369

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا ہر کام خراب ہو جاتا ہے تو یہ تحریر آپ ہی کے لیے ہے۔

تحریر شئیر کریں

موجودہ دور کے نیورولنگویسٹک اور سوشل سائنسز کا ایک ہی موضوع ہے وہ ہے کامیاب کیسے بنا جاۓ؟جب کامیابی کے سفر پہ نکلتے ہیں تو جن وجوہات کو تلاشا جاتا ہے وہ ہے ناکامیوں کی وجوہات۔۔گویا دو چیزیں کامیابی کے سفر میں آپ کا موضوع بنتیں ہیں۔کامیاب دماغ اور ناکام دماغ۔۔۔دونوں ٻکی اپنی اپنی وجوہات ہیں۔نیورولنگویسٹک اور قرآن دونوں کامیابی کے راستے کی بڑی رکاوٹ جس چیز کو سمجھتے ہیں وہ ہیں دوسروں کو مورد الزام ٹہرانا۔اور خود کو victim سمجھنا۔قرآن پہ غور کریں تو اللہ نے دو لوگوں کی مثال دے کر کامیابی اور ناکامی کی تھیوری بتادی ہے۔ایک ہے شیطان کا رویہ اور دوسرا ہے رحمن کے بندے کا رویہ۔۔۔شیطان کا جملہ قرآن نے دو جگہ شامل کیا ہے۔جس میں شیطان سورہ اعراف میں اپنا دفاع کرتے ہوۓ کہتا ہے کہ کہ مجھے اللہ نے نعوذباللہ گمراہ کیا اب میں اسکی مخلوق کو گمراہ کروں گا۔یہ ہے blaming attitude ،جس کی وجہ سے آج لوگوں کی اکثریت گمراہ ہو رہی ہے۔جبکہ قرآن واضح طور پر کہتا ہے۔ظہرالفساد فی البر والبحر۔۔۔۔خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا تمہارے ہاتھوں کے اعمال سے۔حدیث مبارکہ کے مطابق انسان کو سر درد بھی نہیں ہو سکتا اگر وہ گناہ کرنا چھوڑ دے۔
دوسرا مشہور مائنڈ سیٹ جو کامیاب لوگوں میں دکھائی دیتا ہے۔وہ ہے اپنے اعمال کی ذمہ داری خود قبول کرنا۔دوسروں کو مورد الزام نا ٹہرانا۔قرآن اپنے کامیاب لوگوں کا مائنڈ سیٹ بتاتے ہوۓ کہتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے الفاظ ربنا ظلمنا انفسنا۔۔۔اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا۔۔۔حالانکہ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ مجھے شیطان نے پھسلا دیا۔۔مگر چونکہ وہ اللہ کے کامیاب انسان تھے۔اس لیے انہوں نے اپنی ذمہ داری خود قبول کی۔
دوسری مثال حضرت یونس علیہ السلام کی ہے ان کے الفاظ پہ غور کریں۔۔لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین٠حالانکہ بظاہر مچھلی نے ان کو نگلا تھا۔وہ مچھلی کو موردالزام ٹہرا سکتے تھے۔مگر یہ ناکام مائنڈ سیٹ تھا۔کامیاب مائنڈ سیٹ ہمیشہ ذمہ داری قبول کرنا سکھاتا ہے۔
جدید تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جو شخص جتنا ذمہ دار ی قبول کرتا ہے وہ اتنی ہی قیمتی ہے۔


۔۔۔
لہذا کامیابی کا پہلا اصول یہ ٹھرا کہ ذمہ داری قبول کرنا سیکھیے۔یہ انبیاء کا وصف ہے۔یہ کامیاب ترین لوگوں کا راستہ ہے۔یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جنہوں نے زندگی میں خود کو گرو کیا۔آگے بڑھے اور آج دنیا ان کے نام کی مالا جپتی ہے۔دونوں راستے آپ کے سامنے ہیں۔انتخاب آپ کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں