اتفاق میں برکت ہوا کرتی ہے۔جانیے قلم کتاب پر
ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان جس طرح سے معاملات چل رہے ہیں۔وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔رمضان مبارک میں خون کی ہولی بھی قابل مذمت ہے۔لاٹھی کا جواب گالی نہیں ہوا کرتا۔نہیں کبھی نہیں۔۔۔۔ہم اسکی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
ہمارے رویوں میں انتہا پسندی کب آتی ہے؟جب ہمیں یقین ہوتا ہے کہ کوئی ہماری سننے والا نہیں ہے۔حکومت اگر مذاکرات سے کوئی راستہ نکالتی تو آج پورا ملک جلاو گھیراو کا نقشہ پیش نا کر رہا ہوتا۔
اب آتے ہیں تحریک لبیک کی طرف۔۔ ان کو معتدل رویہ اپنانا چاہیے تھا۔ان سے جو بڑی غلطی ہوئی وہ یہ تھی۔کہ انھوں نے اپنے ساتھ کسی دینی جماعت کو نہیں ملایا اور اکیلے ہی چل نکلے۔جس کا نتیجہ ان کی لاشوں کی صورت نکلا۔دورکوئی بھی ہو مگر
اتفاق میں برکت ہوا کرتی ہے
رہی بات فرانسیسی سفیر کو نکالنے کی تو اس پہ مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے بالکل ایسے ہی جیسے تحریک لبیک اکیلی میدان میں اتری اگر اسی طرح پاکستان بھی دیگر اسلامی ممالک کو ملاۓ بغیر میدان میں کود پڑتا تو عالمی سطح پر اس کا بھی وہی حشر ہوتا جو کارکنان لبیک کا ہوا ہے۔یقینا اتفاق میں برکت ہے۔
وزیراعثم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہمیں اگر مسلم ممالک مل کر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں تو ان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔جب اس طرح سے ان کو زک پہنچائی جا سکتی تو سفیر کو نکالنے کی کیا ضرورت ہے۔
پاکستان کو دہشت گرد قرار دہنے کے لیے بھارت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔وہ بھی ان حالات میں جب پاکستان امریکہ کی دم پہ پاؤں رکھ کر بیٹھا ہے۔اور چین ترکی کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف بنانے جا رہا۔جب اکٹھے ہوکربائیکاٹ کریں گے یا سفیر کو ملک بدر کریں گے تب ان کو پتہ چلے گا۔اتفاق میں برکت ہوا کرتی ہے ۔اس پر حکمت قول کو سمجھنا ہوگا۔
تحریک لبیک کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی سالمیت اور تحفظ ہی میں ہماری بقا ہے۔تحریک لبیک کا موقف ٹھیک ہے۔مگر طرہقہ کار غلط ہے۔انھیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔اکیلے اکیلے میدان جنگ میں نکلنے سے بہتر ہے مضبوط حکمت عملی اپنائی جاۓ تاکہ دشمن کا موثر طریقے سے قلع قمع کیا جا سکے۔