16

ملتان میں یتیم بچے کی موت: وسیم کا قصور کیا تھا؟

تحریر شئیر کریں

ملتان میں یتیم بچے وسیم عباس کی موت اور بچوں کے تحفظ کا معاملہ

کچھ خبریں صرف پڑھ کر آگے بڑھ جانے کے لیے نہیں ہوتیں۔ وہ ہمارے ضمیر پر دستک دیتی ہیں، ہمیں اپنے معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہیں اور ایسے سوال چھوڑ جاتی ہیں جن کے جواب تلاش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی موت بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے۔

وسیم کو زندگی نے پہلے ہی بہت سی محرومیوں سے دوچار کر رکھا تھا۔ وہ مظفرگڑھ سے تعلق رکھتا تھا اور ملتان کے ایک یتیم خانے میں رہتا تھا۔ خبروں کے مطابق اسے الیکٹریشن کا ہنر سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔ پھر 19 اکتوبر 2026 کو پیش آنے والے واقعے نے اس کی زندگی ختم کر دی۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کا پیچھا کرتی گاڑی اور اس سے ٹکرانے کے مناظر سامنے آئے۔

ایک بچے کے سوال

ذرا سوچیے، پندرہ سال کی عمر میں ایک بچے کے خواب کیا ہوتے ہیں؟ کوئی تعلیم مکمل کرنا چاہتا ہے، کوئی ہنر سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے، اور کوئی صرف ایک محفوظ گھر اور محبت بھرے ماحول کا خواہش مند ہوتا ہے۔

وسیم بھی ایک بچہ تھا۔ اسے غلطی کرنے پر سزا دینے یا اس کی بات سنے بغیر فیصلہ کرنے کے بجائے تحفظ، رہنمائی اور عزت کی ضرورت تھی۔ کسی بچے کو کام چھوڑنے، اختلاف کرنے یا خوف محسوس ہونے پر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑے تو یہ ہمارے معاشرتی رویوں پر ایک سنگین سوال ہے۔

ہنر یا استحصال؟

بچوں کو ہنر سکھانا اچھی بات ہے، کیونکہ مناسب تربیت ان کے مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہے۔ لیکن ہنر سکھانے کے نام پر کسی بچے کو غیر محفوظ ماحول میں چھوڑ دینا قابل قبول نہیں۔

وسیم کے واقعے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یتیم خانوں میں رہنے والے بچوں کو دوسرے افراد کے پاس بھیجتے وقت نگرانی کے کیا انتظامات ہوتے ہیں؟ ان کی حفاظت کون یقینی بناتا ہے؟ اگر کسی بچے کو شکایت ہو تو وہ کس سے مدد مانگ سکتا ہے؟

زندگی نے موت کو شکست دے دی

ان سوالات کے جواب صرف ایک ادارے کی وضاحت سے نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات اور مؤثر نگرانی سے سامنے آنے چاہییں۔ پولیس نے یتیم خانے کی انتظامیہ کے ایک رکن کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاع دی ہے۔

انصاف کا اصل مطلب

21 اکتوبر کی خبروں کے مطابق اس کیس میں نامزد مرکزی ملزم توقیر نذیر کی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ اس پیش رفت کے بعد بھی ضروری ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں، دیگر ممکنہ ذمہ داروں اور ادارہ جاتی غفلت کے سوالات کی قانونی اور شفاف جانچ ہو۔

انصاف کا مقصد صرف کسی ایک شخص کو سزا ملنا نہیں، بلکہ حقائق کا سامنے آنا، ذمہ داری کا تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام بھی ہے۔

وسیم کے بعد

وسیم واپس نہیں آئے گا، لیکن اس کی موت سے اٹھنے والے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یتیم بچوں کی تعلیم، تربیت، رہائش اور روزگار کے ہر انتظام میں ان کی سلامتی کو بنیادی اہمیت ملنی چاہیے۔

ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں کسی بچے کی بے بسی اس کی کمزوری نہ بنے، جہاں اس کی آواز سنی جائے اور جہاں اس کے حقوق کی حفاظت محض وعدہ نہ ہو۔

وسیم کے لیے حقیقی انصاف یہی ہوگا کہ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق ہو اور کسی دوسرے بچے کو ایسی بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں