
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026 سے جلد رخصتی نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس دوران قومی سلیکٹر عاقب جاوید (Aqib Javed) کے حالیہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس وقت گوگل اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔
عاقب جاوید کے بیان نے نئی بحث کیوں چھیڑی؟
ورلڈ کپ کے اہم مرحلے پر شکست کے بعد شائقین کو ایک جاندار تبدیلی کی امید تھی، مگر عاقب جاوید کی پریس کانفرنس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ ان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
شکست کو معمولی قرار دینا: عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ نیٹ رن ریٹ پر باہر ہونا “کرکٹ کی تباہی” نہیں ہے۔
بھارت سے شکست کا دفاع: انہوں نے 8-0 کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک روایت کے طور پر پیش کیا، جسے مداحوں نے “شکست خوردہ ذہنیت” قرار دیا۔
کھلاڑیوں کی فٹنس کا مسئلہ: بابر اعظم اور فخر زمان کی انجری سے متعلق ان کے انکشاف نے پی سی بی کے میڈیکل پینل اور سلیکشن کے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
نتیجہ
پاکستان کرکٹ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ عاقب جاوید جیسے تجربہ کار کرکٹر سے قوم کو بہتر حکمتِ عملی کی امید تھی، مگر حالیہ بیانات نے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اب گیند پی سی بی کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان بیانات پر کیا ایکشن لیتی ہے۔