
اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر شام کے صدر احمد الشرع کی ایک تحریر نے سوشل میڈیا پر خاص توجہ حاصل کی۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مہمانوں کے رجسٹر میں احمد الشرع نے قرآن مجید کی سورۃ التوبہ کی آیت 105 تحریر کی۔ آیت کے ساتھ ان کے دستخط بھی موجود تھے۔ یہ واقعہ 23 ستمبر 2026 کو پیش آیا۔
لکھی گئی آیت کے الفاظ ہیں:
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهٗ وَالْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلٰى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
یہ سورۃ التوبہ، آیت 105 ہے۔ قرآن کریم میں اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا کہ لوگوں سے کہہ دیجیے: تم عمل کرو، اللہ، اس کا رسول اور اہل ایمان تمہارے اعمال کو دیکھیں گے، پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتی ہے، اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے آگاہ کر دے گی۔
احمد الشرع نے کیا لکھا؟
دستیاب رپورٹوں کے مطابق احمد الشرع نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مہمانوں کے رجسٹر میں آیت 105 کے الفاظ «وقل اعملوا فسيرى الله عملكم ورسوله والمؤمنون» تحریر کیے۔ مختلف ذرائع نے بھی اسی آیت کی تصدیق کی ہے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ آیت انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر کے متن کے طور پر نہیں لکھی تھی، بلکہ اقوام متحدہ میں موجود مہمانوں کے رجسٹر میں درج کی تھی۔ اسی روز انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کیا جس میں شام کی صورتحال، ملک کی وحدت، خودمختاری، بحالی اور علاقائی معاملات پر گفتگو کی۔
آیت کا اصل پیغام
سورۃ التوبہ کی یہ آیت بظاہر مختصر ہے، لیکن اس میں انسان کے عمل اور اس کی جواب دہی کا ایک بہت گہرا تصور موجود ہے۔ آیت کا مرکزی لفظ اعْمَلُوا ہے، یعنی عمل کرو۔ قرآن محض دعوے اور الفاظ پر توجہ نہیں دلاتا بلکہ انسان کو اس کے عملی کردار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اس کے فوراً بعد فرمایا گیا: فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ، یعنی اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا۔ اس میں ایک مسلمان کے لیے بہت بڑی ذمہ داری کا احساس ہے کہ اس کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں۔ انسان لوگوں سے کچھ چھپا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کچھ پوشیدہ نہیں۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا ذکر آتا ہے۔ مفسرین نے اس حصے کی مختلف تفسیری توضیحات بیان کی ہیں۔ بنیادی مضمون یہ ہے کہ انسان کے اعمال ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے کردار کا اثر معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو اس کے عمل کی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔
آیت میں حکمرانوں کے لیے سبق
اگرچہ یہ آیت صرف حکمرانوں کے لیے مخصوص نہیں، لیکن اقتدار اور ذمہ داری رکھنے والے ہر شخص کے لیے اس میں ایک اہم اخلاقی سبق ضرور ہے۔ جس شخص کے پاس عوام کی ذمہ داری ہو، اس کے فیصلے، اقدامات اور طرزِ عمل صرف اس کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ بہت سے لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس اعتبار سے اعملوا کا پیغام بہت معنی خیز ہے: اصل اہمیت عمل کی ہے۔ محض الفاظ، دعوے یا وعدے کافی نہیں ہوتے؛ انسان کے اعمال ہی اس کے کردار کی حقیقی آزمائش بنتے ہیں۔
تاہم کسی بھی حکمران کے بارے میں صرف ایک آیت لکھنے کی بنیاد پر یہ حتمی فیصلہ کرنا درست نہیں کہ وہ قرآن کی تمام تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہے۔ کسی فرد کے مجموعی کردار اور حکومتی کارکردگی کا جائزہ اس کے عملی اقدامات، فیصلوں اور مکمل ریکارڈ کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
سورۃ التوبہ کا پس منظر
سورۃ التوبہ قرآن مجید کی نویں سورت ہے اور مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں توبہ، ایمان، نفاق، جہاد، صدق و اخلاص، اللہ کی راہ میں جدوجہد اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات سمیت متعدد اہم موضوعات بیان ہوئے ہیں۔
آیت 105 کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے صرف ایک عمومی حوصلہ افزا جملہ سمجھ لینا مکمل مفہوم نہیں دیتا۔ آیت کے آس پاس کے مضامین میں ایسے لوگوں کا ذکر بھی ہے جن کے اعمال اور رویے کا معاملہ زیر بحث ہے۔ اس لیے آیت کا ایک نمایاں پہلو عمل کی جواب دہی اور اپنے کردار کے انجام کا احساس بھی ہے۔
عمل اور جواب دہی
اس آیت کا سب سے مؤثر پیغام یہی ہے کہ انسان کو اپنے عمل کے بارے میں بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہے۔ دنیا میں کسی عمل کا نتیجہ فوراً سامنے آئے یا دیر سے، آخرت میں انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔
آیت کے آخری الفاظ اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں:
وَسَتُرَدُّونَ إِلٰى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ
یعنی تم سب اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور ظاہر سب کو جاننے والی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا کہ وہ تمہیں بتا دے گی کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔
یہاں انسان کے لیے ایک بہت گہری تربیت ہے: عمل کرتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ دنیا کیا دیکھ رہی ہے، بلکہ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔
قرآن سے تعلق کی ایک جھلک
احمد الشرع کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر قرآن کی ایک آیت تحریر کرنا ایک قابلِ ذکر واقعہ ضرور ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ تحریر اقوام متحدہ جیسے عالمی سفارتی مرکز میں سامنے آئی۔ خبر رساں اداروں نے بھی اسی پہلو کو نمایاں کیا کہ شامی صدر نے اقوام متحدہ کے رجسٹر میں قرآن کی آیت درج کی۔
البتہ قرآن سے تعلق کا حقیقی معیار صرف یہ نہیں کہ انسان قرآن کی آیات لکھے یا پڑھے۔ قرآن خود انسان کو عمل کی طرف بلاتا ہے۔ اس لیے اس واقعے سے جو سب سے خوبصورت سبق لیا جا سکتا ہے وہ یہی ہے کہ قرآن کی آیت زبان، قلم اور کتاب سے نکل کر کردار اور عمل میں بھی نظر آنی چاہیے۔
آیت ہمارے لیے بھی
یہ آیت کسی ایک صدر، حکمران یا ملک کے لیے نہیں بلکہ قرآن پڑھنے والے ہر انسان کے لیے غور و فکر کا پیغام رکھتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے دائرے میں ذمہ دار ہے۔ کوئی گھر کا سربراہ ہے، کوئی استاد ہے، کوئی والدین کی خدمت کر رہا ہے، کوئی بچوں کی تربیت کر رہا ہے اور کوئی اپنے پیشے کے ذریعے دوسروں کے حقوق سے متعلق ہے۔
ہر شخص کے لیے سوال ایک ہی ہے: ہم کیا عمل کر رہے ہیں؟
ہماری عبادت، معاملات، گفتگو، امانت، وعدے، دوسروں کے حقوق، رزق کمانے کا طریقہ اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ سب ہمارے اعمال کا حصہ ہیں۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اعمال صرف لوگوں کی نظر میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی ہیں۔
ایک آیت، ایک بڑی یاد دہانی
اقوام متحدہ کے رجسٹر میں لکھی گئی یہ آیت اپنی جگہ ایک مختصر تحریر تھی، لیکن اس کا پیغام بہت وسیع ہے۔ وَقُلِ اعْمَلُوا — عمل کرو۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور آخرت کی جواب دہی کا ذکر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو صرف ایک سیاسی واقعے کے طور پر دیکھنے کے بجائے قرآن کے ایک بنیادی اخلاقی سبق کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ بے معنی نہیں ہوتا۔ اس کے اعمال دیکھے جاتے ہیں، محفوظ ہوتے ہیں اور بالآخر اسے اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہے۔
احمد الشرع نے 23 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کے مہمانوں کے رجسٹر میں سورۃ التوبہ کی آیت 105 درج کی۔ اس واقعے کی خبر اپنی جگہ ہے؛ جبکہ آیت کا اصل پیغام اس سے کہیں وسیع ہے اور ہر مسلمان کو اپنے عمل، ذمہ داری اور آخرت کی جواب دہی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔