قسط نمبر 2
جواللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان بھی نا کرے گا۔القرآن
۔۔۔۔
غربت کی بھی وجوہات ہیں۔جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ غریب بلا وجہ غریب نہیں ہوتا۔وہ اس کی قیمت دیتا ہے۔جبھی غربت جیسے پھندے میں پھنستا ہے۔ذیل میں ہم دیکھیں گے کہ غربت کے پیچھے کون کون سی وجوہات کارفرما ہوتیں ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ رزق کے چار دروازے ہیاں۔پہلے تین کا تعلق مسلمانوں کے ساتھ ہے جب کہ آخری دروازہ صرف غیر مسلموں کے لیے ہے۔
یقین
اللہ کی یاد
تقوی
کمانے کے لیے زریعہ معاش
۔۔۔۔
یقین کامل اور رزق
جتنا ہمارے اندر رازق پر یقین واثق ہوتا ہے اتنا ہی اللہ رزق دیتا ہے۔اللہ کہتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں۔ماڈرن علوم اس حقیقت کہ معترف ہیں کہ انسانی دماغ یقین کے اصول پہ کام کرتا ہے۔جس چیز پہ اسے ہقین ہو جاتا ہے وہ اسے کرنے کے ہزاروں راستے ڈھونڈ لیتا ہے۔نیورولینگویسٹک کے ماہرین بتاتے ہیں کہ آپ کا دماغ اتنا طاقتور ہے کہ یہ جو کچھ سوچ سکتا ہے اسے تخلیق کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔دوسرے لفظوں میں ہمارا دماغ وہ سوچ سوچ ہی نہیں سکتا جو ممکن نا ہو۔جس شخص کو یقین ہوتا ہے کہ وہ پیسہ کمانے میں لکی ثابت ہوا ہے تو وہ واقعتا لکی ہی ہوگا اور جس کو یقین ہو کہ کہ اسے خسارا ہی ہونا ہے تو اے خسارا ہو کر رہتا ہے۔جب تک پیسے کے حوالے سے اپنا یقین درست نہیں کریں گے۔۔پیسہ ہم سے اور ہم پیسے سے دور ہی رہیں گے۔
کیا یقین نۓ سرے سے بنایا جا سکتا ہے؟
جی ہاں۔۔۔دو تین ماہ کے عرصے میں آپ پرانا یقین کو ختم کر کے نیا یقین بنا سکتے ہیں۔
طریقہ:
سب سے پہلے آپ کچھ الفاظ کا چناؤ کریں گے۔۔۔جیسا کہ مجھے خود پہ یقین ہے ۔میں پیسہ کمانے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہوں۔جبھی مجھے مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔اس فقرے کو فریش دماغ کے ساتھ رات سوتے وقت اکیس بار دہرائیں۔یہ عمل روزانہ کریں اور ساتھ ساتھ آنکھیں بند کر کے جو کہہ رہے ہیں اسکی عملی تصویر بھی دیکھیں۔یعنی خود کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں سکرین پر دیکھیں۔
کچھ ہی ماہ بعد آپ کا دماغ اس نۓ پروگرام کو انسٹال کر لے گا اور پھر پیسہ کمانا آپ کے داہنے ہاتھ کا کھیل ہوگا۔
2۔اللہ کو یاد کرنا:
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جو لوگ میرے ذکر سے کنی کتراتے ہیں میں ان کی معیشت تنگ کر دیتا ہوں۔
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو میری یاد سے منہ موڑتا ہے میں اس کے دونوں ہاتھ کاموں سے بھر دوں گا۔
اللہ کی یاد کی بہترین شکل نماز ہے۔پنج وقت نماز آپ کے لیے خوش حالی لاتی ہے ۔غربت اور تنگدستی سے نکالتی ہے۔
اسی طرح استغفار بھی اللہ کی یاد کی ایک صورت ہے۔استغفار مالی پریشانی کو ختم کرتی ہے۔علماۓ اکرام کےدن میں مطابق تین سو بار استغفار پڑھیں ۔یہ آپ کہ زندگی میں نعمتوں کے انبار لگا دے گی۔
3۔تقوی
تقوی سے مراد گناہوں سے بچنا ہے۔جتنا آپ متقی اور پرہیزگار ہوتے چلے جاتے ہو۔اتنا ہی اللہ کی نعمتوں کی برسات آپ پرہونا شروع ہو جاتی ہے۔تقوی یہ بھی ہے کہ آپ پیسہ کمانے کے لیے جو بھی زریعہ استعمال کریں اس میں خوف خدا شامل ہوناچاہیے۔بدعنوانی کی کوئی چھوٹی اور بڑی شکل اس میں شامل نہیں ہونی چاہیے۔رزق حلال آپ کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ایک مسلمان کے بنیادی عقائد میں یہ چیز شامل ہونی چاہیے۔
من یتق اللہ یجعل اللہ مخرجا و یرزقہ مین حیث لا یحتسب
جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان بھی نا رکھتا ہو۔
4۔زریعہ معاش
اب چوتھا دروازہ کب معاش ہے جو سب کت لیے ہے مگر ایک مسلمان جب تک چاروں دروازوں سے نہیں گزرتا۔کامیابی مقدر نہیں بنتی۔
۔