مشت خاک ڈرامہ دیکھنے کی تین وجوہات
اے مشت خاک اچھائی اور برائی کے درمیان دیرینہ لڑائی کی ایک دلچسپ کہانی بیان کرتی ہے۔ جیسا کہ زندگی کی طرف متضاد نقطہ نظر کے ساتھ دو بالکل مختلف افراد اکٹھے ہوتے ہیں اور راستی کا راستہ غلط کاموں پر غالب آتا ہے۔ مستجاب ایک دلکش نوجوان ہے جو زندگی کی طرف عقلی نقطہ نظر رکھتا ہے اور منصوبہ بندی پر یقین رکھتا ہے۔ اس کا تقدیر پر یقین کی کمی اور اس کا جانے والا رویہ اسے اپنے آس پاس کے لوگوں سے ممتاز بناتا ہے۔ دوسری طرف، دعا ایک نرم دل لڑکی ہے جسے تقدیر اور تقدیر پر پختہ یقین ہے۔ اس کی مضبوط اقدار اور اخلاق اسے اپنی زندگی کے فیصلوں میں پراعتماد اور ثابت قدم بناتے ہیں۔
مستجاب اور دعا کی زندگی میں چیزیں حیران کن موڑ لیتی ہیں جب مستجاب کو دعا سے پیار ہو جاتا ہے تاہم دعا انہی جذبات کا بدلہ لینے سے انکار کرتی ہے۔ مستجاب جو انکار کا عادی نہیں وہ مشتعل ہو جاتا ہے اور دعا کی طرف اس کی پسندیدگی جلد ہی جنون میں بدل جاتی ہے۔ مستجاب محبت اور ضد میں فرق کرنا بھول جاتا ہے جبکہ جھوٹ اور فریب کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مستجاب کے جنونی رویے کے باوجود، کیا دعا کو کبھی مستجاب کی حقیقت اور اس کے جھوٹ کے جال کا بالآخر پتہ چل جاتا ہے مستجاب دعا کی مضبوط شخصیت اور اللہ پر اس کے پختہ یقین کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے جس کا نتیجہ دونوں کی طلاق ہہ ہوتا ہے مستجاب کی۔دہریت ہار جاتا ہے اور دعا کا ایمان جیت جاتا ہے دعا نے اہنے طور ہر اس کو بدلنے کی بہت کوشش کی مگر جن کے دل اندھے ہوجائیں ان کو۔کچھ سجھائی نہیں۔دیتا۔ تفصیل کافی دلچسپ ہے،اینڈ دکھائء دے رہا ہے جو کہ ایک عمدہ کہانی کا غماض ہے
مشت خاک دیکھنے کی تین وجوہات
یہ تین وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ڈرامہ دیکھنا چاہیے
اہم جوڑی ثنا جاوید اور فیروز خان فیروز خان اور ثنا جاوید اس سے قبل بھی کئی بار ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ خانی، ہیر اور رومیو، ڈینو کی دلہنیا ان میں سے کچھ ہیں۔ میں نے انہیں ٹیلی فلم ڈینو کی دلہنیا میں دیکھا ہے۔ انکی جوڑی ایک ساتھ اچھے لگ رہی ہے اور اسکرین پر کیمسٹری قابل رشک ہے۔
یہ ڈرامہ دیکھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈائریکٹر احسان طالش جن کا کام سنو چندا اور سنو چندا 2، پیار کہانی اور یہ دل میرا میں دیکھا جا۔چکا ہے۔ احسان طالش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مخلص آدمی ہے جو ہر کام میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انہیں اس سنجیدہ اور حساس ڈرامے کو ڈائریکٹ کرتے دیکھنا کسی دلچسپ سے خالی نہیں ہوگا۔
مصنفہ ماہا ملک اردو فکشن کے قارئین میں ایک مشہور نام ہیں۔ اگرچہ ضروری نہیں کہ آپ اس کی کہانیوں سے لطف اندوز ہوں مگر وہ ایک بہترین کہانی سنانے والی ہیں۔ایسی کہانی جو ڈرامہ انڈسٹری کو ایک نیا موضوع فراہم کرے گا خدا اور محبت جیسے وسیع موضوع کے بعد اب دہریت اور خدا کو موضوع بنایا گیا ہے۔دہریت یعنی خدا کا انکار وہ موضوع ہے جو بدقسمتی سے نوجوان نسل میں سرایت کرتا جا رہا ہے وہ نوجوان جو اعلی تعلیم کے لیے مغرب جاتے ہیں وہاں کی ترقی انھیں اس قدر بھاتی ہے کہ وہ اپنی بنیادوں سے منحرف ہو جاتے ہیں جن میں سرفہرست اللہ کی ذات ہے۔ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جن کا خدا ہر اعتقاد رسمی ہوتا ہے وہ رنگ جو پکے نہیں ہوتے ان کو اترتے دیر نہیں لگتی یہی مستجاب کے کردار میں دکھائی دیتا ہے
رہی بات دعا کے کردار کی تو مضبوط یقین رکھنے والی ایک مذہبی اور خود کو سنبھال کر زمانے کے رسم و رواج کو تیاگ دینے کا عزم لیے آخرت کی۔مسافر ہے
دعا کا بھائی داعی بھی ایک۔معتدل مائنڈ رکھنے والا ایک گہرا انسان ہے جس کی اپنی بہن سے محبت مثالی ہے
دعا کے والدین بھی روایتی والدین سے ہٹ کر مذہبی اقدار اور بیٹی کی ہسند با پسند ہر پختہ یقین رکھتے ہیں
امام صاحب کا کردار ایک اور غیر روایتی تبدیلی ہے عموما ڈراموں فلموں میں مزار۔دکھائی جاتے ہیں اور اس کے ساتھ قوالی کے نام پہ رقص و سجود کا غیر اسلامی تصور۔۔جبکہ مشت خاک میں ایک پی ایچ ڈی سکالر کو امام۔مسجد دکھانا اور مسجد جو کہ اللہ کا گھر ہے اسے روحانی مرکز یقینا ایک مثبت تبدیلی ہے۔
مشت خاک ڈرامہ دیکھنے کی تین وجوہات