فوبیا کیا ہے؟ ہمارے معاشرے میں پاۓ جانے والے مختلف فوبیاز ( خوف )
تحریر : لبنٰی جمشید
فوبیا کی تعریف
فوبیا معاشرے میں پائی جانے والی خوف یا گبھراہٹ کی مستقل کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اپنی لپیٹ میں لے کر فعال سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ مختلف کاموں کی انجام دہی ایک خوف کی ایسی خلیج حائل ہو جاتی ہے, جس کو شعوری طور پر پاٹنے کی خواہش کے باوجود اس کی جانب مقناطیسیت کھنجاؤ محسوس ہوتا ہے۔ خوف کی اس کیفیت کے پیچھے ایک مکمل کیس ہسٹری موجود ہوتی ہے جس کے مطالعہ سے اس کی وجوہات و اسباب کا جائزہ لیا جاتا ہے اور علاج کیطرف پیش قدمی ہوتی ہے۔
خوف کی علامات
رونگٹے کھڑے ہونا خوف کی سب سے معمولی علامت ہے ۔ اس سے آگے کا درجہ پسینہ آنا اور گھبراہٹ طاری ہونا ہے۔ رفتہ رفتہ انسان پر ڈیپریشن اور انگزائیٹی طاری ہوتی ہے اور عام نارمل حالات میں بھی وہ فرسٹریٹڈ رہتا ہے۔ خوف کی شدید علامات میں متلی, جسمانی تشنج اور بے ہوش ہونا شل ہیں۔
فوبیا کی اقسام
فوبیا کی تقریباََ دس ہزار سے زیادہ اقسام دریافت ہو چکیں ہیں اور ماہرین مزید ریسرچ پر مصروف عمل ہیں۔ ہم یہاں فوبیا یا خوف کی سب سے کامن اقسام کے بارے میں جانیں گے۔
مائیکرو فوبیا
خوف کی یہ سب سے کامن قسم ہے اور میں مریض کو صفائی و ستھرائی کا خبط لاحق ہوتا ہے۔ وہ تین سے زائد دفعہ صفائی کرنے کے باوجود گھر کو گندا محسوس کرتا ہے۔
یاتھو فوبیا
اس فوبیا میں مبتلا انسان کو بیماریوں میں مبتلا ہو جانے کا خوف ہر وقت پریشان کرتا رہتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کبھی بھی کوئی موزی مرض لاحق ہو جاۓ گا۔
سوشل فوبیا
سوشل فوبیا میں مبتلا افراد بے حد شرمیلے اور تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ انہیں مختلف لوگوں میں میل جول سے خوف آتا ہے۔
ایکرو فوبیا
اونچائی یا بلندی کے خوف میں مبتلا ہونے کو ایکرو فوبیا کہا جاتا ہے۔ اس میں سیڑھیاں چڑھنا , اونچائی سے نیچے دیکھنے میں گھبراہٹ کا سامنا ہوتا ہے۔
کلسٹرو فوبیا
اس میں مبتلا افراد تنک جگہوں سے گزرنے سے گریز کرتے ہیں ان کے خیال میں وہ چھوٹی اور تنگ جگہ میں پھنس جائیں گے۔ دنیا کی آبادی کا 7 فیصد طبقہ اس سے متاثر ہے۔
زو فوبیا
جانوروں کے ڈر کو زو فوبیا کا نام دیا گیا ہے۔انسان کو یہ خوف رہتاہے کو کبھی بھی چیڑ پھاڑ کر اسے کھا لیں گے۔
ٹرانو فوبیا
اسی طرح پرندوں سے خوف کا نام ٹرانو فوبیا ہے۔ پرندے کو دیکھتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور انسان حتی المکان ایسی جگہوں سے گریز کرتا ہے جہاں پر پرندوں کا سامنا ہونے کا خدشہ ہو۔
ٹرسکائیڈ فوبیا
مختلف توہمات میں مبتلا ہونے کو ٹرسکائیڈ فوبیا کا نام دیا گیا ہے جسے کسی کسی خاص نمبر, نام ,الفابیٹ, منگل کا دن کو منحوس سمجھنا۔ اس کے علاوہ بلی کے رستہ کاٹے جانے کو منحوس سمجھنا شامل ہے۔
نیکٹو فوبیا
اندھیرے کے خوف کو نیکٹو فوبیا کا نام دیا گیا ہے۔ مریض رات کو بھی ٹیوب لائیٹ آن کر کے سونے کا عادی ہوتا ہے۔
ایماتھو فوبیا
گرد و غبار میں لپٹے جانے کے ڈر کو ایمارتھو فوبیا کہتے ہیں۔ اس میں بھی مریض کو صاف ستھری جگہیں ہی اپیل کرتیں ہیں۔
اسلامو فوبیا
جدید تحقیق سے غیر مسلموں خاص طور پر امریکیوں میں مسلمانوں کی تعلیمات اور ان کے کلچر کو لے کر ایک ڈر پایا جاتا ہے جسے اسلامو فوبیا کا نام دیا گیا ہے۔
اسٹراپوفوبیا
آسمانی بجلی سے ڈرنا اور بادلوں کے گرجنے کی آواز کے خوف سے سہم کر ہیجانی کیفیات میں مبتلا ہو جانے کو اسٹڑاپو فوبیا کہا جاتا ہے۔
پاٹرو فوبیا
آگ , اس کے شعلوں اور حرارت سے خوف کھانے کو پاٹرو فوبیا کہتے ہیں۔ اس میں مریض کھانا پکانے سے بھی بعض اوقات قاصر ہو جاتا ہے۔
ایمٹو فوبیا
اس میں مریض سمجھتا ہے کہ وہ کبھی بھی قے کر دے گا۔ اس کو کھانے پینے کے معاملات میں محتاط رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے باوجود اس کے یہ خوف اس کے دماغ سے نہیں نکل پاتا۔ بعض صورتوں میں ڈپریشن اتنا بڑھ جاتا ہے کہ واقعی متلی ہو جاتی ہے اور وہ شرمندگی محسوس کرتا ہے۔
گرونٹو فوبیا
بوڑھے ہونے کے خوف کو گرونٹو فوبیا کہتے ہیں۔۔ اکثر اوقات مریض جوانی کے خبط میں مبتلا ہو کر مختلف کریموں, ادویات, پلاسٹک سرجری اور باٹکس کا استعمال کرتا ہے تا کہ جوان نظر آۓ۔ ایک ہلکی سی جھری بھی اس کی اینگزائیٹی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
یہ چند عام فوبیاز تھے جن کے بارے میں ہم نے مختصراََ جانا ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کسی نہ کس فوبیا کا شکار ضرور ہوتا ہے چاہے اس کی شدت کم ہو یا پھر شدید ترین۔