پاکستان کے خوبصورت علاقے تھاکوٹ میں “سی پیک” منصوبے کے دوران کی جانے والی کھدائی نے ایک حیران کن انکشاف کو جنم دیا ہے۔ زیر زمین سے ایک ایسا مجسمہ برآمد ہوا ہے جو نہ صرف مکمل حالت میں ہے بلکہ اس کے متعلق حیرت انگیز دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ بدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی عام مجسمہ نہیں بلکہ سویا ہوا انسان ہے، جو خود کو ایک خاص چلہ کشی کے عمل کے ذریعے سو سال کے لیے نیند میں ڈال چکا ہے — اور کسی بھی لمحے بیدار ہو سکتا ہے۔
یہ دعویٰ سادہ نہیں۔ اس مجسمے کے گرد لپٹی ہوئی کسی جانور کی کھال پر ایک قدیم زبان میں تحریر بھی موجود تھی۔ پاکستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے فوری طور پر چین سے ماہرین کا ایک وفد طلب کیا تاکہ تحریر کا ترجمہ ہو سکے۔ چینی ماہرین نے اس تحریر کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ یہ قدیم چینی بدھ مت تحریر ہے، جس میں ایک انسان کے روحانی تجربے اور صد سالہ نیند کے ذکر کے ساتھ خاص روحانی اصولوں کا بیان بھی موجود ہے۔
کیا یہ ممکن ہے؟
سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی کوئی انسان خود کو زندہ حالت میں صدیوں کے لیے سُلا سکتا ہے؟ سائنس دانوں کے لیے یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں۔ اگرچہ انسانی جسم کو “ہائبری نیشن” یعنی نیم مردہ حالت میں جان بوجھ کر لانا سائنسی طور پر زیرِ تحقیق عمل ہے، مگر صدیوں تک نیند میں رہنا آج بھی ناقابلِ یقین تصور سمجھا جاتا ہے۔
بدھ مت میں ایسے مراقبے اور روحانی عمل کا تصور پایا جاتا ہے، جس میں سالوں کی تنہائی اور خاموشی اختیار کر کے انسان نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی سطح پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔ تھاکوٹ میں برآمد ہونے والا یہ مجسمہ اسی عقیدے کی عملی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
تاریخ، عقیدہ یا کہانی؟
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ گندھارا تہذیب، بدھ مت کے آثار اور قدیم راہبوں کی موجودگی اس خطے کو روحانی اور تاریخی طور پر بے حد قیمتی بناتی ہے۔ تھاکوٹ میں برآمد ہونے والا یہ ممکنہ زندہ مجسمہ ہمیں ماضی کی ان تہوں کی یاد دلاتا ہے جو وقت کی گرد میں چھپ چکی ہیں۔
چینی ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ اگر واقعی سویا ہوا انسان ہے، تو یہ دنیا کا سب سے حیران کن سائنسی، روحانی اور تاریخی انکشاف ہو گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟