┄┅════❁﷽❁════┅┄
اتباع سنت اور امام مالک
امـــام مـــالکؒ فرماتے ہیں
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اُخْطَیءُ وَاُصِیْبُ،فَانظُرُوْ فِیْ رَایِیْ،فَکُلُّ مَا وَافَقَ الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ فَخُذُوْہُ،وَکُلُّ مَا یُخْالِفُ الْکِتَابَ وَالْسُّنَّۃَ فَاتْرُکُوْہُ۔*
یقیناً میں ایک انسان ہوں۔میری بات غلط بھی ہوسکتی ہے اور صحیح بھی۔لہذا میری رائے میں نظر دوڑاؤ اور جو بات تمہیں کتاب و سنت کے موافق لگے اس لے لو اور جو کتاب و سنت کے مخالف ہو اسے ترک کردو۔
| [ الجامع لابن عبدالبر ( 32/2 ) ] | | [ اصول الاحکام لابن حزم ( 149/6 ) ] || [ الایقاظ ( ص:72 *
امـــام مـــالکؒ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں
لَیْسَ اَحَدٌ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ اِلَّا وَیُوْخَذُ مِنْ قَوْلِہٖ وَیُتْرَكُ،اِلَّا النَّبِیَّ ﷺ۔
نبی ﷺ کے بعد(علاوہ)ہر شخص کی بات بھی قبول کی جاسکتی ہے اور رد بھی کی جاسکتی ہے۔(مگر امام الانبیاء کی بات کو قبول ہی کیا جائے گا رد نہیں کیا جاسکتا۔)
[* ارشاد السالک لابن عبدالھادی ( 227/1 *)
- صفۃ صلاۃ النبیﷺ ( ص:49 ) ] |
امـــام مـــالکؒ* کے شاگرد عبـــداللـــہ بـــن وہـــب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مجلس میں سنا کہ *امـــام مـــالکؒ سے دورانِ وضوء پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے متعلق پوچھا گیا تو انہیں نے جواب دیا کہ (اہل مدینہ)لوگوں کا اس پر عمل نہیں ہے۔ *عبـــداللـــہ بـــن وہـــب* فرماتے ہیں :میں نے امـــام مـــالکؒ سے اس وقت بات نہ کی۔جب لوگ چلے گئے تو میں نے آپ سے کہا: ہمارے پاس اس مسئلے میں ایک سنت ہے۔تو انہوں نے کہا،وہ کیا ہے؟
میں نے لیـــس بـــن سعـــد اور عبـــداللـــہ بـــن لھیعـــہ اور عمـــرو بـــن حـــارث اور یـــزیـــد بـــن عمـــرو المعـــادی ازأعبـــدالـــرحـــمٰن کے طریق سے سند بیان کی کہ صحـــابـــی رســـولﷺ مستـــورد بـــن شـــداد القـــرشـــیؓ فرماتے ہیں۔
رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَدْلُكُ خِنْصَرَہٗ مَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ۔فَقَالَ:”اِنَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ حَسَنٌ،وَمَا سَمِعْتُ بِہٖ قَطُّ اِلَّا السَّاعَۃ۔ثُمَّ سَمِعْتُہٗ بَعْدَ ذٰلِكَ یُسْاَلُ،فَیَاْمُرُ بِتَخْلِیْلِ الْاَصَابِعِ*
دنیا آفتاب رسول ﷺ سے کیسے روشن ہوئی؟
پاکستان میں کس صحابی رسول ﷺ کی آمد ہوئی؟
میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی سے پاؤں کی انگلی کا خلال کرتے تھے۔تو امام مالکؒ نے فرمایا کہ بیشک یہ حدیث حسن ہے اور میں نے آج سے پہلے یہ حدیث نہیں سنی۔
جنـــاب عبـــداللـــہ بـــن وہـــب* فرماتے ہیں
پھر اسکے بعد جب بھی آپؒ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو میں نے انگلیوں کے درمیان خلال کرنے کا فتویٰ دیتے سنا۔
الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ( 31/1،32 ) ] |
اس وقعہ سے معلوم ہوا کہ امـــام مـــالکؒ* حدیث رسول اللہﷺ سن کر اپنی بات پر ڈٹے نہیں رہتے تھے۔ بلکہ حدیث کے سامنے سر تسلیم خم کرکے اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیتے تھے۔
اتباع سنت اور امام مالک