کرنٹ لگنے سے نوجوان کی موت واقع ہوگی۔ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کر دی۔ڈیڈ باڈی گھر پہنچی تو عبدالواسع ولد محمد حسین کی سانسیں بحال ہوگئیں اللہ نے نئی زندگی دے دی۔ڈی ایچ کیو میانوالی منتقل کر دیا گیا۔
کرنٹ لگنے سے نوجوان عبدالواسع ولد محمد حسین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے دل کے دھڑکن اور سانسوں کے مکمل بند ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ڈاکٹری تصدیق کے بعد لاش گھر پہنچائی گئی، جہاں کہرام مچ گیا۔ ماں باپ، بہن بھائی، عزیز رشتہ دار سب غم سے نڈھال تھے۔ جنازے کی تیاری شروع ہو چکی تھی، کفن دفن کے انتظامات مکمل کیے جا رہے تھے۔
لیکن پھر… ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ہر آنکھ کو حیرت میں ڈال دیا۔
جب عبدالواسع کی لاش گھر پہنچی، تو وہاں موجود افراد نے محسوس کیا کہ اس کی سانسیں بحال ہو رہی ہیں۔ دھڑکن چلنے لگی، ہونٹ ہلنے لگے، اور وہ نوجوان جو تھوڑی دیر پہلے “مردہ” تھا، آہستہ آہستہ زندگی کی طرف لوٹنے لگا۔
گھر میں شور برپا ہو گیا۔ کچھ دیر کے لیے کسی کو یقین نہیں آیا کہ جو شخص مردہ سمجھا گیا تھا، وہ پھر سے سانسیں لے رہا ہے۔ فوراً دوبارہ اسپتال لے جایا گیا۔ ڈی ایچ کیو میانوالی میں ڈاکٹروں نے ایک بار پھر مکمل معائنہ کیا اور حیرانی کے ساتھ تصدیق کی کہ عبدالواسع اب زندہ ہے۔ اسے فوری طور پر طبی نگہداشت میں رکھا گیا۔
اس واقعے نے نہ صرف میانوالی بلکہ پورے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ واقعی اللہ جب چاہے، مردہ میں جان ڈال دے — اور جب تک اس کا حکم نہ ہو، کوئی بھی کسی کی سانس نہیں روک سکتا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی بھی حادثے یا بے ہوشی کی حالت میں جلد بازی میں موت کا اعلان نہ کیا جائے۔ مکمل تسلی، طبی جانچ اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
یہ کہانی ایک یاد دہانی ہے — کہ زندگی اور موت صرف ایک ہی ہستی کے اختیار میں ہے، اور وہ ہے ربِ کائنات۔