459

بچوں کو ان کی اہمیت کا احساس کیسے دلائیں؟

تحریر شئیر کریں

بچوں کو ان کی اہمیت کا احساس کیسے دلائیں؟یہ وہ موضوع ہے جو بچوں کی تربیت کا اہم ترین موضوع ہے۔

احساس کمتری کا شکار بچوں کے اندر جو چیز عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے وہ یہ کہ ان کو بچپن میں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ آپ ہمارے لیے کتنے اہم ہو۔آپ کی ہماری زندگی میں کتنی اہمیت ہے؟ہم آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ہم آپ کی بات سنتے ہی نہیں مانتے بھی ہیں۔آپ کے آنے سے ہماری زندگی میں بہار آئی ہے۔

حالانکہ جب بچہ نہیں ہوتا والدین کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اس کے بغیر ادھورے ہیں۔مگر بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کو اس کی ویلیو نہیں بتائی جاتی یہی وجہ ہے جب وہ بڑا ہوتا ہے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ بھی اہم ہے وہ کچھ کر سکتا ہے۔سب کچھ ہوتے ہوۓ بھی اسے اپنا آپ خالی خالی سا لگتا ہے۔احساس محرومی فکری غلامی ہے جس میں وہ تا عمر مبتلا رہتا ہے۔
بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں دو سال سے لے کر سات سال تک کی مدت وہ مدت ہوتی ہے جب اس نھنھے پودے کی آ بیاری کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے اہم ترین وقت رات کا ہوتا NLP کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وقت بچے کی مائنڈ پروگرامنگ کے لیے اہم ہوتا ہے۔اس وقت دماغ کی فریکوئنسی اس حالت میں ہوتی ہے کہ ا سے آسانی سے ہپناٹائز کیا جا سکتا ہے۔ہپناٹائز کا مطلب جو بات بھی اسے کہے گے وہ آسانی سے اپنے دماغ میں بٹھا لے گا۔اور ذہین سے لاشعور میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاۓ گی۔کرنا یہ ہے کہ بچہ جب دوسال۔سے اوپر کا ہو جاۓ اور بات کو سمجھنے لگ جاۓ تو آپ نے روزانہ پانچ جملے اسے سوتے وقت کہنے ہیں۔

“میں خوش ہوں کہ آپ میرے بیٹے ہوں۔”

یہ سوال روزانہ کی بنیاد پر ہوچھنا ہے۔مفہوم یہی ہونا چاہیے مگر الفاظ ردو بدل کر کے بھی ہوچھ سکتے ہیں۔شکرگزاری اللہ کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی ہونی چاہیے۔بطور ماں اور باپ آپ اپنے بچے کو ایک ان کی اہمیت بتائیں گے دوسرا یہ ظاہر کریں گے کہ ہم شکر گزار ہیں کہ آپ ہماری زندگی میں آئۓ۔اللہ کے بھی کی اس نے آپ کو ہمارے پاس بھیجا۔شکرگزاری محسوس کیجیے اور بچوں کو اپنے عمل سے محسوس کروائیے۔شکرگزاری کی کمی انسان کے بہت سے مسائل کی وجہ ہے۔یہی وجہ ہے ان کو وہ سب دکھتا ہے جو نہیں ہے مگر وہ بے شمار نعمتیں نظر نہیں آتیں جو دکھ رہی ہوتیں ہیں۔

“آپ کے کل کی روٹین کیا ہے؟آپ صبح کیا کام کریں گے؟”

یہ وہ سوال ہے جو ان کو مستقبل کی فکر پہ آمادہ کرتا ہے۔ان کے اندر احساس ذمہ داری بیدار کرتا ہے۔ان کو سکھاتا ہے کہ وہ کل اور آج کا موازنہ کرکے اپنے لیے بہترین کر سکیں۔بچے سے جب یہ سوال پوچھیں گے تو ممکن وہ یہ جواب دیں کہ میں ۔صبح سکول جاوں گا۔واپس۔آکر کھیلوں گا۔یہ چھوٹے چھوٹے جواب روٹین بھی ہوں تب بھی ضرور پوچھنے ہیں۔اب وہ بچہ یہ تو کہنے سے رہا کہ میں بزنس کروں گا۔چھوٹے چھوٹے آئیڈیاز ہی اسے بڑے بڑے آئیڈیاز کی طرف لے جائیں گے۔

“آپ میرے لیے بہت اہم ہو؟”

بطور ماں آپ بچے کے اندر یہ احساس بیدار کر کے انھیں بہت سی ذہنی الجھنوں اور مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں جو وہ بڑے ہو کر شکار ہو سکتے ہیں۔سائنس دان کا واقعہ آپ نے پڑھا ہوگا۔جسے بچپن میں نکما سمجھ کر نکال دیا گیا۔جب وہ سکول سے نکالے جانے کا لیٹر لے کر گھر آتا ہے تو اپنی ماں سے پوچھتا ہے اس میں کیا لکھا ہے تو وہ کہتی ہے۔کہ سکول والوں نے لکھا ہے کہ آپ کا بچہ اتنا ذہین ہے کہ ہمارے سکول میں اس کے لیے جگہ نہیں۔ماں کا یہ جواب تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔اس ایک جملے نے اسے وقت کا سائنس دان بنا دیا۔

“میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔”

یہ وہ احساس ہے جو دنیا کی قیمتی ترین متاع ہے۔محبت کرنا اور بات اس کا اظہار اور بات ہے۔محبت کا اظہار اور کیے جانے کا احساس دلانا ازحد ضروری ہے۔ہر ماں باپ بچوں سے محبت کرتے۔مگر زیادہ تر بچے بڑے ہو کر یہ شکایت کرتے نظر اتے ہیں اور اس کمی کو جائز ناجائز محبتو سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ اظہار محبت کا نا ہونا ہے۔

آپ کا آج کا سوال کیا ہے؟یعنی بچے کو پتہ ہونا چاہیے کہ میرے والدین مجھے وقت دیتے ہیں۔اس سے اسے اپنی اہمیت کا پتہ چلے گا۔جیسے رات کو عموما بچے پوچھتے ہیں ستارے جمکتے کیوں ہیں۔چاند کہاں سے آتا اور کیاں غائب ہو جاتا ہے۔چاند پہ پڑنے والے نشانات کے بارے میں بھی اکثر بچے نوٹس کرتے اور پوچھتے ہیں۔جس کو پرانج مائیں یہ کہتیں دکھائی دیتیں تھیں کہ چاند پہ ایک بڑھیا رہتی ہیں جو چرخہ کات رہی ہے۔وغیرہ

سوال پوچھنا آدھا علم ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ سوال پوچھنا ذہین لوگو ں کی نشانی ہے۔جب بھی بچے سوال پوچھیں انھیں کبھی مت ڈانٹیں۔ان کی حوصلہ افزائی کریں اور حقیقت پر مبنی جواب دیں۔بلکہ انھیں سوال پوچھنے پر اکسائیں۔یہ عادت ان کے اندر تجسس پیدا کرے گی اس کے ساتھ ساتھ انھیں پر اعتماد بھی بناۓ گی۔وی چیزوں کو جاننے کے بارے میں مزید حریص ہوں گے۔

“میں آپ کو سن رہی ہوں”

یہ احساس کہ آپ کو سنا جا رہا ہے آپ کو کوئی سن رہا ہے۔بہت تسلی بخش ہے۔آج کل ڈپریشن کی بڑی وجہ کوئی سننے والا نہیں رہا۔میان بیوی کی لڑائی کی اہم وجہ میاں کا بیوی کو نا سننا ہے۔بچوں کو سنتے وقت پورے دھیان اور توجہ سے سنیں۔موبائل کا ستعمال مت کریں کہ ان کو احساس ہو

کہ ہمیں سنا جا رہا ہے۔

بچے کا کائنات ہوتے آج ان کو جتنا ان کی اہمیت کا احساس دلائیں گے کل اتنا ہی وہ خود کو بھی اور آپ کو بھی اہم جانیں گے۔بچوں کو ان کی اہمیت کا احساس کیسے دلائیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں