امام حسین کی ذات گرامی پہ لکھنے والے ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہیں۔ہر دور میں ایسے دانشور گزرے جنہوں نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق مقام حسین سے دنیا کو روشناس کروایا۔مگر اقبال جیسا کوئی نا لکھ پایا۔
امام حسین ؓ کی ذات ہو اور قلم اقبال کا تو کمال نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔علامہ اقبال کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے نوحے اور آہ زاری سے ہٹ کر لکھا ۔اگرچہ یہ ایک اندوناک سانحہ تھا مگر مقصدیت ہر شے سے بالا ہوا کرتی ہے۔اسی مقصدیت کو اقبال نے اجاگر کیا۔
علامہ اقبال جنہیں قرآن کا شاعر کہا جاتا ہے جب مقام حسین پہ لکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ امام حسین کا اس امت میں وہی مقام ہے جو قرآن میں سورہ اخلاص کا ہے۔امام حسین کی ذات گرامی وہ ہے جن کے نانا بے مثال جن کے ماں باپ یگانہ و یکتا۔سرور کائنات کی گود میں پرورش پانے والے امام عالی مقام نے اہنے خون سے اسلام کی جو تفسیر لکھی وہ رہتی دینا تک یاد رکھی جاۓ گی۔آپ نے جب دیکھا کہ حکومت قرآن سے جدا ہو رہی ہے۔اللہ کے قانون کو تہہ و تاراج کیا جا رہا ہے وہ بھی نبی کریم ﷺ کی رحلت کے صرف پچاس سال بعد ۔تو آپ کی غیرت دینی نے بھانپ لیا کہ خون دیے بغیر یہ امت نہیں سمجھے گی۔حالانکہ وہ جانتے تھے کہ کوفہ والوں کے دل بھلے انکے ساتھ ہوں مگر تلواریں بک چکی ہیں۔پھر بھی آپ نکلے ،لڑائی کے لیے نہیں،حکومت کے لیے نہیں صرف اور صرف نظام خلافت میں جو زهر ملوکیت کی صورت میں آن بسا تھا اسے نکالنے۔بقول اقبال جدا ہودین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
ایک جگہ مقام حسین کے بارے لکھتے ہیں کہ
حقیقت ابدی ہے مقام شبیریؑ
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
اس سے زیادہ خوبصورت شعر اور اتنی جامعیت اور جازبیت
نہایت سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی ہے حسین ؓابتدا ہے اسماعیلؑ
مقام حسین سے نا آشنا امت کو بتاتے ہیں
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری
اسی طرح ایک اور جگہ امت محمدی میں کردار حسینی کے فقدان کا احساس کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے دابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
غرض علامہ اقبال کی اردو اور فارسی شاعری میں امام عالی مقام پہ جتنا لٹریچر موجود ہے وہ اتنا مکمل اور خوبصورت ہے کہ کوئی اور دانشور اس کا احاط نہیں کر سکتا۔اسلام کی گہناتی تاریخ کو جو عروج حسین نے دیا نا کوئی دے سکتا نا دے گا اسے سمجھنے کی ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔اس وقت دنیا نظام ملوکیت کی صورت میں جو شر پھیل چکا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ حسین نے اپنی آل کیوں قربان کر ڈالی تھی۔امت اگر اب بھی نہیں سمجھے گی تو کب سمجھے گی؟