142

افسانہ: لب بستہ

تحریر شئیر کریں

افسانہ: لب بستہ1

ہجوم میں کھڑے ہو کر بھی تنہا محسوس ہونا، ایک الگ قسم کی خاموشی ہوتی ہے۔ امشال اس وقت جامعہ کے آڈیٹوریم میں بیٹھی تھی۔ اس کے اردگرد قہقہے تھے، روشنی تھی، شور تھا لیکن اُس کے اندر ایک ایسی چپ رینگ رہی تھی جو آواز کو اندر ہی سونگھ لیتی ہے۔ اسٹیج پر ایک طالب علم جذباتی نظم پڑھ رہا تھا اور سامعین داد دے رہے تھے؛ مگر امشال کی سماعت جیسے کسی اور دنیا میں الجھی ہوئی تھی۔

اس کے ہاتھوں کی انگلیاں مٹھی میں بھنچی ہوئی تھیں اور نگاہیں اسکرین پر چمکتے الفاظ پر نہیں، بلکہ اپنے باطن میں اُٹھنے والے ایک سوال پر جمی ہوئی تھیں۔

اُسے یاد آیا، آخری بار امی جان نے کہا تھا:
“بیٹی! سچ بولنا کبھی چھوڑنا مت، چاہے سب تمہیں چھوڑ دیں۔”
اور پھر ایک دن۔۔۔ واقعی سب نے چھوڑ دیا۔

******

جمعرات کا دن بھی عام سا ہی تھا، جب امشال نے اسکالرشپ فارم کے ساتھ وہ تحقیقی مقالہ جمع کروایا، جس پر اُس نے کئی مہینے رات دن ایک کر کے محنت کی تھی۔ ہر صفحہ اُس کی ریاضت، فہم دلاٸل اور فکری پختگی کا گواہ تھا۔ اُسے امید تھی کہ محنت رنگ لائے گی۔ مگر جب نتیجہ آیا، تو اُس کی امیدیں فہرست میں اپنا نام ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئیں۔ اس کی جگہ ان لوگوں کو نوازا گیا جن کے والدین ادارے کے فنکشنز میں پروفیسرز کے ساتھ تصویریں کھینچوا چکے تھے۔ وہ لڑکیاں، جو کلاس میں سوال پوچھنے سے بھی جھجکتی تھیں، آج کامیابی کی سند وصول کر رہی تھیں؛ چمکتے کپڑوں اور چمکتی قسمت کے ساتھ اور امشال؟ وہ لب بستہ، پچھلی قطار میں اپنی سیٹ پر بیٹھی، مٹھی میں انگلیاں بھینچے اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی۔ امی کی نصیحت اور اپنے ظرف کا بوجھ اُسے چیخنے نہیں دیتا تھا۔ مگر اُس دن، وہ اندر ہی اندر چیخ اٹھی:

“کیا قابلیت صرف قیمتی لباس، انگریزی لہجے اور تعلقات کی مرہونِ منت ہے؟، کیا محنت کی کوئی قیمت نہیں؟، کیا میرے پس منظر نے میری قابلیت کو دفن کر دیا؟”
******

کمرۂ اساتذہ میں خاموشی تھی، مگر امشال کے اندر شور برپا تھا۔ وہ اپنے شعبۂ ابلاغِ عامہ (Journalism) کے سربراہ، پروفیسر جمال کے سامنے کھڑی تھی۔ نگاہ میں ہچکچاہٹ تھی مگر لہجے میں سچ کی حرارت چھپی ہوئی۔

“سر! کیا ہم محنتی طلبہ کو ان کا جائز حق نہیں دیا جا سکتا؟ رزلٹ کی دوبارہ جانچچچچ آہممم کم از کم ایک موقع؟”

پروفیسر جمال نے عینک اتاری، کرسی سے ذرا سا جھک کر اُسے گھورا اور تلخی سے بولا:

“جاؤ، غریب لڑکی! شکر کرو کہ تم پاس ہو گئیں۔ تمہیں ہمارا احسان مند ہونا چاہیے کہ اتنی بڑی یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر پڑھ رہی ہو۔ تمہیں اتنا کچھ دے دیا، اب اور کیا چاہتی ہو؟ زیادہ زبان مت چلاؤ، جاٶ میرا وقت برباد مت کرو۔”

امشال کی پلکیں لرزیں، ہونٹ تھرتھرائے۔ وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ وہ دھاڑا:
“گیٹ آؤٹ!”

امشال دروازہ دھکیل کر باہر نکلی، تو باہر اس کا مضمونِ تدریس کا استاد، پروفیسر قریشی کھڑا تھا۔ اُس نے ادب سے سلام کیا تو قریشی نے سرد لہجے میں کہا:

“بیٹا، تمہارا جذبہ اپنی جگہ لیکن ہر جگہ بولنے کے لیے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات زبان بند رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب امشال کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے چپ ہو گیا۔
ایک ایسی لڑکی جس نے صحافت میں سچائی، حق گوئی اور آواز بلند کرنا سیکھا تھا۔ آج اُسی سچ پر خاموشی کی تلقین پا رہی تھی۔ آج مشال نے پہلی بار ایسا محسوس کیا جو اُس کے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا:
” کہ بیٹی بن کر خاموش رہو، عورت بن کر چپ رہو اور طالبہ بن کر صرف پڑھو۔۔۔۔انصاف مت مانگو!”

اور اُس دن وہ خود سے بھی نالاں تھی کیوں کہ اُس کے اندر کی آواز نے خود سے سوال کیا:
“کیا واقعی۔۔۔۔ لب ہلانا جرم ہے؟”
********

چند روز بعد امشال نے ایک تحریر لکھی۔ یہ کوئی جذباتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ لفظوں میں لپٹی ہوئی وہ آگ تھی جو برسوں سے سچائی کی راکھ تلے دبی ہوئی تھی۔ جو ہر قابل اور اسکالرشپ پر پڑھنے والے بچوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ اس نے الزام نہیں لگایا۔ اس نے صرف وہ کچھ لکھا جو وہ دیکھ چکی تھی، سہہ چکی تھی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی:
“سچ کو ناموں کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اپنے مجرم خود بےنقاب کر دیتا ہے۔”

یوں اگلی صبح ایچ- او- ڈی جامعہ کے نوٹس بورڈ پر چسپاں ایک پرچہ، سیاہی کی مانند اس کے کردار پر چھینٹا تھا:
“جھوٹے الزامات کے تحت تادیبی کارروائی، تعلیمی سرگرمیوں سے وقتی معطلی۔”

طلبہ کا رویہ بدل چکا تھا۔ کچھ نظریں چرا کر گزرتے، کچھ چپکے چپکے سَرگوشیاں کرتے:
*”اسے خاموش رہنا چاہیے تھا! اس نے فتنہ پھیلایا ہے!”

وہ لڑکیاں جو اس کی تحریروں سے حوصلہ پاتی تھیں، اب اپنی نظریں جھکا کر چل دیتی تھیں۔ جن کے حق کے لیے امشال نے لب کھولے تھے، وہ بھی اب اس کی لب کشائی کو شرارت کہنے لگے اور امشال؟
”لب بستہ۔۔۔۔!“
*******

اگلے روز امشال جامعہ کی کینٹین کے پچھلے کونے میں خاموش بیٹھی تھی۔ موسم میں ہلکی سی خنکی تھی۔ آسمان پر بادل سجے تھے اور فضا میں ایک اجنبی سی چپ پھیلی ہوئی تھی۔ سامنے میمونہ بیٹھی تھی، جو سچ کو اب بھی سمجھتی تھی مگر کہنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔

امشال نے سر ذرا سا جھکایا، پھر نظریں اُٹھا کر میمونہ کی طرف دیکھا۔ وہ نظر وقت کی ایک ایسی پرت سے جُڑی ہوئی تھی، جو گزر چکی تھی مگر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ جو نہ مکمل تھی نہ معدوم، اس کے ہونٹوں پر تھمی رہی۔
پھر اُس نے سوالیہ انداز میں میمونہ کی طرف دیکھا اور دھیرے، مگر گہرے کرب سے لب کھولے:

“ہاں دوستاں! یہ احساس ”کہ مجھے خاموش کر دیا گیا“ ایک مکمل اذیت ہے اور جب دنیا تم سے امید باندھتی ہے کہ تم پھر سے بولنے لگو، تو وہ نہیں جانتی کہ تم نے اپنی آواز کس قیمت پر کھو دی ہے۔”

یہ الفاظ میمونہ کی کان سے ٹکرا گٸے تو کچھ لمحوں کے لیے وقت جیسے منجمد ہو گیا۔

امشال کی آنکھیں۔۔۔وہ شفاف نہیں رہیں تھیں، وہ سرد تھیں، پتھریلی، بےرنگ کیونکہ ان میں جذبوں کا ایک طوفان اب مکمل ساکت تھا۔

میمونہ اس کی دوست تھیں اس لیے وہ محسوس کرچکی تھیں کہ وہ صرف معاشرے سے نہیں، بلکہ اسے اب خود اپنے سچ سے بھی جُدائی کا سامنا کرنا تھا۔ شاید اب خاموشی اُس کا مقدر بن چکی تھی، میمونہ کو لگا۔

*******

امشال نے جامعہ سے مطلعی کے بعد خاموشی کو قبول کرنے کے بجائے، اسے تحریر میں ڈھال لیا۔ اس کا قلم، جو پہلے اندر کی اذیت لکھتا تھا۔ اب سماج کی منافقت، ادارہ جاتی ناانصافی اور نظامِ تعلیم میں طاقت و تعلقات کی بنیاد پر چلنے والے فیصلوں کو کھولنے لگا۔

اس نے ایک آن لائن بلاگ ”لب بستہ“ کے نام سے بنایا، جہاں وہ بغیر نام لیے لیکن مکمل شواہد اور حالات کے تناظر میں، مسلسل ایسے مضامین لکھنے لگی:
“جب طاقتوروں کے ہاتھوں انصاف دفن ہو جائے، تو خاموشی جرم کا حصہ بن جاتی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ یہاں سچ بولنے کی سزا ملتی ہے اور آج یا کل امشال کا انجام اسی سزا کی واضح مثال ہو گی۔”

ان بلاگز نے طلبہ میں ہلچل مچا دی۔ سوشل میڈیا پر بحث چلنے لگی۔ کچھ صحافیوں اور کارکنان نے اس کی تحریروں کو شیئر کیا۔ جامعہ کی انتظامیہ نے اسے ادارے کی بدنامی سمجھا اور ایک آفیشل شکایت درج کر دی کہ ایک سابق طالبہ ادارے کے خلاف “جھوٹا پروپیگنڈا” پھیلا رہی ہے۔

یوں امشال کے خلاف ہتکِ عزت (defamation)، سائبر کرائم اور طلبہ کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات لگے۔ اب اس مقدمے کی بنیاد یہی بلاگز بنے۔
********
جمعہ کے دن عدالت کی سنگین فضا میں پہلی پیشی میں امشال سادہ لباس میں، بغیر کسی وکیل کے خود پیش ہوئی تھی۔ چہرے پر خوف نہیں، ایک عجیب سی سکون بھری ضد تھی۔ اُس کے ہاتھ میں صرف ایک فائل تھی۔ جس میں وہ تمام کالم، مقالے اور مشاہدات بند تھے جو اُس نے سچ کی بنیاد پر لکھے تھے۔

جج نے فائل کی طرف دیکھا، پھر اس کی طرف:
“آپ پر ادارے کے خلاف لکھنے، جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے اور طلبہ میں بغاوت ابھارنے کا الزام ہے۔ کیا آپ کچھ کہنا چاہیں گی؟”

امشال نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں وہ چاہتی، تو لب بستہ رہتی، لیکن آج۔۔۔۔نہیں۔

“جنابِ والا! میں نے جو کچھ لکھا، اس میں کہیں بھی جھوٹ کا شائبہ نہیں۔ میں نے صرف اُن سوالوں کو کاغذ پر اتارا، جو میری نسل روز سنتی ہے، سہتی ہے اور لب سیے گزار دیتی ہے۔”

“تو آپ مانتی ہیں کہ یہ تحریریں آپ کی ہیں؟”

“جی، اور میں یہ بھی مانتی ہوں کہ اگر سچ بولنا جرم ہے تو میں مجرم ہوں، لیکن میں چاہتی ہوں کہ میری سزا سنانے سے پہلے، آپ وہ تحریریں خود پڑھیں۔”

”کیوں؟ ایسا بھی کیا ہے!“
اس لیے جناب والا! کیونکہ آج یا تو بزدلی یا پھر انسانیت!

” میں نے بہت کوشش کی کہ میں خاموش رہو اپنے اندر ایک شور کرتے ہوۓ انسان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرادوں مگر میں ناکام ٹھہری۔ میں اپنے اندر کے اچھے انسان کا قتل تک نہیں کرسکتی۔ اس لیے تمہاری دنیا میں مجھے بزدل ہی کہلانا ہوگا۔ شاید آپ سب ہی ہمیشہ ٹھیک کہتے ہیں۔ کیونکہ تمہاری دنیا میں جینے کے لیے ظالم ہونا، بے حس ہونا اور موقع پرست ہونا ضروری ہے۔ اور میں۔۔۔۔۔ میں یہ سب نہیں کر سکتی لیکن اگر انسانیت کو بچانا بزدلی ہے، تو میں خوشی سے یہ الزام اپنے سر لوں گی۔ تو لیجیے، ہم اعتراف کرتے ہیں۔ ہاں، میں بزدل ہوں!“

کمرۂ عدالت ساکت تھا۔ باہر میڈیا، کیمرے، نعرے اور وکلا کی سرگوشیاں سب ماند پڑ گئے تھے۔

جج نے فائل اٹھائی، چند سطریں پڑھیں اور پھر ایک جملہ دہرایا:
“میں نے اپنا کفن سلوالیا ہے اور اپنی دو گز زمین پر پھول بھی اگا دیے ہیں تاکہ میری غیر موجودگی میں بھی خوشبو باقی رہے۔”

جج کی آنکھوں میں ایک لمحے کو نمی سی تیر گئی۔ اُس نے فائل بند کی اور پھر کہا:

“عدالت اس مقدمے میں صرف سزا سنانے کی نہیں، سچ کو سننے کی بھی پابند ہے۔ یہ سماعت ملتوی کی جاتی ہے تاکہ تحریر کا ہر لفظ انصاف کی نظر سے گزرے۔”

اس دن امشال کمرۂ عدالت سے نکلی تو وہ خاموش تھی، مگر لب بستہ نہیں۔

کیونکہ آج پہلی بار اُس کے سچ کو آواز ملی تھی اور شاید کل۔۔۔ انصاف بھی۔

افسانہ: لب بستہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں