گلوبل وارمنگ اور تعلیمات نبویﷺ
۔۔۔۔۔۔
رحمت العالمین حضرت محمد ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گۓ ۔آپ ﷺ کی بتائی ہوئیں تعلمات اپنے اندر جامع اور مکمل ہیں۔اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں اور ان کے مسائل کا تسلی بخش حل موجود ہے۔
گلوبل وارمنگ یعنی موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے روبہ عمل ہیں۔موسم تبدیل ہو رہے ہیں۔درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور اوزون لئیر پھٹ رہی ہے۔پانی کے چشمے تیزی سے جوہڑوں یعنی گندے پانی میں تبدیل ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے زمین پر زندگی مسائل کا شکار ہو کر رہ گئ ہے۔درجہ حرارت کے بڑھنے سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔جو سیلاب کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
پہاڑوں کی کٹائی:
۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ اور قرآن مجید کی تعلیمات کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز میں توازن رکھا ہے۔اگر اس توازن میں بیگاڑ پیدا ہو گا تو پھر زمین امن و امان کا گہوارہ نہیں رہے گی۔اور یہی ہو رہا ہے۔توازن کے پیمانے بگڑنے سے زمین ناہموار ہو چکی ہے۔
مثلا قرآن کہتا ہے کہ ہم نے زمین میں میخیں گاڑ دیں هیں۔ پهاڑ اصل میں کیل هیں۔پہاڑی علاقوں پہاڑوں کے کٹنے سے زمین کا توازن بگڑ چکا ہے۔زلزلوں کا آنا اسکی بڑی وجہ ہے۔
جنگلات کی کٹائی:
۔۔۔۔۔
درختوں کی کٹائی اور جنگلات کی کمی سے ماحولیاتی آلودگی کے مسائل پیدا ہوۓ ہیں۔درجہ حرارت بڑھا ہے اور سیلاب آنا شروع ہو گۓ ہیں۔آپ ﷺ نے درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا خصوصا سایہ دار درخت۔
درخت اکسیجن فراہم کرتے ہیں ۔انکے کٹاؤ سے سانس کی بیماریاں پیدا ہو رہیں ہیں۔
۔۔۔
پانی کا ضیاع:
قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی۔پانی حیات بخش ہے۔پانی کا نا ہونا زندگی کا خاتمہ ہے۔اس غیر متوازن زندگی سے پانی جیسی حیات بخش چیز تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔آپ ﷺ کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ نے پانی کے ضیاع سے منع فرمایا۔جتنا ضیاع پانی کا دیکھنے میں آیا ہے۔پاکستانی معاشرے میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اور یہ ایسا ضیاع ہے۔جس کا شعور تک نہیں ہے۔پانی جیسی قیمتی چیز کو گویا ثوا ب سمجھ کر ضائع کیا جاتا ہے۔
آبادی میں آضافہ بھی جدید دنیا کا ایک مسئلہ ہے حالانکہ یہ مینجمینٹ میں نا اہلی سے پیدا ہونے والا مسئلہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال ؒ مسولینی سے ملے تو اس نے سوال کیا کہ اپنے نبی ﷺ کی کوئی بات بتاؤ۔۔علامہ بولے آپ ﷺ نے فرمایا جب آبادی دس ہزار سے اوپر ہو جاۓ تو نیا شہر بساؤ۔۔کہا جاتا ہے کہ یہ بات سن کر وہ جھومنے لگ گیا۔جدید دنیا اگر اس اصول کو پکڑ لے تو آبادی کے مسائل پہ قابو پاسکتی ہے۔آبادی کم کرنا مسئلے کا حل ہوتا تو جن ملکوں نے کم کی ہے وہ فوج تک کی قلت کا شکار ہو چکیں ہیں۔آبادی کا مسئلہ توازن کا مسئلہ ہے
۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے غربت و افلاس اور دیگر جرائم کو جن دیا ہے۔تعلیم کو اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کہ وہ نچلے طبقے کی ترجیحات میں سے نکلتی جا رہی ہے۔نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ دیکھیں آپ ﷺ نے قیدی بن کر آنے والوں کا فدیہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانا رکھا تھا۔مسجد ہی مکتب ہوا کرتا تھا۔الگ سے سکول بنانے کے جھنجھٹ سے آزاد اللہ کا گھر جہاں ہر قسم کے امتیاز سے بڑھ کر تعلیم دی جاتی رہی ہو۔۔زمانہ اب اسی نظام کا منتظر ہے۔
مٹی کے گھر مٹی کے برتن یہ ہماری روایات تھیں جو متروک ہو چکیں ہیں۔آج جدید دنیا مان چکی ہے کہ بہترین گھر مڈ کے گھر ہیں۔جو گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہوتے ہیں۔اپنی انہی خصوصیات کی وجہ سے دنیا میں دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں۔یہی حال مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانے کا ہے۔جس کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔نقصان ایک بھی نہیں۔
اسی طرح ماحولیاتی آلودگی کے لیے نبی کریم ﷺ کی صفائی ستھرائی کی تعلیمات پرعمل پیرا ہو کر ہم ماحول کو صاف ستھرا رکھ سکتے ہیں۔یورپ میں صفائی دیکھ کر لگتا ہے کہ نصف ایمان شاید انکا وطیرہ بن چکا ہے۔