427

یک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔ طیب اردگان

تحریر شئیر کریں

دنیا کے منظرنامے پہ بڑے پیمانے پہ تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ایسا لگتا ہے جیسے موجودہ نظام الٹ پلٹ ہونے کو ہے۔
مسلمان گزشتہ ایک صدی سے تتر بتر ہو کر اپنی اجتماعی شناخت کھو کر ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں۔انکے پاس کوئی اجتماعی پلیٹ فارم نہیں ہے۔سب کچھ گنوا چکنے کے بعد مسلم حکمران اغیار کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ گۓ ہیں اور رہی عوام تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ترکی پوری
اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، ترکی جس دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، اسکا ثبوت ترکی مخالف اماراتی وزیر خارجہ کے ٹویٹ پر ترکی کے رد عمل کا ثبوت ہے۔ کون نہیں جانتا کہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب ، مصر اور بحرین نے قطر کے بادشاہ سے منسوب ایک مبینہ ٹویٹ اور ایک خبر کی وجہ سے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کردیئے ، جس کی بعد میں انہوں نے تردید کردی۔

ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان کی یہی سوچ ہے جو خلافت عثمانیہ کے تمام مضبوط بادشاہوں کی سوچ تھی۔عبدالحمید جو خلافت عثمانیہ کے آخری لیڈر تھے انھوں نے ترکی سے حجاز جانے والی ٹرین کا منصوبہ بنایا ، جسے وہ دوسرے اسلامی ممالک میں پھیلانا چاہتا تھا۔ یہ عثمانی بادشاہ تھا جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جو اس وقت برطانیہ کے زیر قبضہ خلافت عثمانیہ سے جوڑا تھا۔ اس نے وفود کے ذریعہ بہت کوششیں کیں کیوں کہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ یہودی عالمی حکومت قائم کرنے کے لئے دنیا میں ایک نیا سیاسی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں ، جس میں خلافت عثمانیہ اور دیگر اسلامی حکومتوں کو منقطع کرکے چھوٹے ممالک تک محدود کردیا جاۓ گا۔ اور یہی ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔
ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو دارالخلافہ بناۓ جانے کے اعلان کے بعد بہت تبدیلیاں رونما ہو رہیں ہیں۔
ایک طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان جو عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے کے دارالخلافہ اسلام آباد میں مسجد گرا کر مندر تعمیر ہونے جا رہا تھا۔جسے روک تو دیا گیا مگر اس کے اثرات بہت آگے تک دکھائی دے رہے ہیں۔ایسے حالات ایک مرد قلندر اٹھتا ہے اور آیا صوفیا کو مسجد بنانے کا اعلان کرتا ہے۔گویا زخموں پہ پھایہ رکھ دیا۔کلیجوں میں ٹھنڈ پڑ گئ۔۔۔اگرچہ لبرلز کے سینوں پہ آریاں چل رہی ہیں۔
ترکی کی طرف سے امت مسلمہ کو ایک بار پھر متحد کرنے کی یہ کوشش نہایت اہم ا ہے۔ تاہم ، اس وقت اگرچہ نوآبادیاتی دور ختم ہوچکا ہاں ، استعماری سوچ اب بھی قائم ہے ، جو اب ایک نئے انداز میں مسلمانوں کو اکٹھا کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ عالم اسلام سگرچہ فرقہ واریت ، دہشت گردی ، تعصب ، قوم پرستی اور حب الوطنی کے بدبودار نعروں میں الجھا ہوا ہے اور مزید تقسیم کے لئے ایک مہم چلائی جارہی ہے اور عالم اسلام پر قبضہ کریں۔ یمن ، لیبیا اور افغانستان کی بربریت کے بعد ، نوآبادیاتی لٹیروں کا اگلا ہدف مشرق وسطی کے اہم خلیجی ممالک سے لڑنا اور تقسیم کرنا ہے۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر ، یہ ضروری ہے کہ پوری اسلامی دنیا یہودی لٹیروں کے اس قاتلانہ منصوبے پر دوبارہ غور کرے اور یہ کہ ہر مسلمان اپنی امت اور وسعت کے لئے امت مسلمہ کو متحد کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی پر زیادہ ذمہ داری عائد ہے کیونکہ وہ عالم اسلام کے واحد دو ممالک ہیں جو عسکری اور معاشی طور پر مضبوط ہیں۔ عالم اسلام میں ان کا نمایاں مقام ہے۔اور انھیں اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
بقول اقبال
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں