
کالم نگار: ام بریرہ
یہ صرف ایک شہر کا سقوط نہیں تھا، یہ ایک سوچ، ایک اعتماد اور ایک وعدے کا ٹوٹ جانا تھا۔
16 دسمبر 1971ء… ایک ایسی تاریخ جو کیلنڈر پر تو خاموشی سے آتی ہے، مگر ضمیر پر دستک دے کر گزر جاتی ہے۔ ڈھاکہ گرا نہیں تھا، ڈھاکہ کو گرایا گیا تھا—غفلت، ناانصافی اور اقتدار کے نشے نے مل کر۔
پاکستان جب بنا تو وہ دو بازوؤں پر کھڑا تھا: مشرقی اور مغربی۔ درمیان میں ہزار میل کا فاصلہ، مگر دلوں میں ایک ایمان، ایک خواب۔ مسئلہ فاصلہ نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے مشرقی بازو کو صرف نقشے پر پاکستان سمجھا، دل میں نہیں۔
کیوں گرا ڈھاکہ؟
وجوہات کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئیں، یہ برسوں کی جمع شدہ کوتاہیاں تھیں۔
اوّل: سیاسی ناانصافی
1970ء کے عام انتخابات میں عوامی لیگ واضح اکثریت سے جیتی۔ جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار منتقل ہونا چاہیے تھا، مگر اقتدار کی ہوس نے آئینی راستہ روک دیا۔ جب ووٹ کی حرمت پامال ہو تو ریاستیں کمزور ہو جاتی ہیں—یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے۔
دوم: معاشی محرومی
مشرقی پاکستان زرمبادلہ کماتا تھا، مگر ترقی مغربی پاکستان میں نظر آتی تھی۔ احساسِ محرومی کوئی نعرہ نہیں، یہ وہ آگ ہے جو خاموشی سے اندر ہی اندر سب کچھ جلا دیتی ہے۔
سوم: لسانی اور ثقافتی بے حسی
بنگالی زبان اور شناخت کو کمتر سمجھا گیا۔ حالانکہ زبان صرف الفاظ نہیں ہوتی، یہ عزتِ نفس ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنے شہری کی شناخت کو تسلیم نہ کرے تو وفاداریاں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
چہارم: طاقت کا غلط استعمال
سیاسی مسئلے کا حل طاقت میں تلاش کیا گیا۔ مارچ 1971ء کے واقعات نے خلیج کو پاٹنے کے بجائے گہرا کر دیا۔ یاد رکھنا چاہیے: بندوق خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، اتفاق نہیں۔
کیسے گرا ڈھاکہ؟
جب اندر سے دیواریں کھوکھلی ہو جائیں تو بیرونی دھکا کافی ہوتا ہے۔ بھارت نے اس داخلی کمزوری سے فائدہ اٹھایا، مداخلت ہوئی، جنگ لڑی گئی، اور بالآخر 16 دسمبر کو ہتھیار ڈالے گئے۔ یہ عسکری شکست سے زیادہ اخلاقی اور سیاسی شکست تھی۔
سبق کیا ہے؟
ریاستیں توپوں سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔
اکثریت کے مینڈیٹ کو ماننا، وسائل کی منصفانہ تقسیم، ثقافتی احترام اور آئینی راستہ—یہی وہ ستون ہیں جن پر قومیں کھڑی رہتی ہیں۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
“اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ” — بے شک اللہ عدل کا حکم دیتا ہے۔
جب عدل رخصت ہو جائے تو انجام صرف سقوط ہوتا ہے—چاہے وہ ڈھاکہ ہو یا دلوں کے اندر بسے ہوئے چھوٹے چھوٹے وطن۔
سقوطِ ڈھاکہ ماضی کا نوحہ نہیں، حال کا آئینہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا کھویا، سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا سیکھا؟
کیونکہ تاریخ خود کو دہراتی نہیں، مگر غفلت کو ضرور دہرا دیتی ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کیوں اور کیسے؟
