308

شادی شدہ زندگی کیسے بہتر بنائیں؟

تحریر شئیر کریں

شادی شدہ زندگی کیسے بہتر بنائیں؟


ہماری زندگی پر جو چیز سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے وہ ہے ہماری نیت اب نیت صاف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے دل میں دوسروں کے خلاف جو بات بھی آ رہی ہے آپ فوراً منہ پر کہہ دیں اور جواز یہ دیں کہ میں دل کی صاف ہوں کوئی بات دل میں نہیں رکھتی

شادی شدہ زندگی میں ہر ہر جملہ بولنے سے پہلے سوچیں کہ اس کا کیا اثر ہو گا حکمت کے ساتھ پر اثر گفتگو کریں.

ایک ساس ہونے کی حیثیت سے ایسے جملے مت بولیں*

بیٹا یہ یہاں نہ رکھنا

یہ برتن نہ استعمال کرنا

صبح جلدی آٹھ کر کام والی سے کام کروا لینا

جب سلاد بناؤ تو یہ مت ڈالنا

یقین مانیے وہ وقت کے ساتھ بہت جلد آپ کے گھر کا طریقہ سیکھ لے گی اس لیے ٹوکا ٹوکیو مت کریں برتن کی ویلیو نہیں انسان کی ویلیو ہے ابھی بہو کے ساتھ ریلیشنز بنا نہیں اور آپ اس کی تربیت کرنا چاہتی ہیں اسے وقت تو دیں سیکھ جاۓ گی.

منفی سوچ کو مزید بڑھاوا مت دیں کوئی آپ سے بہو کی ایک برائی کرے اسے فوراً مثبت سمت کی طرف لے کر جائیں کہ آپ کی بہو میں اگر یہ ایک برائی ہے تو کافی زیادہ خوبیاں بھی ہوں گی.

بہو اگر دیر سے اٹھ رہی ہے تو ساس کی کیا سوچ ہے یہی کہ ذمہ دار نہیں اس کی تربیت نہیں ہوئی*

اور بہو کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ وہ رات دیر تک بچے کے ساتھ جاگی ہے لہذا وہ سو گئی

دونوں کو ایک دوسرے کو مارجن دینا چاہیے.

ایک اور صورت حال دیکھتے ہیں
بہو نے کہیں جانا ہے اور بیٹا کہتا ہے امی سے اجازت لو بہو تنگ دلی سے اجازت لیتی ہے

حالانکہ ساس کو صرف اس بات کی خوشی ہوتی ہے
کہ اسے عزت دی گئی ہے بڑا سمجھا گیا ہے.

دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں

یاد رکھیں
ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اسے مکمل طور پر خوشیاں نہیں دے سکتے

اگر آپ غور کریں تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں اگر ہم تھوڑے سے صبر کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں تو ہماری زندگی بہتری کی طرف آنے لگتی ہے.*

اور اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ حالات بدلیں سب لوگ خود کو بدلیں اور خوشیاں بھی ہمیشہ رہیں تو آپ مایوسی کی گہرائی میں گرتی جائیں گی* کیونکہ ایک مسئلہ ختم نہیں ہو گا کہ اگلا آ جائے گا.

ہماری مشکلات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے پرفیکٹ امیج بنائی ہوتی ہے ہر رشتے کے حوالے سے ایک بات یاد رکھیں ہم سب انسان ہیں اور انسان غلطی کرتے ہیں اونچ نیچ ہر جگہ ہوتی ہے ایڈجسٹ کرنے کی عادت ڈالیں

عورتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے نظریات لے کر معاشرے میں عدم برداشت بہت بڑھ چکا ہے.

اب اگر آپ کو خود کو بدلنا چاہتی ہیں مضبوط بننا چاہتی ہیں تو درج ذیل کام کریں

جسمانی صحت کا خیال رکھیں

اگر آپ کے اردگرد کوئی بیمار ہے تو اسے مارجن دیں.

روحانی طور پر مضبوط بنیں نظر بد کا دم کریں شیطانی وسوسوں سے بچیں قرآن کی تلاوت کریں

آپ دوسروں پر غصہ کرتی ہیں معاف نہیں کر پاتیں دوسروں کے بارے میں دل میں نفرت ہے یا حسد کے جذبات آ رہے ہیں سب سے پہلے اسے accept کریں کہ مجھے خود کو بدلنے کی ضرورت ہے

دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں یہ آپ کا اپنے ساتھ ہی بھلا ہو گا کیونکہ جب آپ بدلے کی آگ میں جل رہی ہوتی ہیں اوردوسرے بندے کو پتہ بھی نہیں ہوتا تو نقصان تو آپ کا ہی ہوتا ہے اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کر کے آگے بڑھتے رہیں اگر آپ کومشکل لگ رہا ہے تو اپنی کسی ایمانی بہن سے بات کریں اور مدد لیں بار بار خود کو سمجھائیں.

اور آخری بات

اپنا ماسٹر پلین اپنے پاس رکھیں مثلا اگر بہو کسی بات کی اجازت مانگنے آۓ تو یہ مت کہیں کہ میں مائنڈ نہیں کرتی جب مرضی آؤ جاؤ

جب بیٹا آپ کے پاس بیٹھا ہے تو یہ مت کہیں کہ اپنی بیوی کو ٹائم دو اور جب میاں بیوی کے پاس ٹائم گزار رہا ہے تو بیوی بھی یہ نہ کہے کہ آپ آپنی امی کو ٹائم دیں

ٹوکا ٹوکیو بھی نہ کریں اور بالکل آذاد بھی مت چھوڑیں

.شادی شدہ زندگی کیسے بہتر بنائیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں