364

جشن آمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تحریر شئیر کریں

جشن آمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


بنت احمد کراچی


شور، شرابہ طوفان بدتمیزی ،ھنگامے،نعرہ بازی،یا اللہ میں کیا کروں کدھر جاؤں مجھے رونا آرھا ہے اپنے اعمال دیکھ کر میں چیخ چیخ کر رونا چاھتی ہوں کل حوض کوثر پر کس منہ سے سامنا کروں گی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا؟؟؟


میں نے اتنی زندگی اپنے نبی کے طریقے سے ہٹ کے گزار دی ۔بغیر نمازوں کے میرے آقا نے فرمایا تھا(مفہوم) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،،کیا خوش کیا آقا نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو؟؟؟؟


کبھی پردہ نہیں کیا بلکہ پردہ والیوں کا مذاق اڑایا اور جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ زہرا کیا فرما رہی ہیں “میرا جنازہ رات کے اندھیرے میں اٹھانا کہ میرے جنازے کو دیکھ کر کوئ یہ اندازہ نہ کر لے کہ فاطمہ۔موٹی تھی یا کمزور ،کیا اس بات پر خوشی مناؤں کہ خاتون جنت کے نقش قدم پر نہ چلی:

فداک ابی و امی،یارسول اللہ !


میرے بچے ہر کام سنت کے خلاف کرتے رہے ،پانی کھڑے ہو کر پی رہے،کھانے سے پہلے ھاتھ نہ دھونا،اور بہت سی باتیں مگر کبھی ماتھے پر بل نہیں آیا کیسے آتا سکھایا جو نہیں تھا ۔ہاں آگر مہمانوں کے سامنے کوئ بدتمیزی کرتے ۔تو بعد میں خوب کلاس ہوتی گلاس ۔ٹوٹنے پر ڈانٹ پڑتی سنت ٹوٹنے پر نہیں۔کیا اس بات پر خوش ہوں؟؟؟


میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:(مفہوم) میں گانا بجانا مٹانے کے لیے آیا ہوں: میرے گھر میں ہر وقت گانے میوزک اذانوں کا بھی پتہ نہیں چلتا کبھی آواز ابھی جاتی تو گانے کی آواز کم ہو جاتی بند نہیں،کیا۔اس نافرمانی پر خوشی ۔مناوں؟؟؟


حدیث کا مفہوم (غیبت زنا سے بھی شدید ہے) ھم یہ کام دھڑلے سے کرتے رہے ،مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے جھوٹا نہیں(مفہوم) ھم نے جھوٹ کو آرٹ بنا لیا فیشن بنا لیا،رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ۔جہنمی،(مفہوم) رشوت کو ھدیہ کا نام ۔دے دیا،سود کا سب سے کم درجہ ماں سے زنا کے برابر ،،(مفہوم) سودی کاروبار لین دین عام کہ اس کہ بغیر گزارہ نہیں ،


جو عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کریں ،اور مرد عورتوں کی،اسپر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت فرمائ،چاروں طرف کیا حال ہےاور مذید ستم”ٹرانس جینڈر”بھی اگیا،داڑھی صاف۔مونچھیں بڑھی ہوی، آقا نے فرمایا (مفہوم)داڑھی بڑھاؤ مونچھیں صاف کرو ,کس کی مانی،نعیتں میوزک کے ساتھ،مرد اور ساتھ، مخلوط تعلیم ،اللہ اور اس کے ۔رسول کی نافرمانیوں کی کوئ انتہا نہیں پھر بھی ھم بچے ہوئے ہیں اپنے نبی رحمت العالمین کی دعا کے صدقے چھوٹے چھوٹے جھٹکے لگتے ہیں کہ ھم سدھر جائیں توبہ کر لیں آخر کوئ حد تو ہو،
مگر ھم مذید پستی میں گرتے جارہے ہیں لیکن ۔کوئ مجھے بتاؤ میں کس بات پہ خوش ہو کر جشن مناؤں ان نافرمانیوں پر؟؟یا۔چیخ چیخ کر دھاڑیں مار کر آنسو بہاوں ،کوئ۔میری۔مدد کرو کچھ بتاؤ ؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں