ہم سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے ہیں
تحریر فائزہ ظفر
ہم سب حضرت ابراھیم علہہ اسلام کی دعا ہیں ، وہ ابراھیم جو ہمارے لیے نمونہ ہیں ، قرآن میں ان کی بڑی تعر یف بیان کی گئ ہے ، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہا گیا کہ اپنے باپ ابراھہیم کی پیروی کرو ، جو خلیل اللہ ہیں ، اللہ نے قرآن میں کہا کہ ابراھیم وہ جس نے وفا کا حق ادا کر دیا “ اللہ کے ہر حکم کو مانا ، راستے میں آئی ہر رکاوٹ کو عبور کر گئے ، یہاں تک کے اپنے ماں باپ کو چھوڑ آئے ،
اور یہاں تو وفا نے اپنی ہر حد پار کر دی جب چھیاسی سال کی عمر میں اللہ نے ساٹھ سال کے بعد دعا کو قبولیت بخشی اور اولاد کی نعمت سے نوازا ،لیکن ابھی تھوڑے ہی مہینوں کے ہوئے تھے اسما عیل کہ اللہ نے ایک اور بڑی قر بانی مانگ لی ، ابراھیم بیٹے کو ذبح کردو ، بانوے سال کی عمر میں اللہ کے حکم کی تعمیل کر رہے ، جو کہ قطعی آسان نہیں تھا ، اور آگے بیٹا بھی ابراھیم کا تھا ، کیا کمال تسلیم ورضا تھی ، کہ رہتی دنیا تک زندہ مثال رہے گی ، ایسی قربانیاں تو اللہ ہر ایک سے تو نہیں مانگتا ، اللہ کا شکر ہے ہماری نسبت حضرت ابراھیم علہہ سلام سے ہے ہم ان جسی قربانیاں تو کبھی نہی دے سکتے
ابراہیم علیہ السلام بحیثیت ایک باپ
لیکن حضرت ابراھیم اور اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علہہ وسلم کی سنتوں کو تو زندہ رکھ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کے آگے سرخرو ہوں ،نا کہ شرمندہ کہ ہماری نسبت ان سے ہے ، ہم اپنے بچوں پہ چھریاں تو چلا نہی سکتے لیکن ان کی سنتوں کو زندہ رکھتے ہوئے ، جھوٹ ،ظلم ،زیادتی ،الزام تراشی ، جھو ٹی گو اھیوں ، ماں باپ کی نا فر مانی ،رشوت ،سود ،سے تو اپنے آپکو آزاد کروا سکتے ہیں ، مہمان نوازی جو میرے پیارے نبی صلی وسلم اور حضرت ابراھیم پہ ختم تھی وہ تو کر سکتے ہیں ، دوسروں کے جذ بات کا خیال تو رکھ سکتے ہیں ، اپنے آپ سے عہد تو کر سکتے ہیں کہ ہمارے طرز زندگی سے لگے کہ ہماری نسبت ابراھیم سے ہیں ، اور ان کی قبولیت دعا امت محمدی صلی اللہ وسلم ہیں ، فائزہ ظفر