حرف معتبر کالم: مادی عروج اور انسانی بے بسی 160

حرف معتبر کالم: مادی عروج اور انسانی بے بسی

تحریر شئیر کریں

حرف معتبر کالم: مادی عروج اور انسانی بے بسی

کائنات کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں ‘دوام’ صرف اس ذاتِ باری تعالیٰ کو ہے جس کے قبضے میں موت و حیات کا فلسفہ ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی جس مادی عروج کی تگ و دو میں صرف کر دیتا ہے، وہ دراصل ریت کے اس محل کی مانند ہے جو اجل کی ایک ہی لہر سے پیوندِ خاک ہو جاتا ہے۔ لتا منگیشکر کے منسوب آخری الفاظ محض ایک فنکارہ کی داستان نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ضمیر کا تازیانہ ہیں جو دنیا کی چکا چوند میں اپنی اصل حقیقت کو فراموش کر چکا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب وقت کا بلاوا آتا ہے تو انسان کو قرآن کا یہ فیصلہ یاد آتا ہے: “اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے” (سورۃ الحدید: 20)۔

انسان کتنا ہی بااختیار کیوں نہ ہو جائے، ایک سانس کی آمد و رفت کے لیے بھی وہ خالقِ کائنات کا محتاج ہے۔ وہ قیمتی لباس جو کل تک وقار کی علامت تھے، ہسپتال کے ایک بے رنگ گاؤن میں بدل جاتے ہیں اور وہ بینک بیلنس جو تحفظ کا احساس دلاتا تھا، بے بسی کے لمحات میں کاغذ کے ردی ٹکڑوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ یہ دراصل اللہ کی طرف سے ایک اشارہ ہے کہ تمھاری ‘حیا’ اور تمھاری ‘اخلاقیات’ ہی وہ اصل سرمایہ ہیں جو تمھارے ساتھ جائیں گے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مال اور شہرت محض ایک امتحان ہیں۔ قرآن حکیم میں واضح فرما دیا گیا: “تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں” (سورۃ التغابن: 15)۔ اصل کامیابی وہ نہیں جو فائیو سٹار ہوٹلوں سے ناپی جائے، بلکہ وہ ہے جو روح کے اطمینان اور اللہ کی رضا میں پوشیدہ ہو۔

آج کا لبرل اور جدیدیت زدہ طبقہ ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ مادی ترقی اور جسمانی نمائش ہی زندگی کا معراج ہے۔ مغربی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ انسان کو ایک ‘پروڈکٹ’ بنا کر پیش کرتے ہیں، جہاں صرف ظاہری ٹیپ ٹاپ اور برانڈز کی اہمیت ہے۔ لیکن جب بڑھاپا اور بیماری دستک دیتی ہے، تو یہی مادی فلسفہ اسے تنہائی اور مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاقی اقدار کے بجائے صرف سرمائے کو پوجا جائے، وہاں ہسپتال کے بستر پر پڑا انسان خود کو سب سے زیادہ غریب محسوس کرتا ہے، چاہے اس کے گیراج میں دنیا کی مہنگی ترین کاریں ہی کیوں نہ کھڑی ہوں۔ مادی تہذیب کا یہ دوغلا پن اس وقت بے نقاب ہوتا ہے جب فائیو سٹار ہوٹلوں کی رونقیں ہسپتال کی سفید دیواروں کے خوف میں بدل جاتی ہیں۔
اختتام
لتا کے یہ الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اے غافل انسان! ابھی وقت ہے کہ اپنی ترجیحات کو درست کر لے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ میت کے ساتھ اس کے گھر والے اور مال واپس آ جاتے ہیں، صرف اس کے اعمال ساتھ رہ جاتے ہیں۔ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے جہاں کی ہر آسائش عارضی اور ہر رشتہ فانی ہے۔ اصل سرمایہ وہ دعائیں ہیں جو تم نے سمیٹی ہوں گی، اور وہ نیکیاں ہیں جو قبر کے اندھیرے میں تمھارا ساتھ دیں گی۔ آئیے، اس سے پہلے کہ ہماری سانسوں کا تسلسل ٹوٹ جائے، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے تگ و دو کریں۔ کیونکہ جب موت کا ذائقہ چکھنا پڑے گا، تو نہ کوئی ہیئر ڈریسر کام آئے گا اور نہ کوئی طیارہ؛ وہاں صرف وہ سجدے کام آئیں گے جو ہم نے عاجزی کے ساتھ اپنے خالق کے حضور کیے ہوں گے۔
حرف معتبر کالم: مادی عروج اور انسانی بے بسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں