کاروبار کیسے شروع کیا جائے ؟
تحریر اقصٰی اعجاز
ہر کاروبار شروع کرنے کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے کاروبار شروع کرنے سے پہلے آپ کو اس کاروبار کے بارے میں تھوڑی بہت جانکاری لازمی ہونی چاہیے
اگر آپ کے پاس کوئی ہنر ہے تو آپ اپنے ہنر کو بروئےکار لا سکتے ہیں کوئی کاروبار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اس کو شروع کرنے کے لئے بس تھوڑے سے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے پھر آگے آپ کی قسمت اور دوسری چیز یہ کہ ایمانداری شرط ہوتی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے بھی اپنے سلائی کے ہنر پر کاروبار شروع کیا تھا جو کہ آج ماشاء اللہ کامیاب رہا میں آپ کے ساتھ وہ تجربہ شئیر کرنا چاہتی ہوں۔
سرمائے کے طور پر میں نے سلائی مشین اور اس کی موٹر خریدی سب سے پہلے اپنے ہی سوٹ میں سے بچے ہوئے کپڑے کی ایک فراک سلائی کی اور اس کو بنا منافع لیے سیل کر دیا پھر دوسرے سوٹ میں سے بچے ہوئے کپڑے اور جو اس کے پیسے تھے ان کو ملا کر ایک اور سوٹ سلائی کیا پھر اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔
محنت اور ایمانداری سے کاروبار تو ماشاء اللہ چل نکلا اب دیکھتے ہیں اس میں مشکلات کس طرح کی آئیں جب لوگ کپڑے لینے آتے ہیں تو بھاؤ تاؤ شروع کر دیتے ہیں جو کہ بری بات نہیں ہے مگر حد سے زیادہ کرو تو تکلیف دہ ہے اور اگر آپ کے مطابق کی رقم نہ ہو تو پھر ماضی کے طعنے دینے لگ جاتے تھے کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں تھا ہم ہی تم سے کپڑے خرید کر لے جاتے تھے تو تمہیں امیر کر دیا ہے جب کہ میں پہلے ہی مناسب قیمت لگاتی تھی منافع بھی کم ہی رکھتی تھی چونکہ کاروبار بھی پہلا تھا اور کوئی باقاعدہ دوکان بھی نہیں تھی میں اگر چار سوٹ سلائی کرتی تھی جب تک وہ فروخت نہیں ہو جاتے تھے تو اگلا سوٹ سلائی نہیں کرتی تھی ڈرتی تھی کہ پڑے نہ رہے نقصان نہ ہو جائے۔
پھر مجھے میری دوست نے بتایا کہ یہی لوگ باہر ریڈیمیڈ دکان پر لگے ٹیگس پر کبھی بھی بارگیننگ نہیں کرتے اس لیے تم ٹینشن نہ لو ان کو مسئلہ یہ ہے کہ تم نے اتنی ہمت کیوں کی میں ساری باتیں بھلا دیتی تھی منفی سوچ ختم کر دیتی تھی اور بس یہ سوچا کرتی تھی کہ ہم جب گھر میں محنت اور حلال کی روزی کماتے ہیں تو یہ کیوں بحث کرتے تھے لوگوں کی اس طرح کی بہت سی باتوں نے درد دیا تو گھر والوں نے بھی کہنا شروع کیا چھوڑو تم کیا اپنی صحت خراب کرنے پر لگی ہو مگر یہ ضرورت کے ساتھ ساتھ میرا شوق بھی تھا پھر میں نے ایک اور کام کیا جن جن لوگوں نے مجھ سے شکایات کی تھی میں نے ان ہی کی بیٹیوں بہنوں کو اور جاننے والوں کو سلائی سکھانا شروع کردی اور کہا کہ آپ بھی یہ کاروبار کر سکتی ہیں۔آپ مجھے کپڑے سلائی کر کے دیں جتنے میں آپ چاہتی ہیں اب میری خود کی بوتیک بھی ہے اور وہ ہی بچیاں میرے پاس کپڑے سلائی کرتی ہیں اور انھیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کس طرح کام کرتے ہیں اور کتنا منافع لیتے ہیں
پھر میں نے سوچا کہ اپنے ہنر کو اور دوسرے ضرورت مند انسانوں کے اندر منتقل کرنا چاہیے ایک دو اور بچیوں کو سلائی مفت میں سکھائی پھر تھوڑا سا معاوضہ لے کے اور بچیوں کو سلائی سکھائی اس طرح وہ بچیاں بھی کپڑے سیتی ہیں اور مجھے سیل کر دیتی ہیں جس سے ان کا اور میرا ساتھ ساتھ آپ سب لوگوں کو فائدہ ہو جاتا ہے۔
جس کے بھی گھر والوں کو شک تھا کہ ہم لوگو کو ناجائز کھا رہے ہوتے ہیں تو ان کا وہ شک دور ہو چکا ہے اور ماشاء اللہ پھر اللہ تعالی کی رحمت سے کاروبار ٹھیک چل رہا ہے تو آپ بھی ہمت نہ ہاریں لوگوں کے رویوں کو اگنور کریں اگر آپ کو کوئی ہنر آتا ہے تو آپ اس کو استعمال میں لائیں۔اس کے علاوہ ہنر سیکھ کر کسی اور کو بھی سکھائیں اور آپ دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔
ایک بات اور کہ ہمیشہ اپنے سے چھوٹے کاروبار والوں پر نظر کریں جیسے کہ کڑی دھوپ میں بھٹہ بیچنے والا ‘ یا کوئی بزرگ انسان آرام کرنے کی عمر میں پینسل اور ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ رہے ہوتے ہیں کچھ عورتیں زندگی کی ضروریات کو چلانے کے لیے کھانا بنا کر بیچ رہی ہوتی ہیں اس سے آپ کو ہمت ملتی ہے جنون ملتا ہے ۔
ضروری بات حلال اور حرام کا فرق ضرور رکھیں کیونکہ اگر آپ حلال کی روزی کمائیں گے تو آپ کے اندر لالچ کی طمع پیدا نہیں ہوگی اور آپ اپنی زندگی میں سکون محسوس کریں گے حرام کا ایک لقمہ جو صرف سوچا ہی جائے تو آپ کی زندگی بے سکون کر دیتا ہے اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ہمت دے آمین اور حلال کی روزی کمانے کی توفیق دے آمین۔
کاروبار کیسے شروع کیا جائے؟