قربانی نا کرنے کی وعید کیا ہے؟جانیے قلم کتاب پر
صلاة عيد اسلام کا ایک ظاہری شعار ہے، صلاة عید کی ادائیگی کے لئے خود بھی جانا چاہئے اور اپنے بال بچوں اور گھر کی عورتوں کو بھی لے جانا چاہئے۔
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: ” أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى: الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ “، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: ” لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا
ام عطیہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عیدالاضحی میں شادی شدہ، حیض والیوں اور غیر شادی شدہ پردہ دار خواتین کو لے کر نکلیں۔ حیض والیاں عید گاہ سے الگ رہیں گی البته خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں گی۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: اس کی کوئی مسلمان بہن اسےاپنی چادر اوڑھائے۔
| [ صحیح مسلم *
2056 *)
قربانی سے متعلق سورۃ الکوثر میں ارشاد باری ہے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ[2]
اپنے رب کے لئے صلاة پڑھیے اور قربانی کیجئے۔
نیز نبی کریمﷺ دس سال مدینہ رہے اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔ آپ ﷺ نے قربانی کی تاکید بھی فرمائی ہے
آپ ﷺ کـــا فـــرمـــان ہـــے
مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
جس شخص کے پاس وسعت ہو اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
[ سنن ابن ماجہ *( 3123 *)