947

ابراہیم علیہ السلام بحیثیت ایک باپ

تحریر شئیر کریں

تحریر قانتہ رابعہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اس کائنات کا تمام تر حسن اللہ کی وحدانیت کے اقرار میں ہے اور اسی کے لیے اللہ رب العزت نے انسان کو عقل اور شعور دیا کہ وہ اپنے رب تک پہنچ جاے۔۔۔جب تک وہ وحدہ لا شریک تک رسائی حاصل نہیں کرتا اس کی زندگی میں نشیب ہی ہوتے ہیں فراز نہیں ۔۔

اس دنیا میں اللہ تک پہنچنے کے لیے سب سے بڑا اور معتبر نام سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ہے ۔۔یہ اوپر والے کے فیصلے ہیں کسی کو غار حرا میں بلا کر منصب نبوت عطا کرتا ہے اور کوی مدین سے اتے ہوے مسافرت میں اس کا اہل سمجھا جاتا ہے ۔۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے ایک اللہ تک پہنچنے کی طلب سچی ہو تو کیا کیا مراحل درپیش ہوتے ہیں ۔۔اللہ نے قرآن مجید میں خود ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے ابراہیم کا امتحان لیا اور اس پر وہ پورا اترا ۔۔۔ کوی ایک امتحان؟؟؟ اپنی جاے پیدائش،عزیزواقارب سے لے کے بیٹے تک کے گلے پر چھری پھروادی ۔۔۔۔۔۔

وہ ہر امتحان میں پورا اترا ۔۔ کا مطلب بہت گہرا ہے اور پورا اترنے کے لیے جو صفات مطلوب تھیں وہ ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔یہی نہیں ٹھوک بجا کے جو امتحان لیا وہ اتنا سخت تھا کہ پاس ہوے تو تمام امتوں اور اقوام کے لیے رول ماڈل بنا دیا عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک ہی وہ معتبر نام نہیں بلکہ دنیا کی سب سے مشرک قوم۔ہندو بھی سب سے اونچی ذات برہمن کو ابرہیم کی اولاد قرار دیتے ہیں۔۔جسے خود اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کے لیے رول ماڈل بنایا اور اپنا دوست قرار دیا اس کے گھرانے کی ہر نشانی کو حج کا رکن قرار دے دیا۔۔جہاں بچے نے ایڑی رگڑی وہاں سے زمزم جاری کیا کہاں سیدہ ہاجرہ دوڑیں وہاں دوڑنا لازم جہاں بیٹے کے گلے پر چھری پھیر کے لیے لے گئیے اسے مناسک حج کا اہم سٹیشن قرار دیا ۔۔

منی جاو بار بار جاو مزدلفہ سے منی او طواف زیارہ سے منہ او جمرات جاو لیکن واپس منی آو ۔۔کیوں؟؟؟ یہ ہے وہ جگہ جہاں انسانیت کی معراج ہے۔۔۔بوڑھا باپ اپنے اس بچے کو بارگاہ الہی میں قربان کرنے کے لیے لا رہا ہے جو فرمانبردار ہے ۔۔باپ کا خواب سن۔کر کسی سے تعبیر پوچھنے کا نہیں کہا

بلکہ مطیع ہو کر کہا یا ابت افعل ما تومر
اے ابا جان جو اپ سے کہا ہے وہ کر گزرئیے ۔۔۔۔،،اللہ اکبر ۔اپنی اولادوں سے جان مانگنا تو دور کی بات بس سوشل میڈیا کے استعمال روکنے کی بات کر لیجییے۔۔۔کیا جواب ملے گا ؟؟؟
ان کے ہاتھ میں سے موبائل لینے کی بات کریں کیا جواب ملے گا؟؟؟
ان کے پسندیدہ مشاغل سے دور رہنے کی بات کریں کیا یہی جواب ملےگا ؟؟؟
قطعی نہیں ۔۔کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے جب اولاد کی دعا مانگی تھی تو رب ھب لی من الصالحین ۔۔۔۔۔نیکو کار اولاد ۔۔اس لیے کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے الباقیات

الصالحات ۔۔۔باقی رہنے والی چیز بس نیکیاں ہیں
ہم جائیدادوں کے لیے اولاد طلب کرتے ہیں ورثہ کے لیے وارث مانگتے ہیں یہاں ورثہ نیکی ہے۔ خدا کی معرفت ہے ۔۔نیک اولاد کی طلب کے بعد جب اولاد ملتی ہے تو وہ موقع بھی اجاتا ہے کہ بیٹے کو بے اب و گیاہ وادی میں چھوڑرتے ہیں

قربانی نا کرنے کی وعید

قربانی کرنے والا کن امور سے پرہیز کرے؟

کیوں؟؟؟ تاکہ وہ نماز قائم کریں
ہم روزی روٹی کی خاطر بچے آنکھوں سے دور بھیجتے ہیں یہاں بھی باپ اقامت صلوٰۃ کو ہر چیز سے اہم سمجھتا ہے ۔۔۔ہم جیسے کہتے ہیں دنیا بھی تو مانگنی چاہئیے ۔۔ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دنیا مانگی مگر لفظوں پر غور کریں
ان۔کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔۔۔تاکہ وہ تیرے شکر گزار بنیں ۔۔
یعنی کمای سے زیادہ شکر گزاری مطلوب ہے
اپ نے سورہ الکہف میں خضر علیہ السلام والے واقعے میں ان دو بچوں کے بارے میں تفصیل پڑھی ہوگی جو یتیم تھے ان کے باپ کا خزانہ دیوار کے نیچے چھپایا ہوا تھا اور بستی والوں کے تعاون نہ کرنے کےباوجود خضر ان بچوں کیلئے مستقبل میں کام لانے کے لیے دیوار کیوں کھڑی کرتے ہیں کہ وکان ابوھما صالحا ۔۔ان کا باپ نیکو کار تھا تو اج اسماعیل کو اداب فرزندی سکھانے سے پہلے ابراہیم۔کے بطور باپ ہونے پر بھی نظر ڈالیں ۔۔۔۔۔ہر غیر کی محبت کو دل سے مکال باہر کریں ان کے راستے میں چاند سورج ستارے آے تھے ہمارے راستے میں سٹیٹس،برانڈز دنیا کی دل۔لگی کے ستر ہزار سورج چاند ستارے ہیں ۔۔۔یک سوی کا مطلب یہی ہے کہ بس بے نیاز ہوجائیں ۔۔۔دنیا اور دنیا والوں سے تاکہ اداب فرزندی سکھانے کی کوشش میں اسانی فرمائے۔

ابراہیم علیہ السلام بحیثیت ایک باپ آپ نے پڑھی کیا سیکھا ؟

ابراہیم علیہ السلام بحیثیت ایک باپ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں