2,758

اقبال کا تصور خودی

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر زبان ذد عام ہے لیکن اس میں جو لفظ خودی استعمال ہوا ہے اس کے اصل مفہوم سے شازو نادر ہی کوئی آشنا ہو۔

خودی کے معنی اور عام نظریہ

خودی فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی ذات کے شعور کے ہیں۔۔ جب لفظ خودی زہن میں آتا ہے تو عام طور پر اس سے مراد اپنی ذات اور اس کے اغراض و مقاصد لیے جاتے ہیں۔ خود پرستی اور خود نمائی دونوں خصوصیات اس پردے کے عقب سے جھانکتی نظر آتی ہیں۔ لیکن اقبال کا تصور خودی اور اس کا فلسفہ مختلف بنیاد پر قائم ہے۔

اقبال کا تصور خودی مفکرین کی نظر سے

اقبال کے تصور خودی کی تشریح کرتیں کئی مفکرین نے ضحیم کتب رقم کی ہیں۔ مقالہ جات پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ واصف علی واصف نے اپنے مقالہ میں لکھا ہے۔

”خودی جوہرِ ذاتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو کسی بھی ذات کے ہونے اور نہ ہونے کا فرق مٹ جائے۔ خودی ہر وجود میں موجود ہے اور اس کا اپنا کوئی علیحدہ وجود نہیں۔“

ڈاکٹر افتخار صدیقی کی کتاب ” فروغِ اقبال “ میں نظریہ خودی کی مثال یوں ہے۔

” نظریہ خودی، اقبال کی فکر کا موضوع بنا رہا۔ جس کے تما م پہلوئوں پر انہوں نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ اقبال نے ابتداءہی میں اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ خودی سے ان کی مراد غرور و نخوت ہر گز نہیں بلکہ اس سے عرفان ِ نفس اور خود شناسی مراد ہے۔“

اقبال کےنزدیک خودی کی تعریف

اقبال نے بڑے واضح الفاظ میں خودی اور غرور کو دو الگ سمت بہتے دریاؤں کے دھارے قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق خودی, خود پسندی نہیں بلکہ خود شناسی ہے۔ انسان کی اپنے اندر تہہ در تہہ اتر کر ذات کے تمام رخوں کو جاننا اور اپنی ذات کی وہ پہچان جس کے لیے انسان کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس کی مختلف صفتوں کا اپنے وجود کی روشنی میں جائزہ لینا اور اپنے مقصد کے تعین میں درست سمت کی تلاش کو پانا ہی خودی کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

خودی انسان میں عاجزی کا احساس پیدا کرتی ہے اور شخصیت کے مثبت پہلو اجاگر کرتی ہے یہاں ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوتی ہے کہ بعض اوقات انسان خودی کی تلاش میں درست سمت کا تعین نہیں کر پاتا اور خودی کی بجائی خود نمائی کی سرحد پر کھڑا اس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس نے خودی کو پا لیا۔ خوی پانے کا نام ہی نہیں بلکہ اپنی ” میں “ کو ختم کر کے اجتماعی مفاد میں ضم ہو جانے کی داستان ہے۔

اپنی کتاب اسرار خودی کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں اقبال نے لکھا ہے۔

” ہاں لفظ”خودی “ کے متعلق ناظرین کو آگاہ کردینا ضروری ہے کہ یہ لفظ اس نظم میں بمعنی ”غرور “استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کا مفہوم تعین ذات ہے۔

یہی مفہوم اقبال کے اس شعر میں دیکھا جا سکتا ہے

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

خودی کے درجات

اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت کے سلسلے میں انسان تین طرح کے درجات سے گزر کر سرخرو ہو تب ہی وہ خودی کی روح کا اصل مقصد سمجھ پاۓ گا۔

اطاعت باری تعالی

خودی کا سرِّ نہاں لااِلٰہ اِﷲ
خودی ہے تیغ فساں لااِلٰہ

اطاعت کے تصور کے ساتھ ہی وحدانیت کا احساس بھی دماغ میں شدت پسندی کے ساتھ حملہ کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی کا پہلا درجہ رضاۓ الہی ہے اور اس کی رضا کا حصول اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ اپنی ذات کی گرہ کھولنے کے لیے اپنے خالق کے احکامات پر عمل بند ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ جب دل و دماغ ایک نقطے پر مرکوز ہوں تب انسان کا اپنے پروردگار سے رابطہ خاص بنیادں پر استوار ہو جاتا ہے جو اسے اس کا اصل پہچاننے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام ِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

بندگی میں انسان کو ابدی سکون ملتا ہے۔ انسان اپنی وجہ حیات کو دریافت کر لے تو پہلا درجہ کہلاتا ہے۔

نفس پر قابو پانا

خودی کےحصول کا دوسرا درجہ اپنے نفس اور اس کی بے لگام خواہشات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ہمارے نبی پاکﷺ‎ کا فرمان ہے ” جس نے اپنے نفس پر قابو پا لیااس نے رب کو پہچان لیا۔

یہ انسان کا اپنا نفس ہے جو اسے کوشش پر ابھارتا ہے اور جس کے کہنے کے مطابق انسان اچھے برے کی پہچان کو نکلتا ہے۔ جب تک تزکیہ نفس کا حصول نہ ہو انسانکے لیے خودی کی تلاش بے معنی ہے۔ اپنے نفس کو مطمئن کر کے ضمیر کے بوجھ سے آذاد ہونا ہی خودی کی تربیت کا دوسرا درجہ ہے۔

خودی کی یہ ہے منزل اولیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاکداں سے نہیں
جہاں تجھ سے تو جہاں سے نہیں!

نائب مقرر کیا جانا

پہلی دو منزلوں کو پانے کے بعد ہی نیابت الہی کا قرب حاصل ہوتا ہے انسان اس اوج کی تلاش کو پا لیتا ہے جس کے لیے خودی کے بلند ترین نصب العین کا تعین کیا گیا تھا۔
یہ درجہ شخصیت کی کاملیت بھی کہلاتا ہے۔ اس کا تصوف کے ساتی ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے اندر کی انفرادیت کو ختم کر کے اجتماعیت کی سوچ کے مطابق چلنا شروع کرتا ہے۔ اس کے اندر درویشانہ و فقیرانہ صفات اجاگر ہو جاتیں ہیں۔

خودی ہے زندہ تو ہے فقر میں شہنشاہی
ہے سنجرل و طغرل سے کم شکوہ فقیر

خودی کا شاعری سے ربط

خودی اقبال کی شاعری کا بنیادی تصور ہے اور اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیادی اینٹ ہے,
”اسرار خودی“،”رموزِ بے خودی“اور جاوید نامہ میں تصور خودی کو بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان فرمایا ہے ۔جس کا مقصد انسان کو اپنی آزادانہ خودی اور شخصیت کی پرتوں سے آگاہ کرکے کارزار حیات میں اللہ کے نائب تک لانا ہے۔

آج کی تہذیب و تمدن کے عدم مساوات کو بدل کر خواجہ و مزدور،حاکم و محکوم اور محمود وایاز کی تمیز کو مٹا کر خالق و مخلوق میں انسانی برادری کی سطح پر ایک نیا رشتہ قائم کرنا ہے جو فطرت کے عین اصولوں کے مطابق ہو۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں