Parah # 7
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi
قرآن کے ساتویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے۔
_ اہم نكات پاره#7_
- موضوعات:*
1- حق شناس ، حرام و حلال كى حدود
2- توحيد كى گواہی اور اس کے دلائل
3- دعوت حق كا انكار کرنے والوں كا رویہ اور ان كا انجام
4- حق و باطل میں جدائى كا اعلان
5- الله ہى تو ہے ، اور كتاب بركت والى ہے
📖 اس پارے کے آغاز میں عیسائیت کے منصف مزاج اور معتدل طبقہ کی تعریف کی گئی ہے۔
واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ قریش مکہ کے مظالم سے تنگ آکر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اجازت سے مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کرکے عیسائیوں کے ملک حبشہ چلی گئی۔
_ مشرکین نے ان کا تعاقب کیا اور غلط بیانی کے ساتھ نجاشی شاہ حبشہ کو مسلمانوں سے بدظن کرنے کی کوشش کی۔ نجاشی نے انہیں طلب کر کے سوالات کئے۔_
- مسلمانوں کے نمائندہ جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرآن کریم کی سورہ مریم پڑھ کر سنائی۔ نجاشی اور اس کے ساتھیوں پر قرآن کریم سن کر رقت طاری ہوگئی۔*
_ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے ڈبڈبانے لگیں اور کلام الٰہی سے متأثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو سرکاری مہمان کے طور پر اپنے ملک میں ٹھہرانے کا اعلان کر دیا۔_ - مقصد زندگى:*
1- نیک لوگوں كى جماعت میں شامل ہونا
2- حلال و حرام كى پابندى ، الله كا تقوى اختيار كرنا
3- الله تعالى كى بندگى كرنا ، كائنات پر غوروفكر كرنا
4- وحى كى پيروى كرنا ، الله تعالى كى رضا چاہنا
5- علم حاصل كرنا اور الله كى قدر پہچاننے كا حق ادا كرنا
- غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں بحر و بر کی ہر چیز کا علم اسی کے پاس ہے۔ درختوں سے گرنے والا ایک پتہ یا زمین میں کوئی دانہ اور کوئی بھی خشک و تر اس کے علم سے خارج نہیں ہے۔*
- قرآنی تعلیمات کے خلاف آباء و اجداد کی ناجائز تقلید سے منع کیا گیا ہے۔*
_
فساد زدہ معاشرہ میں
تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہ ہونے کے باوجود اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہے تو گمراہ اور نافرمانوں کے غلط اثرات سے محفوظ رہوگے۔_
ہم كيا کریں؟*
1- الله تعالى كى نظروں میں بہترین بننے کے لئے اس کے بہترین كلام كو اپنى زندگى میں شامل كرنا ہے
2- دوسروں کے حقوق كى ادائیگی امانت سمجھ كر كرنى ہے
3- خالص الله كى رضا کے لئے صدقہ كر کے اپنى نيكيوں میں بہترين اضافہ کرنے كى كوشش كرنى ہے( ان شاء اللہ)
- توجہ سے الله تعالی کا کلام سننا اتنا اثر انگیز ہے کہ آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں اور دل حق کو پہچان کر عمل پر آمادہ ھو جاتا ہے۔*
_ دین سیکھنے کے لئے ضروری سوال کرنے میں ھی بھلائی ہے۔ غیر ضروری سوال کر کے مشکل پیدا نہیں کرنی۔_ - قیامت کے دن سچوں کو ان کی سچائی کے بدلے جنت، اللہ تعالی کی رضامندی اور بڑی کامیابی ملے گی۔*
_ اللہ تعالی ہر حال اور عمل سے واقف ہے اس لئے چھپ کر بھی غلط کام نہیں کرنے ہیں_
_ رب کے قریب مگر دنیاوی لحاظ سے کم حیثیت لوگوں کو خود سے دور نہیں کرنا کیونکہ ایمان کی وجہ وہ سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔_
_ اللہ تعالی اپنے بندوں پر غالب ہے۔ جب چاہے فرشتہ بھیج کر روح قبض کر سکتا ہے۔_ - اللہ تعالی کی خاطر ابراھیم ؑ نے اپنا سارا خاندان چھوڑ دیا تو اللہ تعالی نے نسل انبیاء اور صالحین پیدا کر کے بہترین جزا دی۔*
قرآن کے ساتویں پارے کے اہم نکات آپ نے پڑھ لیے ہیں۔ان پہ تدبر کیجیے اور انھیں اپنے عمل میں لائیے۔کیونکہ علم تو وہی ہے جو عمل میں ہے باقی سب باتیں ہیں۔