76

گلیشیئر پر کمبل

تحریر شئیر کریں

Glacier per kambal kio?

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کے سرد ترین علاقوں میں موجود برفانی تودوں کو بھی کبھی ’’کمبل‘‘ کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟

یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے کہ چین میں سائنس دانوں نے بعض گلیشیئرز کے حصوں کو بڑے بڑے سفید کمبل نما کپڑے سے ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔ آخر جس جگہ پہلے ہی کئی میٹر موٹی برف موجود ہو، وہاں کمبل بچھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس سوال کے پیچھے ایک ایسی حقیقت چھپی ہے جو صرف چین کے گلیشیئرز تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑے ماحولیاتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

وہ مسئلہ ہے: گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا۔

گلیشیئر آخر پگھل کیوں رہے ہیں؟

گلیشیئر دراصل برف کے وہ بڑے ذخائر ہیں جو کئی برسوں، بلکہ بعض مقامات پر ہزاروں برسوں میں برف کے مسلسل جمع ہونے اور دباؤ کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں۔ یہ صرف خوبصورت برفانی پہاڑ نہیں بلکہ دنیا کے اہم قدرتی آبی ذخائر بھی ہیں۔

جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو گلیشیئر کی سطح پر موجود برف زیادہ تیزی سے پگھلنے لگتی ہے۔ موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ برف کے جمع ہونے اور پگھلنے کے درمیان توازن بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر برف جتنی مقدار میں جمع ہو رہی ہو، اس سے زیادہ مقدار میں پگھلنے لگے تو گلیشیئر پیچھے ہٹنے اور سکڑنے لگتا ہے۔

چین بھی اس تبدیلی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ 2025ء میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق چین کے گلیشیئرز کا مجموعی رقبہ 1960ء کے بعد سے تقریباً 26 فیصد کم ہو چکا تھا، جبکہ تقریباً 7,000 چھوٹے گلیشیئر مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے۔

پھر کمبل کیوں بچھایا؟

اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔

چین میں بعض گلیشیئرز پر استعمال ہونے والے یہ ’’کمبل‘‘ عام لحاف یا کمبل نہیں ہوتے۔ انہیں عموماً geotextile blankets یا insulating covers کہا جاتا ہے۔ ان کا مقصد گلیشیئر کو سردی پہنچانا نہیں بلکہ سورج کی شعاعوں اور حرارتی توانائی کے اثر کو کم کرنا ہوتا ہے۔

دن کے وقت سورج کی توانائی برف کی سطح تک پہنچتی ہے۔ برف اس توانائی کا ایک بڑا حصہ منعکس کرتی ہے، لیکن جب سطح کی خصوصیات تبدیل ہوں یا برف کم ہو جائے تو زیادہ توانائی جذب ہو سکتی ہے، جس سے پگھلنے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔

سفید یا reflective cover اس عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بعض موٹے covers حرارتی رکاوٹ کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، یعنی وہ سطح تک پہنچنے والی حرارت کے برف تک منتقل ہونے کو محدود کرتے ہیں۔

یوں سمجھ لیجیے کہ سائنس دان گلیشیئر کو ہمیشہ کے لیے بچانے کا دعویٰ نہیں کر رہے؛ وہ اس کے پگھلنے کی رفتار کو کچھ وقت کے لیے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈاگو گلیشیئر کا تجربہ

چین کے سیچوان کے علاقے میں واقع Dagu Glacier اس حوالے سے خاص طور پر زیرِ بحث آیا ہے۔

اس گلیشیئر کے ایک حصے پر بڑے reflective/geotextile covers استعمال کیے گئے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مصنوعی حفاظتی تہہ برف کے پگھلنے کی رفتار کو کس حد تک کم کر سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق Dagu Glacier کئی دہائیوں سے سکڑ رہا ہے، اور وہاں اس نوعیت کے تجربات کا مقصد گلیشیئر کے حساس حصے کو کچھ عرصے کے لیے اضافی حرارتی اثر سے بچانا تھا۔

یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے۔

یہ کوئی ایسا جادوئی طریقہ نہیں جس سے پگھلتے ہوئے گلیشیئر کو دوبارہ صدیوں پرانی حالت میں واپس لایا جا سکے۔

یہ صرف temporary intervention ہے۔

یعنی بنیادی بیماری اپنی جگہ موجود ہے اور یہ صرف اس کے اثر کو کچھ دیر کے لیے کم کرنے کی کوشش ہے۔

کیا واقعی کمبل کام کرتا ہے؟

کچھ تجربات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مخصوص حالات میں ایسے covers برف کے پگھلنے کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے تمام گلیشیئرز کو کمبل سے ڈھانپ دینا climate change کا حل بن جائے گا۔

ایک گلیشیئر کو ڈھانپنا محدود رقبے پر ممکن ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں سیاحتی، سائنسی یا پانی کے لحاظ سے کوئی خاص اہمیت ہو۔ لیکن دنیا کے ہزاروں گلیشیئرز کے وسیع رقبے پر ایسا کرنا عملی طور پر انتہائی مشکل، مہنگا اور محدود فائدے والا کام ہوگا۔

اسی لیے سائنس دان ایسی تکنیکوں کو بنیادی حل کے بجائے temporary یا localized adaptation measure کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اصل مسئلہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔

چین کا دوسرا تجربہ

چین میں گلیشیئرز کو بچانے کے لیے صرف blankets ہی زیرِ تجربہ نہیں رہے۔

ماضی میں چینی سائنس دانوں نے Muz Taw Glacier پر artificial snow سے متعلق تجربہ بھی کیا۔ خیال یہ تھا کہ تازہ برف گلیشیئر کی سطح کو زیادہ سفید اور reflective بنائے گی، جس سے سورج کی توانائی کا زیادہ حصہ واپس منعکس ہو سکے گا۔

2018ء کے ایک ابتدائی تجربے میں مصنوعی برف سے متاثرہ حصے میں ice loss میں تقریباً 14 سے 17 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم اسے ابتدائی نتیجہ قرار دیا گیا اور مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

یہاں بھی وہی اصول کام کرتا ہے:

زیادہ سفید سطح → زیادہ sunlight reflection → کم solar energy absorption → ممکنہ طور پر کم melting۔

لیکن یہ بھی گلیشیئرز کے پگھلنے کی بنیادی وجہ ختم نہیں کرتا۔

برف صرف خوبصورتی نہیں

ہم اکثر گلیشیئر کو صرف پہاڑوں کی خوبصورتی، سیاحت اور برفانی مناظر کے طور پر دیکھتے ہیں۔

حقیقت اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

گلیشیئرز قدرتی پانی کے ذخائر ہیں۔ سرد موسم میں برف جمع ہوتی ہے اور گرم موسم میں اس کا کچھ حصہ پگھل کر دریاؤں اور ندیوں کے نظام میں پانی شامل کرتا ہے۔

اسی لیے جب گلیشیئر تیزی سے سکڑتے ہیں تو مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ پہاڑ سے برف کم ہو رہی ہے۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ آنے والے برسوں میں پانی کا قدرتی نظام کیسے بدلے گا۔

ابتدائی طور پر تیزی سے پگھلنے سے بعض علاقوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں جب برفانی ذخائر مسلسل کم ہوتے جائیں تو خشک موسم میں پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی کے ساتھ پگھلتے ہوئے گلیشیئر بعض علاقوں میں glacial lakes کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جن کے اچانک پھٹنے سے خطرناک سیلاب پیدا ہو سکتے ہیں۔

کیا کمبل دنیا کو بچا سکتے ہیں؟

نہیں۔

کمبل دنیا کو climate change سے نہیں بچا سکتے۔

لیکن یہ ہمیں ایک اہم سبق ضرور دیتے ہیں۔

جب کسی مسئلے کا فوری اور مکمل حل ہمارے پاس نہ ہو تو سائنس دان اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے چھوٹے اور مخصوص تجربات کرتے ہیں۔

گلیشیئر پر سفید cover بچھانا اسی سوچ کی ایک مثال ہے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک مریض کو وقتی طور پر درد کم کرنے کی دوا دی جائے، جبکہ اصل بیماری کے علاج کے لیے الگ کوشش جاری ہو۔

گلیشیئر کے معاملے میں اصل مسئلہ greenhouse gas emissions اور عالمی درجہ حرارت میں طویل مدتی اضافہ ہے۔

اگر درجہ حرارت مسلسل بڑھتا رہا تو چند گلیشیئرز کے کچھ حصوں پر کمبل بچھانے سے پوری دنیا کے برفانی ذخائر محفوظ نہیں کیے جا سکتے۔

ایک حیران کن حقیقت

گلیشیئر کو کمبل پہنانے کی خبر سن کر شاید ہمیں یہ محسوس ہو کہ انسان نے قدرت کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔

لیکن اس کے پیچھے ایک اور پہلو بھی ہے۔

یہ دراصل انسان کی اس کوشش کی علامت ہے کہ وہ اپنی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلی کے نتائج کو سمجھنے اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف گلیشیئر کو بچانے کی کوشش کریں گے یا اس ماحول کو بھی بہتر کریں گے جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہا ہے؟

کیونکہ اگر ایک طرف ہم گلیشیئر کو سفید کمبل سے ڈھانپیں اور دوسری طرف عالمی سطح پر warming بڑھتی رہے تو یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوگا۔

پاکستان کے لیے بھی اہم سبق

یہ موضوع پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔

پاکستان کا شمالی علاقہ دنیا کے اہم پہاڑی اور برفانی نظاموں میں شامل ہے۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے پاکستان کے پانی کے نظام سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

اسی لیے دنیا کے کسی دوسرے حصے میں گلیشیئر کے پگھلنے کی خبر صرف ’’وہاں‘‘ کی خبر نہیں رہتی۔

ہمارے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے ذخائر کیسے محفوظ کیے جائیں گے، پہاڑی علاقوں میں خطرات کی نگرانی کیسے بہتر ہوگی اور climate change کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

اصل حل کیا ہے؟

گلیشیئر پر کمبل بچھانا ایک دلچسپ سائنسی تجربہ ہے، مگر اصل حل کہیں زیادہ بڑا ہے۔

توانائی کے صاف ذرائع کو فروغ دینا، greenhouse gas emissions کم کرنا، جنگلات اور قدرتی ecosystems کی حفاظت کرنا، پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، بہتر climate monitoring کرنا اور vulnerable علاقوں کے لیے early warning systems مضبوط بنانا اس بڑے مسئلے سے نمٹنے کے اہم حصے ہیں۔

سائنس ہمیں مسئلہ سمجھنے اور اس کے اثرات کم کرنے کے طریقے دے سکتی ہے۔

لیکن climate change کی رفتار کو حقیقتاً کم کرنے کے لیے emissions میں کمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ایک چھوٹا سا کمبل، ایک بڑا سوال

چین کے گلیشیئر پر بچھا ہوا سفید کمبل بظاہر ایک عجیب منظر ہے۔

مگر غور کریں تو یہ صرف برف کو ڈھانپنے کی کہانی نہیں۔

یہ انسان اور بدلتی ہوئی زمین کے درمیان ایک گفتگو ہے۔

ایک طرف وہ گلیشیئر ہے جو ہزاروں سال سے قدرتی نظام کا حصہ رہا۔

دوسری طرف جدید انسان ہے جو اب اسے بچانے کے لیے مصنوعی کمبل، artificial snow اور دوسری تکنیکیں آزما رہا ہے۔

شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ چین گلیشیئرز کو کمبل کیوں پہنا رہا ہے؟

اصل سوال یہ ہے:

ہم نے زمین کو اس مقام تک پہنچنے کیوں دیا جہاں گلیشیئرز کو بھی کمبل کی ضرورت پڑنے لگی؟

اور شاید اسی سوال کا جواب آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

گلیشیئر پر بچھا کمبل برف کو کچھ دیر بچا سکتا ہے، مگر بدلتی ہوئی آب و ہوا کا حل صرف کمبل نہیں۔

ماخذ

چین کے گلیشیئرز کے رقبے میں کمی اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے متعلق اعداد و شمار کے لیے Reuters کی رپورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

Dagu Glacier پر geotextile blanket کے تجربات اور اس کے مقصد سے متعلق معلومات کے لیے متعلقہ سائنسی اور صحافتی رپورٹنگ قابلِ مطالعہ ہے۔

Muz Taw Glacier پر artificial snow کے تجربے اور ice loss میں ابتدائی کمی سے متعلق رپورٹنگ بھی اس موضوع کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں