1771956832173 99

نادرا نے برتھ سرٹیفیکیٹ کی شرط ختم کر دی

تحریر شئیر کریں
1771956832173
1771956832173

NADRA New Policy 2026: Get CNIC Without Birth Certificate | Step-by-Step Guide
پاکستان میں پہلی بار شناختی کارڈ کے حصول کے لیے کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ نادرا (NADRA) نے ان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی رعایت کا اعلان کیا ہے جو برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا قومی شناختی کارڈ نہیں بنوا پاتے تھے۔
اس بلاگ میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ نادرا کی اس نئی پالیسی سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے۔

نادرا کی نئی پالیسی کیا ہے؟ (NADRA New Rules 2026)

نادرا کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کی 98.3 فیصد آبادی رجسٹرڈ ہے، تاہم 1.7 فیصد لوگ (جن میں اکثریت خواتین کی ہے) ابھی تک شناختی کارڈ سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یونین کونسل سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ کا نہ ہونا تھا۔
اہم اعلان: نادرا نے 31 دسمبر 2026 تک ایک خصوصی سہولت دی ہے جس کے تحت پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والے اب بغیر برتھ سرٹیفکیٹ کے بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔

بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ کیسے بنوائیں؟ (Requirements)

اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے نادرا نے چند متبادل شرائط رکھی ہیں تاکہ سیکیورٹی پر سمجھوتہ نہ ہو:
1. شادی شدہ خواتین کے لیے:
* یونین کونسل کا جاری کردہ نکاح نامہ۔
* والدین میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ (CNIC/NICOP)۔
* شوہر کا شناختی کارڈ۔
* والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بایومیٹرک تصدیق لازمی ہے۔
2. غیر شادی شدہ خواتین کے لیے:
* والدین میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ۔
* والدین میں سے کسی ایک کی نادرا دفتر میں موجودگی اور بایومیٹرک تصدیق۔
3. 24 سال سے زائد عمر کے مرد حضرات کے لیے:
* والدین میں سے کسی ایک کا درست شناختی کارڈ۔
* کم از کم ایک بہن یا بھائی کا نادرا میں رجسٹرڈ ہونا اور ان کا شناختی کارڈ۔
* والدین میں سے کسی ایک کی بایومیٹرک تصدیق۔
> نوٹ: اگر والدین یا شوہر وفات پا چکے ہوں، تو نادرا کے ریکارڈ میں ان کا ڈیٹا موجود ہونے کی صورت میں نادرا افسر بایومیٹرک کی شرط سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔

اس پالیسی کے اہم فوائد

* فیس کی بچت: اگر آپ نارمل کیٹیگری میں Non-Smart CNIC کے لیے اپلائی کرتے ہیں، تو اس اسکیم کے تحت کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
* آسان رسائی: دیہی علاقوں کے وہ لوگ جن کے پاس پیدائشی ریکارڈ نہیں، وہ اب ملک کے معاشی دھارے میں شامل ہو سکیں گے۔
* مستقل ڈیٹا: یاد رہے کہ اس طریقے سے درج کی گئی تاریخِ پیدائش اور والدین کا نام بعد میں تبدیل نہیں ہو سکے گا، اس لیے ڈیٹا لکھواتے وقت احتیاط کریں۔
نتیجہ (Conclusion)
نادرا کا یہ قدم ان لوگوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے جو برسوں سے قانونی شناخت کے لیے پریشان تھے۔ اگر آپ یا آپ کے خاندان میں کوئی برتھ سرٹیفکیٹ کی وجہ سے شناختی کارڈ نہیں بنوا سکا، تو 31 دسمبر 2026 سے پہلے اپنے قریبی نادرا سینٹر سے رجوع کریں۔

*نادرا کی نئی پالیسی 2026: اب آپ بغیر کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ کے شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں۔ طریقہ کار اور شرائط جاننے کے لیے یہ مکمل گائیڈ پڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں