن حفظ کرنے کا آسان طریقہ اپنانے کے لیے مختصر اور باقاعدہ مشق، آیات کو مناسب حصوں میں تقسیم کرنا، درست تلاوت سننا، حوصلہ افزائی اور سابقہ سبق کی دہرائی ضروری ہے۔ ہر بچے کی رفتار مختلف ہوتی ہے، اس لیے صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس کی ضرورت کے مطابق رہنمائی کریں۔

بچوں کو قرآن حفظ کروانے میں ماہرین کی رائے

بچوں کو قرآنِ مجید حفظ کرواتے وقت صرف سبق یاد کروانا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ بچہ سیکھی ہوئی آیات کو یاد رکھ سکے اور درست طریقے سے دہرا سکے۔ سیکھنے اور یادداشت کے متعلق تحقیق میں وقفے وقفے سے دہرائی (Spaced Practice) اور یادداشت سے سبق دہرانے (Active Recall) کو مفید طریقے قرار دیا گیا ہے۔

اس اصول کو بچوں کے حفظ میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، بچے کو نئی آیات یاد کروانے کے بعد کچھ دیر یا اگلے دن دوبارہ سننے کا موقع دیں۔ کبھی قرآن سامنے رکھ کر پڑھوائیں اور کبھی مصحف بند کرکے یاد سے سنانے کی ترغیب دیں۔ اس طرح بچے کو اپنی یادداشت استعمال کرنے کی مشق ملتی ہے۔

ماہرینِ تعلیم کی کتاب Make It Stick: The Science of Successful Learning میں بھی سیکھے ہوئے مواد کو یاد رکھنے کے لیے وقفوں کے ساتھ مشق اور یادداشت سے معلومات دہرانے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ کتاب عمومی طور پر سیکھنے اور یادداشت کے اصولوں پر ہے، خاص طور پر قرآن حفظ کروانے کے طریقوں پر نہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچے کی کوشش کی حوصلہ افزائی کریں، غلطی ہونے پر نرمی سے درست کروائیں اور اس کے حفظ کی رفتار کا دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں۔ ہر بچے کی استعداد مختلف ہوتی ہے؛ اس لیے مستقل مزاجی، محبت اور مناسب دہرائی کے ساتھ حفظ کا معمول بنانا زیادہ مفید ہے۔

قرآن حفظ کروانے کا مقصد صرف جلد سبق مکمل کروانا نہیں، بلکہ بچے کو درست قرأت، دہرائی کی عادت اور قرآن کے ساتھ محبت بھرا تعلق پیدا کرنے میں مدد دینا بھی ہے۔

آپ اپنے بچے کو قرآن یاد کروانے کے لیے کون سا طریقہ استعمال کرتی ہیں؟ اپنے تجربے اور سوالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں، تاکہ دوسرے والدین بھی آپ کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں