680

دنیا آفتاب رسول ﷺ سے کیسے روشن ہوئی؟

تحریر شئیر کریں

دنیا آفتاب رسول سے کیسے روشن ہوئی؟جانیے قلم کتاب پر

زندگی کتنی خوبصورت ہے اسے دیکھنے کے لیے ڈارک ایج کے آخری سالوں میں جھانکنا ہوگا۔تاریخ دانوں کی جغرافیائی تقسیم کے مطابق ڈارک ایج وہ عہد تھا جو اندھیروں تاریکیوں کی آماجگا تھا۔ایک طرف جہالت کے اندھیرے تو دوسری طرف سورج جو توانائی کا بادشاہ تھا،غائب ہوگیا۔اس کے غائب ہونے سے دنیا ٹھٹھرتے اندھیروں میں غائب ہو کر رہ گئ۔آج اگر جاوید چودھری کا کالم “کیا اسے کے بعد بھی”نا پڑھتی تو میں بھی اندھیرے میں رہتی۔
ہم سیلبس کی کتابوں میں بچپن سے پڑھتے آۓ کہ نبی کریمﷺ جب دنیا میں تشریف لاۓ تو دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔

مجھے لگتا یہ فقرہ جہالت کے اندھیروں کی عکاسی کرتا ہے مگر آج پہلی بار معلوم ہوا کہ صرف جہالت کی تاریکیوں میں ہی نہیں بلکہ درحقیقت اندھیروں میں ڈوبے ہوۓ تھے۔وجہ سورج کا غائب ہو جانا تھا۔ڈاکٹر میکارمک ہارورڈ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیں انھوں نےانسان کا ماضی کیا ہے کے موضوع پر ریسرچ شروع کر دی۔ریسرچ چلتی رہی جب 536ء کا عہد آیا تو ریسرچ کرنے والے ششد رہ گۓ کہ یہ دور اتنا بھیانک تھا تو انسان بچ کیسے گۓ؟واقعہ کچھ یوں کہ سورج زمین کے باسیوں سے روٹھ گیا۔زمین سے سورج کے غائب ہوتے ہی ہر چیز غائب ہونے لگی۔فصلیں اناج؟موسم ،حرارت۔۔۔ہر طرف ٹھٹھرتی سردی تھی۔دریا سمندر جھیلیں سب جم گئیں۔لوگ جانور پکا پکا کر کھاتے پھر وہ بھی غائب ہونے لگے۔ہر چیز جام ہوگی۔منجمد کر دینے والی سردی میں زندگی کی حقیقت کی ابھر کر سامنے آئی ۔کتنے لوگ زندگی ہار گۓ۔بے حدو حساب کوئی گننے والا نا تھا۔پھر قدرت نے اپنا کرم کیا۔زرا سی حرارت پیدا ہوئی۔مگر اس حرارت سے کام نہیں چلنے والا تھا۔ہاں جو لوگ باقی بچے ان میں امید جاگ اٹھی۔
پورے تیس سال لگے دنیا کو اپنی اصل حالت میں واپس پلٹنے کے لیے۔کیونکہ نقصان اتنا ہو چکا تھا کہ دنیا سالوں پیچھے چلی گی۔536 سے 570 آن پہنچا ۔رحمت عالم ﷺ کی پیدائش 22 اپریل 570ء میں ہوئی۔

ڈاکٹر میکارمک کو کون بتاۓ کہ یہی وہ سال تھا جب اللہ نے دنیا کو اپنے آخری نبی سے مبعوث ﷺ فرمایا۔آپ ﷺ کے آنے سے پہلے کے حالات دنیا کی اوقات تھی جو ان کو دکھا کر بتایا گیا کہ یہ تم ہو اب میرا فضل دیکھو۔پھر فضل الہی ہوا۔جہالت چھٹ گئ۔زمین حرارت کو قبول کر کے پھر سے فصلیں اگانے لگی۔ادھر دل کی بنجر زمینوں پہ نور ہدایت کی بارش ہوئی۔سائنس تاریخ اور آرٹس مل گۓ۔دنیا ایک نقطے پہ ٹھہر گئ۔محمد عربی ﷺ کی رسالت اور اس کے گرد پھوٹتی روشنیا ں جس کی چکا چوند رہتی دنیا تک دنیا والوں کو گرماتی رہے گی۔لاکھوں کروڑوں درودو سلام نبی ﷺ پر جن کے آنے سے دنیا کو حرارت نصیب ہوئی ۔

یہ بھی پڑھیے

کالم کیسے لکھیں؟

اللہ نے ہر دور میں اپنے محبوب نبی ﷺ کی عظمت و رسالت کے گواہی کے لیے حقائق ابھرتے رہتے مگر جن کے دل اندھے ہو جائیں ان کو یہ روشنیاں کہاں دکھائی دیتی ہیں۔محسن انسانیت ﷺ کا وجود عطہر جس سرزمین پہ سالوں چلتا پھرتا رہا۔جس سرزمین کو یہ شرف حاصل ہوا،جہاں آپ ﷺ کا روضہ بنا۔مدینہ منورہ ،اس شہر کو ماحولیات کے ماہرین نے دنیا کا سب سے کم آلودہ اور صحت افزاء مقام قرار دے کر ایک بار پھر دنیا کو انہی کی ریسرچ کے زریعے بتا دیا کہ میرے رسول ﷺ پہ کیچڑ اچھالنے والو اللہ کے محبوب پیغمبر کا تو شہر بھی آلودہ نہیں ہو سکتا ان کی ذات تو بہت دور کی بات ہے۔

سوال یہ ہے کہ اہل مغرب کو ڈارک ایج کا آخری عہد اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ یاد ہے۔مگر اس آخری عہد کے تابندہ ستارے کی روشنی کو کملانے کے لیے وہ کیا کچھ نہیں کر
رہے کبھی گستاخانہ خاکے تو کبھی توہین رسالت ،کیا اس سب کے بعد بھی یہ زیب دیتا ہے ۔اہل مغرب کو تو اس عظیم پیغمبر ﷺ کا احسان مند ہونا چاہیے تھا جن کے آنے سے ان کو تاریکیوں سے نجات ملی۔

اہل مغرب ایک ریسرچ خلوص نیت سے اس پہ بھی کریں کہ دنیا آفتاب رسول ﷺ سے کیسے روشن ہوئی؟

مصطفیﷺ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں