177

جزیرہ ہرمز کی سرخ بارش

تحریر شئیر کریں

جزیرہ ہرمز کی سرخ بارش

ایران کے جنوبی ساحل پر خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ ہرمز نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی جب بارش کے بعد پانی اور ساحل سرخ نظر آئے۔ عوام نے اسے “خونی بارش” کہا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معجزہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور قدرتی عمل ہے۔

سرخ بارش کی اصل وجہ

جزیرہ ہرمز کی مٹی میں آئرن آکسائیڈ (Hematite) کی زیادہ مقدار موجود ہے، جو مٹی کو گہرا سرخ رنگ دیتی ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو یہ سرخ مٹی پانی میں شامل ہو جاتی ہے اور ندیوں، نالوں اور ساحل تک پہنچ کر پانی کو خون جیسا سرخ رنگ دے دیتی ہے۔

لمبے عرصے تک بارش نہ ہونے کی وجہ

جزیرے کی سطح کی مٹی خشک اور سخت ہو جاتی ہے جب طویل عرصے تک بارش نہ ہو۔ اچانک شدید بارش کے دوران یہ سخت مٹی پانی کے ساتھ مل کر بہہ جاتی ہے، اور ساحل اور لہریں سرخ نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بارش کے بعد یہ منظر سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

سرخ پانی کیوں خون جیسا لگتا ہے؟

جب آئرن آکسائیڈ کے باریک ذرات پانی میں معلق ہوتے ہیں، تو وہ روشنی کے مختلف طولِ موجوں کو جذب اور منعکس کرتے ہیں۔ نتیجتاً پانی، ریت اور لہریں گہرا سرخ رنگ اختیار کر لیتی ہیں، جسے دیکھ کر لوگ اسے “خونی بارش” کہتے ہیں۔

کیا یہ خطرناک ہے؟

سائنس دانوں کے مطابق یہ سرخ پانی صحت یا ماحول کے لیے خطرناک نہیں۔ یہ محض زمین کی معدنیات، مٹی اور موسمی حالات کا نتیجہ ہے، اور دنیا کے دیگر معدنی علاقوں میں بھی اسی طرح کے قدرتی مظاہر دیکھے جا سکتے ہیں۔

قدرتی حسن اور سیاحت

جزیرہ ہرمز کی سرخ زمین اور ساحل دنیا بھر کے سیاحوں اور فوٹوگرافرز کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ یہ مناظر ہمیں اللہ کی تخلیق میں رنگوں، معدنیات اور نظام کی حکمت کا احساس دلاتے ہیں۔

نتیجہ

جزیرہ ہرمز کی سرخ بارش حیرت انگیز نظر آتی ہے، مگر اس کے پیچھے سائنسی اور قدرتی اصول کارفرما ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فطرت کے غیر معمولی مناظر ہمیشہ علم اور تحقیق کے ذریعے سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

–

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں