افسانہ: ”رسوت “ 143

افسانہ: ”رسوت “

تحریر شئیر کریں

افسانہ: ”رسوت “

ماہِ اگست میں گرمیاں؛ اختتام کی طرف بڑھ رہی تھیں، رات تاریک و خاموش تھی؛ گیارہ بجے تک سخاکوٹ جیسے پُرسکون گاؤں میں خاموشی اس قدر بڑھ جاتی کہ؛ کسی بشر کی آواز کانوں میں نہ پڑتی؛ البتہ! کیڑے مکوڑوں کی آوازیں کبھی کبھی خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتیں۔عرش گھر اور کالج کے کاموں سے فراغت کے بعد؛ صحن کے بیچ و بیچ کھڑی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی؛ اسے چاند کو دیکھنا الگ ہی سرور دیتا تھا، کچھ دیر تک چاند پر نگاہیں مرکوز رکھنے کے بعد؛ وہ کمرے میں چلی آئی؛ الماری کے ساتھ اپنی سٹڈی کی مخصوص جگہ میں لکڑی کی کرسی پر بیٹھی اور میز پر رکھے اپنے کالج بیگ میں سے جب رسالہ نکالنا چاہا تو یہ کیا؟؛ اس کے بیگ سے رسالہ ہی غائب تھا، ایک صفحہ تھا جس پر فقط اتنا لکھا تھا؛
“کہانی میں نے تجویز کی ہے تو تم اکیلے کیسے پڑھ سکتی ہو؟”
ساتھ ہی اک شرارتی مسکراہٹ بنائی گئی تھی۔
عرش نے ماتھے پر بل ڈالے اگلی لائن پڑھی؛
“کل صبح فری پیریڈ میں کالج لائبریری میں آجانا مل کر پڑھیں گے۔“
صفحے کے آخر میں لکھا تھا۔
“والسلام تمہاری پیاری دوست اریبہ۔”
عرش کو بہت غصہ آیا کیونکہ آج اسے کہانی مکمل پڑھنی تھی لیکن خیر اب وہ کیا ہی کر سکتی تھی، فقط انتظار؛ اور اس کے بابا کہا کرتے تھے؛
“جس نے صبر کا دامن تھامے انتظار کیا وہی کامیاب ہوا کیونکہ  انتظار تو صبر کی آزمائش ہے۔”
لہٰذا وہ ایک گہرا سانس لے کر بیڈ کی طرف بڑھ گئی اور لیٹ گٸی۔ کچھ دیر تردد کے بعد نیند کی دیوی نے اس پری پیکر کو اپنی آغوش میں لے لیا۔
اریبہ؛ عرش کی بچپن کی دوست تھی اور اب دونوں کالج میں پڑھ رہی تھیں؛ ان دونوں کو افسانے، ناول اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا، اکثر وہ دونوں ایک دوسرے کو کہانیاں تجویز کرتی رہتی تھیں اور پھر مل کر پڑھتی تھیں، اس مرتبہ اریبہ نے کہانی تجویز کی تھی، جس کا کچھ حصہ وہ لوگ کالج میں پڑھ چکے تھے اور کچھ رہتا تھا۔
************
صبح کی روشن کرنیں ہر سو پھیلیں تو عرش جو کہ تلاوت کر کے قرآن پاک اس کی مخصوص طاق میں رکھ رہی تھی؛ پرندوں کی آواز پر؛ چھت پر دانہ ڈالنے چلی گئی؛  عرش ایک بہت ہی حساس طبیعت اور خوبصورت دل کی مالک تھی؛ اس کی عادت تھی روز پرندوں کو دانہ ڈالنے کی، وہ لکڑی سے بنی ہوئی سیڑھی عبور کرتی چھت پر آئی تو پرندوں کی چہچہاہٹ میں کچھ مزید اضافہ ہو گیا؛ وہ آگے بڑھی اور پرندوں کو دانہ ڈال کر وہ واپس نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
جلدی جلدی ناشتہ کر کے اس نے اپنا عبایہ پہنا اور کالج کے لئے نکل گئی۔
************
کالج میں یکے بعد دیگرے تین لیکچرز لینے کر بعد آخر کار اس کا فری پیریڈ آگیا اور وہ فوراً لائبریری کے باہر پہنچی ؛ اریبہ بھی اس کی منتظر تھی اس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
“السلامُ علیکم! کیسی ہو میری پیاری عرش!۔”
اس نے؛ عرش کو گلے لگایا۔
“وعلیکم السلام! دور ہٹو؛ مجھ سے بات نہ کرو تم۔”
عرش نے مصنوعی ناراضگی سے کہا، عرش زیادہ دیر کسی سے ناراض نہیں رہ سکتی تھی، وہ ظاہر و باطن کی منافقت سے پاک لڑکی تھی، اس کا باطن؛ اس کے ظاہر میں صاف عیاں تھا۔
“چلو اب جھوٹی ناراضگی چھوڑو، کہانی نہیں پڑھنی کیا آگے؟۔”
اریبہ نے اسے کوہنی مارتے ہوئے کہا، عرش مسکراتے ہوئے لائبریری جانے کے لئے مڑی کہ اریبہ نے اسے روک لیا۔
“یہاں نہیں، چلو کہیں باہر بیٹھتے ہیں؛ جہاں ہم تبصرہ بھی کر سکیں۔”
اور پھر دونوں کالج کے گراؤنڈ میں، ایک طرف بیٹھ گئیں۔
“عرش! ہم نے کہانی کا جو آدھا حصہ پڑھا تھا؛ اس پر ہماری خوب بحث ہوئی۔”
اریبہ نے عرش کے معصوم چہرے پر نظریں مرکوز کئے بات کا آغاز کیا۔
“ہاں تو میں جاگیردارانہ نظام اور اس کے مظالم کو نہیں مانتی، یہ پرانے دور کی باتیں ہیں اور مصنف لوگ اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔”
عرش نے اپنے کالج بیگ میں سے چپس نکال کر اریبہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
” لیکن عرش! لازم تو نہیں کہ جہاں جاگیردارانہ نظام قائم ہو صرف وہیں ظلم ہو؛ ظلم تو زمانہ قدیم سے رائج ہے اور شاید قیامت تک رہے گا، پہلے زمانے میں جاگیردارانہ نظام کو فروغ حاصل تھا لیکن آج ہر ایک اپنے سے کم استطاعت رکھنے والے انسان کا جاگیردار ہے اور مصنف لوگ اسی پر تو لکھ رہے ہیں۔”
اریبہ نے دور کینٹین میں آلو چھولے بیجنے والے بچے کو دیکھتے ہوئے کہا اور اپنی بات جاری رکھی۔
“یہ دنیا بڑی کم ظرف ہے عرش!؛ مجھے نہیں معلوم تم کیوں مصنفین کو سچا نہیں سمجھتی، شاید تم ایک پُرسکون گاؤں کی واسی ہو؛ اسی لئے تم معاشرے کے تلخ حقائق قبول نہیں کر پاتی یا شاید تم نے ابھی دنیا نہیں دیکھی یا ابھی تک تمہیں وہ آنکھ میسر نہیں جس سے تم معاشرے کے دونوں رخ بیک وقت دیکھ سکو۔”
اریبہ نے چپس کا پیکٹ کھولا اور اس میں ایک چپس نکال کر منہ میں رکھی۔
“ہممم شاید ایسا ہی ہو، خیر چھوڑو تم رسالہ نکالو؛ کہانی پڑھتے ہیں آگے۔”
عرش نے اس کے بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“وہ۔۔۔۔۔۔۔۔؛ وہ تو میں پڑھ چکی اور رسالہ گھر رہ گیا۔”
اریبہ نے کھسیانی ہو کر کہا۔
“کیا۔۔۔۔؟۔”
عرش کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے۔
“وہی جو تم نے سنا۔”
اور پھر عرش اپنا سکیل پکڑے گراؤنڈ میں پیچھے پیچھے اور اریبہ آگے آگے تھی۔
آخر کار تھک ہار کر دونوں پھر سے بنچ پر آ بیٹھیں اور اریبہ نے اس سے کہا کہ؛
“میں تمہیں کہانی کا خلاصہ بتا دیتی ہوں۔”
عرش پہلے تو نہ مانی لیکن وہ اریبہ ہی کیا جو اپنی منوائے بغیر رہ جائے۔
” کہانی کا خلاصہ ملاحظہ ہو، کہانی میں ظالم جاگیردار ؛ جس نے اپنے غلام کو رہنے کے لئے مکان دے رکھا تھا، اس کے انتقال کے بعد(جو جاگیردار کی مخالفوں سے لڑائی میں مارا گیا) اس کے گھر والوں کو اپنے دیئے ہوئے مکان سے نکالنے پر تل گیا، جاگیردار کہتا ہے کہ؛ “جب غلام ہی نہیں رہا تو مکان بھی نہیں رہے گا۔”
غلام کی بیوہ اپنے بچوں کی خاطر جاگیردار سے رحم کی اپیل کرتی ہے، لیکن وہ کسی بھی قمیت پر آمادہ نہیں ہوتا؛ غریب غلام کی جان کی قمیت بیس ہزار لگا کر؛ اس کی بیوہ اور بچوں گھر خالی کرنے کے لئے دھمکیاں دینے لگتا ہے، بیوہ اس قدر مجبور ہو جاتی ہے کہ وہ بیس ہزار اپنے سات سالہ بیٹے عمر اور تین سالہ بیٹی ثمن کو تھما کر؛ خود گاؤں کے کنویں میں چھلانگ لگا دیتی ہے۔”
اریبہ خاموش ہوئی اور عرش کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں ضبط کے مارے سرخ ہو رہی تھیں۔
“کیا ہوا عرش!؟؛ یہ فقط کہانی ہے۔”
“کچھ نہیں آگے بتاؤ؛ آگے کیا ہوا، اس کے بچوں کے ساتھ کیا ہوا پھر۔”
اس نے بمشکل استفسار کیا۔
“بقیہ کہانی اگلے شمارے میں آئے گی۔”
“عرش کی ضبط کی حدوں کو چھوتی؛ لال آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور بے ساختہ منہ سے نکلا، کیا؛ ایسے کیسے یار۔۔۔۔۔؟”
اریبہ نے فقط کندھے اچکا دئیے۔
بے چین دل کے ساتھ عرش نے پھر احتجاج کیا۔
“ان مصنفین کی یہی بات مجھے اچھی نہیں لگتی؛ اگر میں ان کے خلاف بولتی ہوں تو بجا بولتی ہوں، بھلے تم نہ مانو لیکن یہ لوگ ایسی جگہ پر کہانی کو ادھورا چھوڑ جاتے ہیں؛ جہاں بندے کو اپنی موت تو قبول ہوتی ہے لیکن انتظار کسی بھی قیمت نہیں۔”
عرش رخ موڑ کر بیٹھ گئی، اس کے ذہن ایک ہی سوال گھوم رہا تھا؛
“بچوں کا کیا قصور تھا؟؛ پہلے باپ اور پھر ماں بھی چھن گئی، ان کا کیا بنے گا؛ اگر وہ اس کتے، فرعون جاگیردار کے ہاتھ لگ گئے تو کیا بنے گا ان کا۔۔۔۔۔؟”
“اریبہ! یہ جاگیردارانہ نظام  کیا ہے؟، مطلب؛ کیا واقعی میں ہمارا معاشرہ ایسا ہے؟، جاگیردار کے خلاف کوئی نہیں بول سکتا؟۔”
“ہاں لیکن تم اس پر اتنا نہ سوچو، چلو کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے میں چلتی ہوں۔”
اریبہ اپنی کلاس میں چلی گئی اور عرش؛ جس کے دل و دماغ میں ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی، عجیب سی الجھن میں گھری اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔
************
گزشتہ رات بے چین رہنے کے بعد آج عرش کالج کے لئے بغیر ناشتہ کئے ہی نکل پڑی، فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے وہ پولیس کے ساتھ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس طرف بڑھی لیکن سامنے دو بچوں کی لاشوں کا منظر اس کے لیے ناقابل یقین تھا۔
ان کو دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا:
“نہیییییں! ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟۔”
چہرے کا رنگ یک دم فک ہوا، اس وقت عرش کا دل و دماغ ہم کلام تھے:
“ایسا نہیں ہوسکتا، نا ہی یہ اتفاق ہے اور نا ہی کوئی خواب۔۔۔۔۔؛ مگر میرے گاؤں کے بچے کیسے یوں بیچ سٹرک کچلے جا سکتے ہیں۔؟”
عرش کی آنکھیں اس وقت ایک مصنف کی آنکھ کا آئینہ بنی ہوئی تھیں اور وہ اس قدر بھیانک پن کے ساتھ معاشرے کا عکس دیکھ رہی تھی کہ خود سے ہی سوال کناں تھی:
“کیا میں بھی جاگیرداروں کی صف میں کھڑی ہوں؟۔”
اس کے کانوں میں  مختلف کہانیوں اور افسانوں کے جملے ہتھوڑے کی مانند لگ رہے تھے؛ وہ ادھوری کہانی شمارے کے آنے سے پہلے ہی جیسے مکمل ہو گئی ہو؛ وہ پیچھے مڑی اور خاموشی سے گھر کی طرف لوٹ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں