235

بلڈ پریشر اور میگرین کے مریض روزہ کیسے رکھیں؟

تحریر شئیر کریں

بلڈ پریشر اور شور (Migraine) کے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا ایک چیلنج ہوسکتا ہے، لیکن اگر صحیح طریقے سے پلاننگ کی جائے تو روزہ رکھنے کے دوران صحت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ یہ گائیڈ آپ کو بلڈ پریشر اور شور کے دوران روزہ رکھنے کے مفید طریقے بتائے گی۔

بلڈ پریشر کے مریض روزے کے دوران کن باتوں کا خیال رکھیں؟

1. ڈاکٹر سے مشورہ کریں – روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں، خاص طور پر اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور باقاعدہ دوائیں لیتے ہیں۔
2. دوائیوں کا شیڈول بنائیں – سحری اور افطار کے وقت دوائی لینے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مناسب شیڈول طے کریں تاکہ دن بھر بلڈ پریشر کنٹرول میں رہے۔
3. نمک کا کم استعمال – زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے، اس لیے سحری اور افطار میں کم نمک والی غذا کھائیں۔
4. پانی زیادہ پیئیں – روزے کے بعد جسم میں پانی کی کمی سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے، اس لیے افطار سے سحری تک کم از کم 8 گلاس پانی پینے کی کوشش کریں۔
5. کیفین سے پرہیز کریں – چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیونکہ یہ بلڈ پریشر کو متاثر کر سکتے ہیں۔

(Migraine) کے مریض روزہ کیسے رکھیں؟

1. متوازن سحری کھائیں – سحری میں ایسی غذائیں شامل کریں جو دن بھر توانائی فراہم کریں، جیسے دہی، کھجور، اور فائبر سے بھرپور غذائیں۔
2. پانی کی کمی سے بچیں – ڈی ہائیڈریشن مائیگرین کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے سحری اور افطار میں پانی اور قدرتی مشروبات زیادہ پئیں۔
3. لمبے وقفے کے بعد کیفین نہ لیں – اگر آپ چائے یا کافی کے عادی ہیں تو روزہ کھولنے کے فوراً بعد زیادہ مقدار میں نہ پئیں، ورنہ سر درد ہو سکتا ہے۔
4. افطار میں زیادہ چکنائی اور میٹھے سے پرہیز کریں – زیادہ چکنائی والی غذائیں مائیگرین کو بڑھا سکتی ہیں، اس لیے ہلکی اور صحت بخش غذا کھائیں۔
5. **نیند پوری کریں – نیند کی کمی شور کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے روزے کے دوران مناسب آرام کرنا ضروری ہے۔

کن صورتوں میں روزہ چھوڑ دینا چاہیے؟

– اگر روزے کے دوران بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جائے یا کم ہو جائے۔
– شدید مائیگرین ہو، جس سے روزمرہ کے کام انجام دینا مشکل ہو۔
– اگر ڈاکٹر خاص طور پر روزہ نہ رکھنے کی ہدایت دے۔

بلڈ پریشر اور شور کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں، مگر انہیں اپنی خوراک، پانی کی مقدار اور نیند پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ اگر کوئی پیچیدگی محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہے۔ رمضان میں صحت مند رہنے کے لیے متوازن غذا اور صحیح طرزِ زندگی اپنانا ہی بہترین حل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں