
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ سوال انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے:
“کیا یہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے پیدا کیا گیا؟” (سورۃ الغاشیہ: 17)
یہ صرف ایک جانور کا ذکر نہیں بلکہ انسان کو مشاہدہ، تحقیق اور علم کی طرف لے جانے والا ایک عظیم فکری دروازہ ہے۔ جدید سائنس اور حیوانیات کی تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اونٹ واقعی قدرت کی ایک منفرد تخلیق ہے۔
اونٹ کا جسمانی نظام اور بقا کی حیرت انگیز صلاحیت
جدید حیاتیاتی تحقیق کے مطابق اونٹ کو ایسے ماحول کے لیے تخلیق کیا گیا ہے جہاں پانی اور خوراک کی شدید کمی ہوتی ہے۔ یہ جانور کئی دن تک بغیر پانی کے زندہ رہ سکتا ہے اور اپنے جسم میں موجود نظام کے ذریعے پانی کے ضیاع کو انتہائی کم کر دیتا ہے۔ اونٹ ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں پانی پی سکتا ہے اور پھر اسے آہستہ آہستہ استعمال کرتا ہے تاکہ طویل عرصے تک زندہ رہ سکے۔
خون کے خلیات کی منفرد ساخت
سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اونٹ کے خون کے سرخ خلیات عام ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ یہ منفرد ساخت اسے شدید پانی کی کمی کے باوجود خون کو گاڑھا ہونے سے بچاتی ہے اور جسم میں دورانِ خون کو برقرار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اونٹ ڈی ہائیڈریشن کے باوجود زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کوہان کا اصل نظام
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اونٹ اپنی کوہان میں پانی ذخیرہ کرتا ہے، لیکن جدید سائنس واضح کرتی ہے کہ وہاں پانی نہیں بلکہ چربی (fat) محفوظ ہوتی ہے۔ یہ چربی ضرورت پڑنے پر توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور جسم کو طویل عرصے تک طاقت فراہم کرتی ہے۔ یہ ایک قدرتی انرجی اسٹوریج سسٹم ہے جو سخت حالات میں بقا کو ممکن بناتا ہے۔
درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کا نظام
اونٹ کا جسم صحرا کے شدید گرم موسم میں بھی خود کو ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ اس کا جسمانی درجہ حرارت دن اور رات کے حساب سے بدل سکتا ہے تاکہ پسینے کے ذریعے پانی کا ضیاع کم سے کم ہو۔ یہ نظام جدید سائنس میں adaptive thermoregulation کہلاتا ہے۔
ناک، آنکھیں اور سانس کا حیرت انگیز نظام
اونٹ کی ناک کی اندرونی ساخت ایسی ہے کہ ریت آسانی سے اندر داخل نہیں ہو سکتی اور سانس کے دوران نمی دوبارہ جسم میں جذب ہو جاتی ہے۔ اس کی آنکھیں لمبی پلکوں اور حفاظتی جھلی کی وجہ سے ریت کے طوفان سے محفوظ رہتی ہیں، جبکہ آنکھوں کی ساخت اسے شدید موسمی حالات میں بھی دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔
پاؤں کی ساخت اور صحرا میں حرکت
اونٹ کے پاؤں چوڑے اور نرم ہوتے ہیں جو ریت پر وزن کو برابر تقسیم کرتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ نرم ریت میں دھنسے بغیر آسانی سے چل سکتا ہے۔ یہ قدرتی ڈیزائن اسے صحرا کے ماحول میں بہترین موافقت دیتا ہے۔
قرآن اور سائنس کا فکری ملاپ
قرآن کریم کسی سائنسی کتاب کی طرح تفصیلات بیان نہیں کرتا بلکہ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ جب انسان اونٹ جیسے جانور پر تحقیق کرتا ہے تو اسے حیاتیات، فزکس، ماحولیات اور قدرتی نظاموں کی گہری سمجھ حاصل ہوتی ہے۔ یہ مشاہدہ انسان کو اس حقیقت تک پہنچاتا ہے کہ کائنات ایک منظم اور حکمت سے بھرپور نظام پر قائم ہے۔
نتیجہ
اونٹ صرف ایک جانور نہیں بلکہ قدرت کی ایک مکمل انجینئرنگ مثال ہے۔ اس کی ساخت، بقا کا نظام اور ماحول سے مطابقت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر چیز ایک خاص حکمت کے تحت تخلیق کی گئی ہے۔ جتنا انسان غور کرتا ہے، اتنا ہی اس پر علم کے نئے دروازے کھلتے جاتے ہیں۔