344

رویوں کی جنگ اور ان کا حل

تحریر شئیر کریں

رویوں کی جنگ اور ان کا حل

گفتگو/ کمیونیکیشن کرنا اس طرح کے مسائل کا حل ہے۔ آپ کو کس طرح بہتر طریقے سے اپنی بات کسی کو سمجھانے ہے۔ کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یعنی اپنا مدعا بھی بیان کر دیا جائے اور دل آزاری بھی نہ ہو۔
ہم خواتین سمجھتے ہیں کہ ہم جو غلط سلط باتیں برداشت کر رہے ہیں ( جس کا کوئی دین و دنیا ) کا فایدہ نہیں۔ اس کا ہمیں اجر ملے گا اور ایک دن یہ مسئلے حل ہو جائیں گے اس پھل کی صورت میں ۔
کسی صورتحال میں تو صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں جیسا کہ کوئی بزرگ (سسرالی خاص کر کے) ہیں اور معذور ہیں انکی خدمت کرنا۔۔۔ انکی کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنا۔ سب کچھ کر کے بھی انکا اور انکے گھر والوں کا ناشکری کا رویہ ہونا (اللہ اپنا رحم کرے بہت سے لوگ اس چیز کا شکار ہیں)
دوسری طرف ایک ناجائز/ناقابلِ برداشت رویہ
کل ایک خاتون کی داستان سن کر میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے کہ ان کو اپنے گھر ایک ایسے بزرگ کی خدمت کا سامنا بھی کرنا پڑا جو کردار کے لحاظ سے ان کے لیے ایک آزمائش تھے۔ انکا خاوند بھی انکا دفاع کرنے سے قاصر تھا یہاں تک کہ انکو مار پیٹ کرنی پڑ گئی اسکی

یہ کیوں ہوتا تھا؟؟؟
کیوں میں ایسا رد عمل ظاہر کر جاتی جس میں انسان بعض اوقات خود سے نظریں نہ ملا پاتا۔ اس سٹریس میں مزید غلط کام ہوتے۔
کئی لوگ رد عمل ظاہر نہیں بھی کرتے ہوں گے۔ الفاظ سے۔۔۔۔ لیکن یقین کریں جب کوئی پھوڑا بن جاتا ہے وہ کہیں نہ کہیں اپنا آپ دکھا جاتا ہے۔
ہماری کسی ذہنی، جسمانی بیماری کی صورت میں اس نے ظاہر ہونا ہی ہوتاہے۔ یا اپنے بچوں پر فرسٹریشن کی صورت میں نکلتا ہے۔
ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں ۔
1- کمیونیکیشن
2- باؤنڈری سیٹنگ
۔
دونوں میں آپ کی سوچ سے زیادہ مستقل مزاجی چاہیے۔ شیطان نے اپکو چھوڑنا نہیں اور آپ نے اس کو لفٹ نہث کروانی۔
مثلاً ایک ہلکی پھلکی سی مثال

۔ آپ ایک بہت اچھی شیف ہیں۔ آپ کو کھانا کھلا کر خوشی بھی ملتی ہے۔ لوگ آپ کی اس خوبی سے واقف ہیں۔ آپ نے کسی مہمان داری میں 3 کھانے بنائے۔ (آپ کی انرجی، وقت اور ذہنی و جسمانی حالت نےاس بات کی اجازت دے دی تھی اس دن)
اب کسی اور روز آپکی انرجی کا وہ لیول نہیں تھا۔ کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔ آپ ایک ہی کھانا بنانا چاہتی ہیں لیکن آپ سے توقع/فرمائش کی جا رہی ہے کہ آپ اس دن جیسی چستی کا مظاہرہ کریں۔ اب کیا ہو گا؟؟
مروت کی ماری بندی جیسے تیسے کر لے گی لیکن اندر سے شدید کڑھن کا شکار ہو گی کہ اس بندے کو میرا احساس ہی نہیں؟ انسان خود دیکھ لیتا ہے۔۔۔
۔
لیکن بولیں گی نہیں ڈائریکٹ۔رویوں کی جنگ اور ان کا حل
کسی سے غیبت کر بیٹھیں گی۔
بیٹھ کر سوچین گی،، بغض پالیں گی۔
اور پھر کسی روز پھٹ پڑیں گی کہ فلاں روز ایسا ہوا تھا۔

پہلی بات تو یہ کہ آپ نے کمیونیکٹ کرنا تھا کہ آج میں اتنا نہیں بنا پاؤں گی۔ مختصراً اپنا مدعا بیان کریں ۔
ایسا ضروری نہیں کہ آپ کو سر آنکھوں پر بٹھا لیا جائے۔
آپ کو جواب میں بالکل ہی سننی پڑ سکتی ہیں ۔
مجبور کیا جا سکتا ہے۔
الفاظ کی گولہ باری ہو سکتی ہے۔
اپنے وقت کی مثالیں سننے کو مل سکتی ہیں کہ ہم نے فلاں وقت میں ایسا کیا تھا ۔

آپ ان ساری متوقع باتوں کو سوچ کر ہی اپنا مدعا بیان نہیں کرتے۔ کہ میری کونسا سنوائی ہونی ہے۔ ( جی میں سمجھتی ہوں،،، بعض اوقات حالات ایسے ہوتے ہیں کہ واقعی سوکھے سوکھے ہو کر بات مان کے ہی دینی ہوتی ہے)
۔
جو بھی ہو آپ نے اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہ کر کرنی ہے۔ پہنچانی ہے۔

دوسری صورت میں کیا ہو گا کہ وہ آپ سے پیار کی زبان سے اپنی بات منوا لیں گے کہ فلاں کو تو تمہاری ہاتھ کی بنی یہ چیز بہت پسند آئی تھی۔ آج بھی بنا ڈالو ۔ اب شیطان کہے گا “ہن آئی ناں قابو وچ
تو آپ کا دل موم ہو گا اور آپ جیسے تیسے بنا لیں گے۔
۔
جب سب ڈکار جائیں گے تو آپ کو وہی انساں ایسی اذیت ناک بات کہہ ڈالے گا کہ آپ کلس کر رہ جائیں گے۔ اور سوچیں گے کہ کیسے اس نے مجھ سے اپنا کام نکلوا لیا۔ اور نتیجہ وہی غیر مناسب رد عمل۔
۔
کرنا کیا ہے کہ آپ جتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں اتنا ہی اٹھائیں۔ جب ایکسٹرا فیور دے سکیں تو دے لیں لیکن اس میں بھی نیت کی درستگی ہونی چاہیے۔
نہیں اٹھا سکتے تو آرام سے اپنی بات سمجھائیں۔ ہر بار ضرورت پڑنے پر بتائیں۔


یہ سب سے زیادہ ضروری سسرالی رشتوں میں ہے۔ شروع سے یہ بات پریکٹس کریں۔ نہیں تو اب کر لیں۔
دوسرا ایک باؤنڈری سیٹ کر لیں۔ کہ میں کسی کی بات میں آ کر اپنا اصول نہیں خراب کروں گی۔
سب سے پہلے اپنے لیے کہ میں اللہ کی رضا کے لیے کر رہی ہوں۔ جس پوائنٹ پر وہاں لوگو۔ سے توقعات وابستہ ہونے کا خدشہ ہو وہاں اپنے قدم روک لیں ۔ تاکہ نا پسندیدہ ردعمل سے بچ سکیں۔
۔
آپ کی اتنی قربانیوں ( جو آپ کی نظر میں ہیں) اگر کوئی آپ کی قدر نہیں کر رہا۔ غیر منصفانہ سلوک ہو رہا ہے آپ کے ساتھ۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

یہ والی صورت حال ہے تو آپ کیوں خود کو تھکا رہے ہیں۔ جو کریں صدق دل سے کریں۔ بے حسی کا مظاہرہ نہ کریں۔ لیکن اپنی زندگی اور تخلیقی کاموں پر لگائیں۔


آپ اپنی قدر خود کروائیں گے اس طرح انشاء اللہ۔
اگر آپ کی نیت اچھی ہے۔ خوف خدا باقی ہے۔ ضمیر سے اپنا محاسبہ جاری ہے۔ تو اپنے آپ سے کسی کو ناجائز فایدہ نہ اٹھانے دیں۔ اگر آپ کو بار بار ایک ہی جیسے نا قدرت رویوں کا سامنا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کا نا قدرہ رویہ دراصل رب کی طرف سے ایک رئیلٹی چیک ہوتا ہے کہ او میرے بندے کس کو راضی کرنا تیرا اولین مقصد رہ گیا ہے؟

یا ایھا الانسان ما غرک بربک الکریم؟

رویوں کی جنگ اور ان کا حل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں