504

الفاظ کی اہمیت

تحریر شئیر کریں

الفاظ کی اہمیت پہچان کر اپنی زندگی مین انقلاب لائیے

لفظوں کی بھی اپنی ہی دنیا ہے۔ہر لفظ اپنے اندر بے پناہ1 وسعت رکھتا ہے۔کچھ لفظ” حکومت ” کرتے ہیں کچھ ” غلامی”کچھ لفظ ” حفاظت ” کرتے ہیں اور کچھ ” وار “۔

ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،تو سمجھ آیا ۔۔۔۔!!لفظ صرف معنی نہیں رکھتے،یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں یہ ہاتھ رکھتے ہیں، جو ” گریبان ” کو پھاڑ دیتے ہیں ۔یہ پاؤں رکھتے ہیں،جو” ٹھوکر ” لگا دیتے ہیں ۔اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں ” لہجہ ” کا اسلحہ تھما دیا جائے،
تو یہ وجود کو “چھلنی” کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔

اپنے لفظوں کے بارے میں “محتاط” ہو جاؤ، یہ سہارا بن سکتے ہیں تو سہارا چھین بھی سکتے ہیں۔یہ کسی کو پناہ دکے سکتے تو پناہ چھین بھی سکتے۔انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو یہ کسی بکھرتے وجود کو سمیٹ لیں گےیا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔کیونکہ یہ تمہاری ” ادائیگی” کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ور ہر بادشاہ جواب دہ ہے سب سے بڑے بادشاہ کے آگے۔ (پروفیسر رف رف)

لفظوں کی سائنس ہے۔جدید سائنس انکی اہمیت کو جان چکی ہے۔اس کے اوپر پوری ایک دنیا وجود میں آ چکی ہے.انرجی کا بہاؤ وہاں ہوتا ہے جہاں توجہ وقوع پزیر ہوتی ہے۔مغرب نے الفاظ کی اثر پزیری کو دیکھتے ہوۓ اس سے لاعلاج بیماریوں کا علاج بھی کرنا شروع کر دیا ہے۔جسے آٹو سجیشن طریقہ علاج کہا جاتا ہے۔Auto siggesstion mathod

یہ بھی پڑھیے

خودشناسی


آٹو سجیشن طریقہ علاج سے لفظوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اس کی مدد سے ہم برے خیالات کو اچھے اور جاندار الفاظ میں بدل کر خود کو خوش اور صحت مند بنا سکتے ہیں۔
مائنڈ سائنس کہتی ہے کہ اگر آپ خود کو بار بار یہ کہیں کہ میں ناکام ہوں تو آپ کو ناکام ہونے سے کوئی نہیں رہ سکتے۔اسی لیے سیلف ٹاک کرتے ہوۓ فوکس ایسے الفاظ کی بجاۓ ایسے الفاظ پہ ہونا چاہیے۔میں ایک باہمت اور باصلاحیت انسان ہوں۔اگر روزانہ رات سونے سے پہلے ان الفاظ کو شعوری طور پر بول کر دہرائیں تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ ماہ کی پریکٹس سے وہ خوبیاں اور صلاحیتیں آپ کے اندر پیدا ہونا شروع ہو جاییں گیں۔نپولن کا قول ہے کہ کوئی بھی خیال نظریہ اور آئیڈیا ہمارے دماغ میں الفاظ کی تکرار کے بعد وجود میں آتا ہے۔یعنی پہلے ہم وہ الفاظ بولتے ہیں۔وہ الفاظ تصور بن کر ہمارے دماغ میں جگہ بناتے ہیں۔پھر یہ تصویر ہمارے لاشعور میں بیٹھ جاتی ہے۔اور جو بات یا تصور دماغ میں بیٹھ جاۓ وہ بے پنای طاقت رکھتا ہے۔دماغ اسی اصول پہ عمل کر کے ہم سے مختلف اعمال کرواتا یے۔لہذا جو بھی بولیں دھیان سے بولیں۔الفاظ کی اہمیت میاں بیوی کے تعلق سے بھی واضح ہوتی ہے۔یہ پاکیزہ رشتہ جو تمام رشتوں کی بنیاد ہے۔چند الفاظ سے وجود میں آتا اور چند الفاظ سے ختم بھی ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں