برف باری میں پلاسٹک کے زرات نمودار ہوگۓ۔ماسکو میں ہونے والی برف باری میں پلاسٹک کے زرات پاۓ گۓ۔ہولناک انکشاف ۔
تفصیلات کے مطابق روسی سائنسدانوں نے تحقیق کی ہے کہ سائبریا میں ہونے والی برف باری میں ایسے زرات پاۓ گۓ ہیں جو پلاسٹک کے ہیں۔یہ زرات ہوا میں موجود تھے برف باری میں شامل ہو گۓ۔۔ماہرین نے ماسکو کے مختلف ایریاز سے برف لے کر اس پہ تحقیق کی تو یہ حقیقت سامنے آئی یے جو کافی خطرناک ہے۔
پلاسٹک ایک ناسور بن چکا ہے۔اور یہ ناصرف پانیوں کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ اب فضا میں بھی موجود ہے۔یہ چھوٹے چھوٹے پلاسٹک کے زرات جسے مائیکرو پلاسٹک کہتے ہیں۔یہ پلاسٹک کی اشیاء بناتے ہوۓ پلاسٹک ٹوٹنے کے بعد وجود میں آتے ہیں اور ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ فلٹر میں سے بھی بآسانی گزر جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اور پلاسٹک کے حوالے سے خطرناک بات یہ کہ پلاسٹک مکمل طور پر تلف نہیں ہوتا۔یہی ہلاسٹک جب مٹی میں ملتا ہے تو اس سے ہوتا ہوا سبزیوں پھلوں میں شامل ہو کر ہمارے پیٹ میں جا کر کئ مسائل کا سبب بنتا ہےسممدری مخلوق تک اس سے محفوظ نہیں۔مچھلی کے پیٹ میں چلا جاتا ہے وہی مچھلی جب ہم کھاتے تو ہمارے پیٹ میں بھی جا کر مسائل ہیدا کرتا۔تاہم فضا میں اس کے زرات جو برف باری میں سامنے آۓ ہیں ۔ایسا پہلی بار ہوا ہے۔
جہاں تک پلاسٹک کے استعمال کی بات ہے۔شاپر سے لے کر پلاسٹک کے برتنوں اور دیگر اشیاء کی تیاری میں بڑے پیمانے پر پلاسٹک استعمال کیا جا رہا ہے۔جو کی انتہائی خطرناک ہے۔پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ وہ فیکٹریاں جو پلاسٹک کی اشیاء بناتی ہیں وہاں کی فضا کا سوچیے کیا عالم ہو گا۔یہی پلاسٹک کے برتن جب ان میں گرم کھانا ڈلتا ہے تو پگھل کر کھانے میں شامل ہو جاتا ہے۔اور بیماریاں پھیلاتا ہے۔ایک ریسرچ کے مطابق ہماری اردگرد اتنا پلاسٹک ہے کہ ہر انسان ہر ہفتے پانچ گرام پلاسٹک نگل جاتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔اور ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر ہے۔
پلاسٹک آلودگی کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔مگر سالانہ کے حساب سے اس کی پیداوار یے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔