285

مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں

تحریر شئیر کریں

قِسط وار کہانی

مِری ذات ذرّہِ بے نِشاں

از قلم ساجدہ بتول

قسط 6

اب وہ پانچوں اسے کوس رہے تھے ۔ اچانک اُن میں سے ایک عورت آگے بڑھی اور اُسے بالوں سے جکڑ کر سیدھی کرنے کے بعد اُس کے چہرے پہ پے در پے تھپڑ مارنے لگی ۔
”ہُوا کیا ہے ؟“ مردُود نے اُسی عورت سے پوچھا ۔
”یہ لڑکی آج سے بِیس دن قبل میری بہُو بن کر اس گھر میں آٸی ۔ میرے بیٹے نے اِس کو ہتھیلی کا چھالا بنا کے رکھا ہوا تھا ۔ مُجھ سے برداشت نہ ہوتا ۔ آخِر آج جب یہ کچن میں کام کر رہی تھی ، میں نے اِس کے کمرے میں جا کر چُپکے سے اپنے سونے کے زیورات اس کے پرس میں ڈال دیے ۔ اور پھر کچھ دیر ”زیور نہیں مل رہے“ کی گردان کرتی رہی ۔ جیسے ہی میرا بیٹا گھر میں داخل ہوا ، میں نے اُسے بھی یہی بات بتاٸی اور پھر فورًا اس کے کمرے میں جا کر اس کے سامنے ہی اِس لڑکی کا پرس کھولا ۔ میرے شوہر بھی یہ دیکھ رہے تھے ۔ بس پھر آنا فانا سارا گھرانہ اس کے خلاف ہو گیا ۔“ اُس عورت نے دل میں ہی جواب دیا ۔
”اب طلاق دِلواٶ گی کیا!“ مردُود کی آنکھوں میں چمک آ گٸی ۔
”نہیں نہیں ۔“ وہ عورت یکدم سہم گٸی ۔ ”پہلے ہی بہت مشکل سے مِلی ہے ۔ میرا بیٹا نشٸی ہے ۔ بس اِس لڑکی کو بدنام کرنا تھا جو کر لِیا ۔ اب یہ سب مُدّتوں اس کے خلاف رہیں گے ۔ “

”مگر اِس ڈرامے کو کُچھ تو آگے بڑھاٶ!“
مردُود نے اُنگلی لگاٸی ۔
”بڑھانا تو چاہیے مگر ڈر بھی لگتا ہے ۔ “
”اچھا! مگر اِس کو کُچھ اور مار لگواٶ۔ “ وہ بھی مردُود تھا ۔ فسادی ساسوں کا پورا حامی ۔
اتنا سُنتے ہی عورت آگے بڑھی اور دو لاتیں لڑکی کے پیٹ میں رسید کیں ۔ پھر ایک مُکّہ تان کے اُس کی ناک پہ مارا ، جِس سے خون جاری ہو گیا اور لڑکی بے ہوش ہو کر گر گٸی ۔
”اوہو! یہ کیا ہُوا!“ سامنے کھڑے لوگوں میں موجُود ایک لڑکی نے کہا ۔
وہ عورت بھی گھبرا گٸی ”پپ پانی لاٶ فورًا ۔ کہیں اِس کے ماں باپ نہ آ جاٸیں ۔“
”امّاں آپ نے بھی حد کر دی ۔ اب اُس کے ماں باپ مقابلے پہ آ گٸے تو ہم کیا کریں گے!“
وہ لڑکی شاید اُس کی بیٹی تھی ۔
”ہاں ہاں اب ماں کو اِلزام دو ۔ اپنے بھاٸی کو کُچھ مت کہنا جِس نے اسے سر چڑھا رکھا تھا ۔ “ وہ عورت بولی
”تُم عورتیں خود فساد مچاتی ہو اور جب آگ لگ جاٸے تو اُس میں مردوں کو جھونک دیتی ہو ۔ “ دُوسرے مرد نے کہا جو یقینًا اِس گھر کا سربراہ تھا ۔
”ناں! اگر آپ لوگ اِنصاف کریں تو ہمیں کیا پڑی ہے کُچھ سخت کہنے کرنے کی!“ عورت نے ہاتھ نچاٸے ۔
مردُود نے خُوشی کے مارے دھمال ڈالنا شُروع کر دی ۔ آگ بڑھتی ہی جا ر ہی تھی ۔
اُدھر دُوسرا مرد جو یقینًا مار کھانے والی لڑکی کا شوہر تھا ، بھاگ کر گلاس میں پانی لایا ۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے چھینٹے بے ہوش لڑکی کے منہ پہ مارتا ، بیرونی دروازہ جو پہلے سے کھلا تھا ، ایک دھاڑ سے اُس کے دونوں پٹ وا ہُوٸے اور ایک عورت اندر داخِل ہوٸی ۔
اُن سب نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔ یکدم وہ سب بوکھلا گٸے تھے ۔
”تُم نے میری بیٹی کو مارا!“ وہ عورت گرجی ۔

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں