557

ایکی گاۓ

تحریر شئیر کریں

ایک ایسی کتاب جو آپ کو خودشناس بنادےگی۔

دنیا میں بهت کم کتابیں هوتیں هیں جو آپ کو خود سے ملاتیں هیں ۔جینا سکھاتیں هیں۔خودشناس بناتیں هیں۔ایسی هی ایک کتاب ” ایکی گاۓ”بھی ہے۔ایکی گاۓ دراصل چاپانی فلسفه هے که آپ کے جینے کا جواز کیا هے ؟اس کتاب کا موضوع خودشناسی هے۔ہمارے ہاں علامه اقبال کے بعد اسے بڑے پیمانے پر روشناس کروانے کا سهرا قاسم علی شاه کو جاتاهے۔ان کی کوئی کتاب اٹھا کے دیکھ لیں ،کوئی تقریر سن لیں کوئی آرٹیکل پڑھ لیں “خودشناسی “کی بات ضرور هوگی۔
اس کتاب کا محرک ایک جزیرے کے لوگ بنیں۔۔دنیا میں اس وقت اوسط عمر کے لحاظ سےجاپانی لوگ طویل ترین عمریں پاتے هیں۔اس سے بھی ماسوا جاپان کا ایک جزیرہ ہے جہاں کے لوگ طویل ترین عمر تک زنده رهتے هیں۔ایکی گاۓ انہی پہ ایک ریسرچ ہے۔اس جزیرے کے لوگوں په جب تحقیق کی گئی تو پتہ چلا انکی طویل العمری کا راز یہ ہے کہ یہ لوگ خوش رهتے هیں اور خوشی کا راز یه که یه لوگ اپنے هونے کے جواز کو جانتے هیں ۔یہاں کے لوگ اوسطا سو سال سے بھی طویل عمر پاتے هیں اور اسی سال کا بوڑھا بھی خوشی خوشی کام په جاتا هے۔اس عجیب وغریب جزیرے کا نام اوکی ناؤ ہے۔
کہا جاتا ہے دنیا کا طویل ترین سفر خودشناسی کا سفر هے۔یہی اس کتاب کا بنیادی موضوع هے۔ایکی گاۓ کا فلسفہ ہے کہ بے مقصد انسان کسی کام کا نهیں هوتا ۔جب انسان جینے کی وجه ڈھونڈ لیتا هے تو خودشناس هو جاتا هے۔اور یہ چیز اس کو اندر باہر سے مسرور کر دیتی ہے۔یوں وه لمبی عمر پاتا هے۔پرانے وقتوں کے لوگ بھلے یونورسثیوں سے فارغ التحصیل نھیں بھی تھے مگر وه اپنے هونے کے جواز سے ضرور واقف تھے۔خودشناس تھے۔جبھی لمبی عمر پاتے تھے جوں انسان اس فلسفے سے دور هوتا گیا یعنی مقصد حیات کو فراموش کرتا گیا۔اپنی عمر کم کرتا گیا۔
ایکی گاے کتاب کا خلاصه درج ذیل چار حصوں پر مشتمل ہے۔
سب سے پہلا حصه:وہ کام تلاش کریں جسے کر کے آپ خوش هوتے هیں ۔جو کرتے ہوۓ آپ تھکتے نهیں۔جو کسی مطلب کے بغیر بھی کرنے کے لیے تیار رهتے هیں۔
دوسرا حصه:ایکی گاۓ کا مصنف اکساتا هے که اب آپ وه کام ڈھونڈیں جس میں مهارت رکھتے هیں۔بڑے لوگ ایسے ملیے گے جنهیں اپنی زندگی کے آخری حصے میں ادراک هوا اور وهی کام ان کی ترقی کا باعث بنا۔
تیسرا حصه:
زنده رهنے کے لیے انسان پیسے کا محتاج هے۔تیسرے مرحلے میں آپ نے وه کام ڈھونڈنا هے جو آپ کو پیسے دلا سکے۔
چوتھا حصه:
اللہ نے انسان کو ایک دوسرے کی ضرورت بنایا هے۔ وہ کبھی بھی اکیلے ترقی نہیں کر سکتا۔لہذا چوتھے مرحلے میں یه دیکھیں کے دنیا کو کس چیز کی ضرورت هے۔
یہ چاروں پوائنٹ بهت اهم هیں هر اس انسان کے لیے جو خود کی تلاش میں هے۔یہ سفر واحد سفر هے جو انسان کے اندر سے شروع هوتا هے اور اندر هی ختم هوجاتا هے۔خودشناسی وه دولت هے جو همیں خدا تک لے جاتی هے۔بقول اقبال
اپنے من میں میں اتر کے پاجا سراغ زندگی۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں