427

سرما نیکیوں کا موسم

تحریر شئیر کریں

“سرما، نیکیوں کا موسم”

حافظ محمد طاھر

”موسمِ سرما“ مومن کے لیے بڑی خیر وبرکت کا باعث ہے،اس کی خصوصیت یہ ہے کہ دن چھوٹے اور سرد ہوتے ہیں جن میں کسی مشقت و دشواری کے بڑی آسانی سے روزہ رکھا جاسکتا ہےاور راتیں چونکہ لمبی ہوتی ہیں اس لیےنیند پوری کرکے کچھ حصہ نوافل پڑھ سکتا ہے،رسولﷺ نے اس موسم کو مومن کے لیے بہار قرار دیا اور سلف صالحین بھی موسم میں روزے اور قیام کر کے اس کا خوب فائدہ اٹھاتے،ذیل میں اس بارے میں احادیث وآثار پیشِ خدمت ہیں:

⇚ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اَلشِّتَاءُ رَبِيعُ الْـمُؤْمِنِ قَصُرَ نَهَارُهُ فَصَامَهُ وَطَالَ لَيْلُهُ فَقَامَهُ.
”موسم سرما مومن کے لیے بہار ہے، اس کا دن چھوٹاہو جاتا ہےلہذا وہ روزہ رکھتا ہے اور رات لمبی ہو جاتی ہے تو وہ قیام کرتاہے۔“ (1)
2۔⇚ عامر بن مسعود تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اَلْغَنِيْمَةُ البَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ.
”موسم سرما کا روزہ ٹھنڈی غنیمت ہے۔“ (2)
⇚ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:
أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى الْغَنِيمَةِ الْبَارِدَةِ.


”کیا میں تمہیں ٹھنڈی غنیمت کے بارے نہ بتاؤں؟“
ہم نے کہا : اے ابوہریرہ وہ کیا ہے؟تو انہوں نے فرمایا:
اَلْصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ.
”سردی کے موسم میں روزہ رکھنا۔“ (3)
⇚ ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
اَلشِّتَاءُ غَنِيْمَةُ الْعَابِدِيْنَ.
”موسم سرما عبادت گزاروں کے لیے غنیمت ہے۔“ (4)
⇚عبید بن عمیر تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كَانَ يُقَالُ إذَا جَاءَ الشِّتَاءُ:يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ طَالَ اللَّيْلُ لِصَلَاتِكُمْ، وَقَصُرَ النَّهَارُ لِصِيَامِكُمْ، فَاغْتَنِمُوْا.


” (صحابہ کرام کے دور میں )جب سردی کا موسم آتا تو کہا جاتا : اے مسلمانو! رات تمہاری نمازِ تہجد کے لیے لمبی ہو گئی ہے اور دن تمہارے نفلی روزوں کے لیے چھوٹا ہوگیا ہےلہذا اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ (5)
⇚ امام قتادہ بن دعامہ تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إِنَّ الْـمَلَائِكَةَ تَفْرَحُ بِالشِّتَاءِ لِلْمُؤْمِنِ يَقْصُرُ النَّهَارُ فَيَصُومُهُ وَيَطُولُ اللَّيْلُ فَيَقُومُهُ.
” فرشتے مومن کے لیے ماہِ سرما کی آمد پر خوش ہوتے ہیں کہ اس کا دن چھوٹا ہوجاتا ہے وہ روزے رکھتا ہے اور اس کی رات لمبی ہوجاتی ہےتو وہ قیام کرتاہے۔“ (6)


حوالہ جات :
(1) فضل قیام اللیل و التہجد للآجری : 13 وسندہ حسن، مسند احمد : 11716.
(2) سنن الترمذی : 797، مسند احمد : 18959 سندہ ضعیف والحدیث صحیح.
(3) السنن الکبری للبیہقی : 4/ 489ح :8454 وسندہ صحیح، الزہد لاحمد : 986، حلیۃ الاولیاء : 1/ 381
(4) حلیۃ الاولیاء : 1/51 وسندہ صحیح ، مصنف ابن ابی شیبہ : 7/97 وسندہ صحیح.
(5) مصنف ابن ابی شیبہ: 7/ 163 ح : 34991 وسندہ صحیح، حلیۃ الالیاء: 3/ 267.
(6) الزہد لاحمد :1251وسندہ صحیح.

وما توفيقى إلا بالله.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں