نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ آپ ﷺ کے اخلاق اتنے بلند تھے کہ دوست تو دوست، دشمن بھی آپ ﷺ کی سچائی اور امانت داری کی گواہی دیتے تھے۔
اگر آپ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کرنا چاہتے ہیں، تو نبی کریم ﷺ کی زندگی سے بڑھ کر کوئی نصاب نہیں ہے۔ آئیے آپ ﷺ کی زندگی کے چند ایسے ایمان افروز واقعات پڑھتے ہیں جو بچوں کی اخلاقی تربیت میں مددگار ثابت ہوں گے۔
1. بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت
ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ایک چھوٹا بچہ (حضرت عبداللہ بن عباسؓ) بیٹھا تھا اور بائیں جانب بڑے جلیل القدر صحابہ کرام تشریف فرما تھے۔
عرب کے ادب کے مطابق محفل میں دائیں طرف سے شروعات ہونی چاہیے تھی، لیکن بائیں طرف معزز بزرگ بیٹھے تھے۔ پیارے نبی ﷺ نے چھوٹے بچے کی دلجوئی اور اس کے حق کا خیال رکھتے ہوئے اس سے اجازت لی:
> “کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ دودھ پہلے ان بڑوں کو دے دوں؟”
>
بچے نے محبت بھرے انداز میں جواب دیا: “اے اللہ کے رسول! میں آپ کے جوٹھے کی برکت میں کسی کو خود پر ترجیح نہیں دے سکتا۔” آپ ﷺ نے مسکرا کر پہلے دودھ اس بچے کو ہی عطا فرمایا۔
سبق: یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑوں کا ادب اپنی جگہ، مگر چھوٹوں کے حقوق اور ان کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
2. پرندے کی موت پر بچے سے تعزیت اور ہمدردی
بچوں سے محبت نبی کریم ﷺ کا خاص شیوہ تھا۔ ایک چھوٹا بچہ تھا جس کا نام ابوعمیر تھا۔ اس نے ایک چھوٹا سا پرندہ (نغیر) پال رکھا تھا جس سے وہ بہت پیار کرتا تھا۔ ایک دن وہ پرندہ مر گیا اور بچہ بہت اداس ہو گیا۔
جب نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے بچے کو اداس دیکھ کر اسے گلے لگایا اور اس کے ساتھ مزاح فرمایا تاکہ وہ اپنا غم بھول جائے۔ آپ ﷺ نے شفقت سے پوچھا:
> “اے ابوعمیر! تمہارے نغیر (پرندے) کو کیا ہوا؟”
3. نبی کریم ﷺ کی سخاوت اور دریا دلی
نبی کریم ﷺ کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے۔ آپ ﷺ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اسے اتنی زیادہ بکریاں دیں کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان کا سارا حصہ بھر گیا۔
وہ شخص اپنے قبیلے میں واپس گیا اور پکار اٹھا:
> “لوگو! اسلام لے آؤ، محمد ﷺ اتنا زیادہ عطا کرتے ہیں کہ انہیں غربت کا ذرہ برابر ڈر نہیں رہتا۔”
4. دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک اور تبلیغِ اسلام
مکہ میں ایک عورت رہتی تھی جو آپ ﷺ سے سخت دشمنی رکھتی تھی۔ ایک دن وہ مکہ سے مدینہ جانے کے لیے اپنا بھاری سامان نہیں اٹھا پا رہی تھی۔ آپ ﷺ وہاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے اس کا سارا بوجھ خود اٹھایا اور اس کے گھر تک پہنچا دیا۔
راستے بھر وہ عورت آپ ﷺ کو (آپ کا نام لیے بغیر) جادوگر اور جھوٹا کہتی رہی۔ جب منزل پر پہنچ کر آپ ﷺ نے سامان رکھا، تو اس نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے پیسے تو نہیں، مگر ایک نصیحت ہے کہ اس محمد (ﷺ) کے قبضے میں نہ آنا۔”
آپ ﷺ مسکرائے اور نہایت نرمی سے فرمایا:
> “میں ہی وہ محمد ہوں جس کا تم ذکر کر رہی ہو۔”
وہ عورت آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق دیکھ کر فوراً ایمان لے آئی۔
5. خادم کے ساتھ نرمی: حضرت انسؓ کا بیان
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال تک اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کی۔ اس طویل عرصے میں آپ ﷺ نے کبھی مجھے ڈانٹا نہیں، کبھی “اف” تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ پوچھا کہ “تم نے یہ کام کیوں کیا؟” یا “یہ کام کیوں نہیں کیا؟” یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے ماتحتوں اور کام کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی کا برتاؤ کرنا چاہیے۔
6. عفو و درگزر اور معاف کر دینے کی صفت
فتح مکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق عفو و درگزر ہے۔ جب آپ ﷺ فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے، تو وہ تمام لوگ سامنے تھے جنہوں نے آپ ﷺ کو برسوں تکلیفیں دیں اور شہر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ آپ ﷺ چاہتے تو بدلہ لے سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے عظیم مثال قائم کرتے ہوئے فرمایا:
> “آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔”
خلاصہ اور پیغام
ہمارے پیارے نبی ﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچی کامیابی صرف مال و دولت میں نہیں، بلکہ اچھے اخلاق، دوسروں کی مدد اور اللہ کی رضا میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے:
* ہمیشہ سچ بولیں۔
* بڑوں کا ادب کریں اور چھوٹوں سے پیار کریں۔
* غریبوں اور ضرورت مندوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں۔
نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ