آم کا نام آتے ہی منہ پانی سے بھر جاتا ہے۔آم اپنی لذت اور غذائی خصوصیات کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔یہاں تک کہ پھلوں کی سرداری بھی اپنے نام کروا چکا۔۔۔
پر ایک قوم ایسی ہے جن کے لیے آم بڑی آزمائش ہے۔وہ ہیں شوگر کے مریض۔۔۔جی ہاں تو یہ بڑی صابر مخلوق ہے جو پورا سیزن چکھنے پہ اکتفا کرتی ہے۔اور جو اس سے آگے گزرتے ہیں پھر شوگر ان کے آدھے نہیں ،پونے بھی نہیں پورے کے پورے چودہ طبق روشن کر دیتی ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو ایک چوسا آم سارا دن لگا کر چوس چوس کر کھاتے ہیں وہ بھی کبھی کبھار۔۔۔کیونکہ کچھ ڈاکڑز کے مطابق اگر شوگر والے آم کھانا هی چاهتے تو پورے دن میں وه بھی کبھی کبھی یه چسکا کر سکتے۔۔۔۔
تو جناب شوگر کے مریضوں کے لیے آم بهت بڑی آزمائش ہے۔کھا لیں تب بھی اور نا کھائیں تب بھی۔۔۔آم چھوڑ دینا پل صراط سے گزرنا ہے۔ایسے لوگ جب کسی ریڑھی پر پڑے تازہ تازہ رس بھرے آم دیکھتے ہیں تو دل مسوس کر رہ جاتے ہیں۔
ایسے میں ڈاکٹرز حضرات اپنے مشورے دیتے رہتے ہیں کہ شوگر کے مریض کب اور کیسے اس پھل کو کھائیں کہ نقصان کم سے کم ہو۔۔
سب سے پہلی بات آم تب کھائیں جب شوگر کنٹرول اور لو ہو۔۔
آم ہمیشہ دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان کھائیں۔
آم کبھی بھی چاول کے ساتھ نا کھائیں۔
اور جب شوگر ہائی ہو تو تب بھی مت کھائیں۔اور ہاں جب کھائیں تو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑیں۔اور آم کا شیک اور جوس کسی صورت استعمال مت کریں۔
376