خود کو کنٹرول کیسے کرنا ہے؟یہ ایک اہم موضوع ہے۔ہمیں چلتے چلتے پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہمارا ریمورٹ کنٹرول تو ہمارے ہاتھ سے کب کا نکل گیا۔اور ہم کسی اور کے ہاتھوں کنٹرول ہو رہے ہیں۔
۔۔۔۔
انسان بنیادی طور پر جلد باز واقع ہوا ہے۔وہ ہر چیز پہ ردعمل ظاہر کرتا ہے۔اس حوالے سے دیکھا جاۓ تو کچھ انسان جلد رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔اگر ان دونوں طرح کے لوگوں کے رویوں پر غور کیا جاۓ تو اندازہ ہوتا ہے۔کہ جو لوگ فورا ردعمل ظاہر کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا اپنے اوپر کنٹرول کم ہوتا ہے یا پھر سرے سے ہوتا ہی نہیں۔یہ لوگ آٹو پہ چلتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ جو ردعمل ظاہر نہیں کرتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا اپنے اوپر کنٹرول ہوتا ہے۔یہ اپنا پاز بٹن اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جو لیڈر بنتے اور دنیا کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں۔قائد اعظم ،نیلسن منڈیلا جیسے لوگوں کو اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے۔زندگی میں یہی لوگ آگے بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں۔یہاں تک کہ دنیا ان کو مرنے کے بعد بھی یاد رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود پر کنٹرول کیسے کریں؟
۔۔۔۔
بہت زبردست بات کہی تھی کسی نے کہ کس شخص کی بات دل پر لینے سے پہلے یہ دیکھو اس بندے کی اوقات کیا ہے؟مطلب ہر بندے کی بات اتنی اہم نہیں ہوتی کہ اس پر دل چھوٹا کیا جاۓ اس پر رنجیدہ ہوا جاۓ۔لہذا آج ہی طے کریں اور لسٹ بنائیں کہ اپنے آس پاس رہنے والوں لوگوں میں سے کن کی بات کو سنجیدہ نہیں لینا۔زندگی میں خوش رہنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ایک بات یاد رکھیں دنیا میں سب سے ناقابل بھروسہ چیز انسان کی راۓ ہے جو کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یه سچ هے که حالات پر همارا کنٹرول نهیں هوتا مگر ان پر ری ایکٹ کیسے کرنا یه همارے کنٹرول میں هوتا هے۔ہمیں کبھی بھی دوسروں کو یا حالات کو اپنے اوپر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔کہا جاتا ہے کہ دو موقعوں کو کبھی بھی اجازت نا دو کہ اپنے دماغ پہ طاری کر لو۔ایک خوشی اور دوسری غمی۔دونوں صورتوں میں جذبات بیلنس نہیں ہوتے۔یہ چیز سیکھے بغیر آپ کے رویے کا حصہ نہیں بن سکتی۔اس لیے اس کو پریکٹس میں لے کے آئیں اور روزانہ دس بار خو د سے کہیں میرا اپنا موڈ ہے میں کسی کے موڈ سے نہیں چلتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ پر کنٹرول کیوں ضروری؟
دماغ پر کنٹرول رکھیں نہیں تو یہ آپ کو کنٹرول کرنا شروع کر دے گا۔ہمارا دماغ بندر کی طرح ہر وقت اچھل کود کر رہاہوتا ہے۔یاد رکھیں دماغ کا کوئی دماغ نہیں ہوتا
جو لوگ دماغ پر کنٹرول کھو دیتے ہیں پھر پاگل خانے ان کا ٹھکانہ ہوتے ہیں۔اس لیے حالات و واقعات تبھی آپ کے کنٹرول میں رہ سکتے ہیں جب دماغ آپ کے کنٹرول میں ہوگا۔
۔۔۔۔۔
اپنے دماغ کو پر سکون رکھیں۔
۔۔۔۔۔
کہاجاتا ہے کہ ایک مشہور رائٹر نے اعلان کیا کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کی قیمت بیلن ڈالر میں ہے مگر اس شرط پہ کہ جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا تب کھولنی ہے۔ایسا ہی کیا گیا۔جب کتاب کھولی گئ تو اس پہ دو لائنیں لکھیں تھیں کہ اپنے دماغ کو ٹھنڈا اور پاؤں کو گرم رکھو مطلب غصہ نا کرو اور واک زیادہ کرو۔۔یہ نسخہ اتنا قیمتی ہے اگر سمجھ آ جاۓ تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔
۔۔۔۔
رشتوں کو طاقت بنائیں نا کہ کمزوری۔
۔۔۔۔
ہم جزباتی قوم ہیں جزبات ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔رشتے ہماری طاقت ہوتے ہیں جبکہ ہم کمزوری بنا لیتے ہیں۔اس کے لیے بہترین مثال برصغیر پاک و ہند کی ماؤں کی ہے ہمارا یہاں کا نظام کچھ اسطرح کا ہے کہ عورت کو دبانا فخر سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں وہ بیچاری بچوں کو طاقت بنانے کی بجاۓ کمزوری بنا لیتی ہے جس سے مرد اور شیر ہو جاتے ہیں۔حالانکہ بچے تو طاقت ہوتے ماں کی ۔مگر وہ اپنی جذباتی ناعاقبت اندیشی سے اس کو کمزوری بنا لیتی ہے۔رشتوں کو کبھی اپنی کمزوری مت بنائیں۔ان کو کبھی اجازت نا دیں کہ آپ پر فل کنٹرول حاصل کریں تایا ماما چاچا سے تعلق ضروررکھیں مگر اپنے فیصلوں کی اجازت ہرگز نا دیں۔ہمارے ہاں شادی کرتے وقت ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے پوچھا جاتا لڑکی لڑکے سے نہیں۔جبھی وہ ساری عمر اپنی فرسٹریشن بچوں پر نکالتے۔
۔۔۔۔۔
روپیہ پیسہ آپ کے ہاتھ میں ہونا چاہیے آپ روپے پیسے کے ہاتھ میں نہیں۔
۔۔۔۔۔۔
دولت ہمارے اختیار میں ہونی چاہیے نا کہ دولت خود ہمیں کنٹرول کرنا شروع کر دے۔
بقول اقبال
بندہ خدا بن یا بندہ زمانہ
ہمیشہ رک کر سوچیں کہ کہیں دولت مجھے کنٹرول تو نہیں کر رہی اگر جواب ہاں میں آۓ تو رک جائیں۔کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیں یقین کریں زندگی کا لطف دو بالا ہی نہیں د و آتشی ہو جاۓ گا۔
کچھ چیزیں یمیشہ یاد رکھیں۔
ماضی کو کبھی اپنے اوپر حاوی نا کریں۔اس سے سبق سیکھیں اور بھول جائیں۔بھول جانا ہمیں بہت سے ایسے بوجھ اے آزاد کردیتا جو ہمارے سفر کو بوجھل بناتے ہیں۔
معاف کرنا سیکھیں۔دوسروں کو سپیس دیں۔لوگ آپ کہ جاگیر نہیں ہوتے۔ان کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش مت کریں۔
چیزیں استعمال کے لیے ہوتیں رشتے نہیں۔جبکہ آج کل اس کے الٹ ہو رہا ہے۔رشتوں کی قدر کریں اور چیزیں استعمال تبھی توازن قائم ہوگا۔
۔۔۔
اس راستے پر کبھی مت چلیں جس کے لیے دل نا مانیں۔ہمیشہ اپنے اندر کی آواز سنیں اور اس پر بھروسہ کریں۔
۔۔۔
ہر کام کرنے سے پہلھ سوچیں کہ یہ کام میں کیوں کر رہا ہوں کیا یہی میرے اندر کی آواز بھی ہے یا لوگوں کے خوف سے کر رہا۔
زندگی آپ کی ہے کل کو جواب دی بھی اپ نے ہونا تو کیوں نا اسے اپنی مرضی سے گزاریں۔کیا خیال ہے آپ کا؟
خود پہ کنٹرول کرنا سکھیں