853

موجودہ دور کے فتنوں سے کیسے بچا جاۓ؟

تحریر شئیر کریں

موجودہ دور کے فتنوں سے کیسے بچا جاۓ؟

فتنوں سے کیسے بچا جاۓ؟
زندگی ایک امتحان ہے۔انسان اس دنیا میں کسی خاص مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے۔یہی مقصد اس کا امتحان ہے۔مگر المیہ یہ ہوا۔کہ یہ انسان نما چیز جس مقصد کے لیے بھیجی گئ تھی وہ فراموش کر کے دنیا کو ہی مقصد سمجھ بیٹھا ہے۔حالانکہ یہ تو مومن کے لیے قید خانہ تھا۔پھر وہ۔اسے جنت بنانے کے چاہ میں کیوں ہلکان ہوا جا رہا؟کیا وہ جانتا نہیں کہ دنیا دھوکے کا سامان ہےاور کچھ بھی نہیں۔یہ پڑاؤ ہے منزل نہیں۔یہ سراب ہے حقیقت نہیں۔حقیقت کچھ اور ہے۔۔۔۔


مومن کے لیے دنیا ایک آزمائش تو ہے ہی مگر اس دنیا کا آخری دور اس سے بھی سوا ہے۔فتنہ در فتنہ۔۔۔نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق فتنے تمہارے گھروں میں ایسے اتریں گے جیسے بارش کے قطرے۔۔۔اور یہ بات آج کل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاءؑ نے جس فتنے سے بہت زیادہ پناہ مانگی ہے وہ دجال کا فتنہ ہے۔آج سے کچھ سال پہلے مجھے دجال کو جاننے کا شوق ہوا تو میں نے ریسرچ کی اس موضوع پر کتابیں پڑھیں کہ آخر یہ دجال ہے کیا؟

نبیوں تک نے اس سے پناہ مانگی۔جب سے کووڈ 19 آیا ہے۔جو کچھ اس کی آڑ میں ہو ریا ہے اور ہونے والا ہے وہ سب جان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یا اللہ ہم اپنے ایمان کیسے بچائیں۔ہم کدھر جائیں؟تب جا کر تھوڑا اندازہ ہوا کہ دجال کا پہلا دور شروع ہوچکا ہے۔جلد یا بدیر اس کا ظہور ہونے والا ہے۔اس کے آنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔


دجال دجل سے ہے یعنی بہت زیادہ دھوکہ دینے والی چیز،دھوکہ کیا ہے؟ہوتا کچھ اور دکھتا کچھ۔۔۔جب اتنا دھوکہ ہو کہ جھوٹ دکھائی ہی نا دے اور سچ لگے تو کون بچاؤ کرے گا؟یقینا اللہ ہی اپنے بندوں کو بچانے والا۔انسان خود نہیں بچ سکتا۔حقیقت ٹی وی کے مطابق کرونا ویکسین کے پیچھے جو جال پچھایا جا رہا ہے وہ دس سال پہلے “سیمسن کارٹون” میں بڑی وضاحت سے بتا دیا گیا کہ فائزر کمپنی زبردستی گھروں میں گھس کر ویکسین لگاۓ گی۔اور فائزر کمپنی نے نا صر ف ویکسین لاونج کر دی ہے بلکہ پاکستان کی چغتائی لیب سے معاہدے بھی ہوچکے ہیں۔اور عنقریب ویکسین لگانے کا کام شروع ہو جاۓ گا۔


اب سوال یہ ہے کہ ویکسین ہے کیا؟یہ نیویارک ٹائمز کا انکشاف بھی ہے اور پاکستان کے سنجیدہ صحافی حضرات مثلا اوریا مقبول جان اس کے طرف مسلسل اشارے بھی دے رہے ہیں کہ ویکسین کی آڑ میں انسانوں کے اندر چپیں لگائی جائیں گیں تاکہ ان کو مانیٹر کیا جا سکے اور تو اور ان کو نعوذباللہ دجال کے لیے تیار بھی کیا جا سکے۔اور اس سب کی پلاننگ بہت پہلے ہو چکی تھی۔


ہماری قوم کا یہ حال ہے جب تک مصیبت سر پہ آکے ٹوٹ نہیں پڑتی مان کے نہیں دیتے۔اور یہی حال اس معاملے میں بھی ہے کہ مان کے نہیں دے رہے کہ ہم کس عذاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس فتنے سے کیسے بچا جاۓ؟


نبی کریم ﷺ کے ارشادات ہمارے لیے بہترین راہنمائی کرتے ہیں۔آپ کا فرمان ہے کہ فتنوں کے وقت لوگ پہاڑوں اور جنگلوں میں بسیرا کریں گے۔اور ایسے ہی لوگ بچ سکیں گے۔اس حوالے سے قرآن کی اہم سورت جسے دجال سے بچاؤ کے لیے پڑھنے کی تاکید کی گی ہے اس کا مرکزی موضوع بھی ایمان کا بچاؤ ہے۔کہ چند نوجوان جو اسلام لاۓ کیسے اپنے ایمان کو بچانے کے لیے غاروں میں چھپ گۓ تھے۔کیا دجالی فتنوں کے لیے ہمیں بھی غاروں میں پناہ لینی ہوگی؟بظاہر یہی لگتا ہے کیونکہ جو ویکیسن نہیں لگواۓ گا اس کا شناختی کارڈ منسوخ اور ملک کے اندر باہر سفر کرنا تک روک دیا جاۓ گا۔جو نہیں لگواۓ گا اس کو زبردستی لگائی جاۓ گی۔


سورہ کہف کی دس نمبر آیت میں دعاہے جو یاران غار نے کی تھی اور اللہ نے ان کے ایمان سلامت رکھنے کے لیے تین سو سال غار میں سلاۓ رکھا۔ہمیں بھی آج ویسا ہی امتحان درپیش ہے۔جو کبھی اصحاب کہف کو تھا۔آئیے سورہ کہف سے رہنمائی لیں اور اس دعا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔
ربنا ھب لنا من لدنک رحمتہ و ھی لنا من امرنا رشدا۔
(کہف:10)
اللہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو۔صحیح دین کی سمجھ بوجھ دے اور ان فتنوں سے بچاۓ۔۔آمین

موجودہ دور کے فتنوں سے کیسے بچا جاۓ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں